میرا ایک روپیہ قیمتی ہے!
یہ ایک عام سی بات ہے کہ جب بھی ہم کسی دکان میں خریداری کے لیے جاتے ہیں تو ہمیں مختلف اشیاء کی قیمتوں کے ٹیگز۔ 99 میں ختم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ عموماً ساٹھ فیصد سے زیادہ اشیاء کی قیمتوں کا اختتام 9 نمبر پر ختم ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے مارکیٹنگ کی حکمت عملی ہے جو اس تھیوری پر مبنی ہے کہ کچھ قیمتوں کا صارف پر نفسیاتی اثر پڑتا ہے۔ اس کو پرائس اینڈنگ بھی کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے کوئی جوتا یا کپڑا خریدنے جائیں تو اس کی قیمت ایک ہزار روپے کی بجائے 999 کر دی جاتی ہے۔
یعنی کہ راونڈ کی بجائے ایک نمبر کم کر دیا جاتا ہے۔ لیکن کیا ہمارے ہاں دکاندار، برانڈز اور مختلف فوڈ چینز یہ بقیہ ایک روپیہ واپس بھی کرتی ہیں یا نہیں؟ کم از کم میرے ساتھ تو اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ مجھے میرا روپیہ واپس نہیں کیا جاتا۔ کیوں بھائی؟ میرا ایک روپیہ قیمتی ہے کیونکہ میں اس کو بھی اہم سمجھتی ہوں اس لیے برائے مہربانی میرا روپیہ مجھے واپس دیں۔
اب اس ایک روپیہ مانگنے کے نتیجے میں کبھی تو جواب ملتا ہے کہ کھلے پیسے نہیں ہیں۔ یا پھر ان کے بدلے میں ٹافیاں پکڑا دی جاتی ہیں۔ یعنی کہ حد ہے اور بے حد ہے۔ اصرار پر بعض اوقات دکاندار ایسی غصیلی نظروں سے دیکھتے ہیں جیسے ایک روپیہ ان کی ذاتی جیب سے جا رہا ہو۔ اسی دوران آس پاس کے صارف ایسی تمسخرانہ نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ جیسے کہ رہے ہوں، کیسے کیسے غریب لوگ بڑی بڑی دکانوں میں خریداری کے لیے آ جاتے جو ایک روپیہ واپس نہ ملنے پر بحث کر نا شروع ہو جاتے ہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ کیسا معاشرہ ہے جو عزت اور بے عزتی کے جھوٹے پیمانے سجا کر بیٹھا ہے اور جہاں لوگ سوچے سمجھے بنا بھیڑ چال کا شکار ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ یہ میری کہانی نہیں آپ میں سے بھی بہت سے لوگ یقیناً ایسا ہی سوچتے ہوں گے۔ کیا آپ بھی اپنا ایک روپیہ واپس مانگتے ہیں یا درگزر کر جاتے ہیں؟ اور اگر آپ درگزر کرتے ہیں تو کیا آپ کی سوچ یہ تو نہیں ہوتی کہ اچھا نہیں لگتا اب کیا ایک روپیہ مانگنا؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کی یہ ”اچھا نہیں لگتا“ کس نے ڈیفائن کیا ہے اور کیوں؟ اور کیا کبھی کسی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ تمام بچے ہوئے روپے کہاں جاتے ہیں اور ان کا مصرف کیا ہے؟
یہ ہماری مرضی ہونی چاہیے کہ اگر ہم اپنے پیسے چاہے وہ ایک روپیہ ہی کیوں نہ ہو، کسی کو دیں یا نہ دیں یا جو مرضی کریں۔ آپ میں سے بہت سے یہ بات سوچ رہے ہوں گے کہ ایک روپیہ ملنے سے کون سا انسان امیر ہو جائے گا یا کیا عیاشی کر سکتا ہے۔ یہاں بات اصول کی ہے۔ استحصال کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ جی ہاں یہ بھی افسوس ناک ہے کہ بحیثیت معاشرہ ہم بہت سی جگہوں پر استحصال کا شکار ہو رہے ہوتے ہیں اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ اب بات پھر وہی پر آجاتی ہے کہ آپ نہ صرف اپنے حقوق و فرائض سے نہ صرف آگاہ ہوں بلکہ اس کے جائز حصول کے لئے اپنی آواز اٹھانا بھی جانتے ہوں۔
اسی مسئلے کو ذرا وسیع تناظر میں دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ یہی پالیسی دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی اپنائی جاتی ہے لیکن وہاں نہ صرف دکاندار آپ کو تمام چھوٹے سکے واپس کرتے ہیں جبکہ صارف بھی ان کو اہم سمجھتا ہے۔ میں نے جرمنی میں رہتے ہوئے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ دکانوں پر موجود کیشیئرز نے کبھی ایک پنس کے بدلے میں کوئی ٹافی یا چاکلیٹ پکڑا دی ہو۔ مزید یہاں پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہماری معیشت کمزور ہے لہذا عموماً ہم لوگ اپنے سکوں یا چھوٹے کرنسی نوٹوں کو اہمیت نہیں دیتے اور ان کو بالکل بے کار سمجھتے ہیں۔
ایسی غلط سوچ مجموعی طور پر وسائل کے ضیاع کا سبب بنتی ہے۔ اسی طرح ایک اور اہم سوال یہاں جنم لیتا ہے کہ کیا بحیثیت معاشرہ ہم ذہنی اور فکری طور پر اس قدر پسماندگی کا شکار ہیں کہ ہمارے ملک میں رائج احمقانہ رواجوں کا جائزہ بھی نہیں لے سکتے؟ ضرورت اس امر کی ہے ہم اپنے سو کالڈ معاشرتی پریشرز کو نظر انداز کریں اور اپنے ایک روپیہ کو مانگتے وقت بالکل بھی شرمندہ نہ ہوں۔ میرے لیے تو میرا ایک روپیہ اہم ہے آپ کے لئے بھی ہونا چاہیے۔


