مثبت سوچ، معاشرہ اور لیڈی ڈاکٹر

آج کل ہر طرف منفی رویے پنپ رہے ہیں کیا سیاست، کیا حکومت، کیا معاشرہ اور کیا گھریلو زندگی. لوگ منفی سوچ کی بدولت کسی میں برائی پہلے ڈھونڈتے ہیں بہ نسبت اچھائی کے، اور اپنے رویے سے دوسروں کو تکلیف پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں. یہی حال ویمنز ڈے کا ہے، اس کے عورت مارچ کو تنقید کا اتنا نشانہ بنایا گیا ہے کہ اس کا مثبت پہلو کہیں چھپ کر رہ گیا ہے صرف چند نعروں کی بنیاد پر عورت کے حقوق اور مارچ کے مقاصد کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے. معاشرے مین منفیت اس قدر پھیل گئی ہے کہ لوگ کسی اچھی بات کو بھی قابلِ تعریف ہی نہیں گردانتے لیکن اب بھی کچھ ہیں جو خاموشی سے اپنا کام کیے جارہے ہیں اور عورت سے متعلق مثبت سوچ کو اجاگر کر رہے ہیں. ان میں ہمارا اشتہارات کا شعبہ بازی لے گیا ہے وہ ایسے کہ زیادہ تر اشتہارات بچیوں کی تعلیم، ہر شعبے میں خواتین کی شراکت اور گھریلو مسائل کو بہت خوبصورتی سے اسکرین پر پیش کرکے انکا حل بھی سجھا رہا ہے. ساس بہو کے تعلق میں بدلاؤ سے متعلق کئی اشتہار نظر سے گزرے، کہیں ساس بہو کے بھائی کے سامنے اسکی چائے بنانے کی تعریف کر رہی ہے، اور کہیں بہو کے برتن دھونے کے اشتہار میں اسکے ساتھ خوشی سے جھومتی نظر آرہی ہے، ایک اشتہار جس نے سب سے زیادہ اپنی توجہ کھینچی ہے وہ ہےمسالہ بنانے والی کمپنی کا اشتہار، لوگ مسالہ خریدیں یا ناخریدیں لیکن اس مثبت پیغام پر چونکتے ضرور ہیں.یہ اشتہار ایک شاندار پیغام دے رہا ہے کہ لڑکیوں کو اپنے پروفیشنل کیرئیر کو شادی کے بعد بھی جاری رکھنا چاہیئے گھر والوں کے تعاون سے، ساس اپنے منفی خیالات جھتک کر کہتی ہے” بہو نے حلف اٹھایا تو ہم نے بھی وعدہ کیا، ویسے بھی کھانا بنانا کسی ایک کا کام تو نہیں ” ، یہ وہ جملے ہیں جو ہر گھر میں سنے جارہے ہیں اگر انکا اثر ڈاکٹر بہو کی ساس پر ہوجاتا ہے تو معاشرہ میں مثبت انداز فکر پیدا ہوگا، ویسے تو ایسی سوچ ہر کام کرنے والی لڑکی کے گھر والوں میں ہونی چاہیئے کیونکہ پاکستان میں شادی کے بعد پروفیشنل تعلیم حاصل کرنے والی ہزاروں لڑکیاں کچن اور گھر داری میں بھول کر اپنا گولڈ میڈل چولہے میں جھونک دیتی ہیں، ایک جاب کرنے والی لڑکی ہی جانتی ہے کہ کس طرح وہ دو محاذوں پر ڈٹ کر کھڑی ہوتی ہے.
میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا ایک احسن فریضہ ہے لیکن اس کو استعمال نہ کرنا بہت برا رجحان جو پاکستان میں بہت ہے تقریبا ستر فیصد لڑکیاں ڈاکٹر بننے کے بعد فیلڈ میں نہیں آتیں، اکثر کا خیال ہے اچھے رشتوں کے چکر میں لڑکیاں ڈاکٹر بنتی ہیں، اور جو اپنا پروفیشن اختیار کرنا چاہتی ہیں وہ شادی کے بعد شوہر، یا سسرال کی پابندی کی وجہ سے فیلڈ میں نہیں آتیں، بہت کم گھرانوں میں لڑکی کو شادی کے بعد سپورٹ کیا جاتا ہے ، کیا ہمارا ملک اس کا متحمل ہے ہمارے ہاں لیڈی ڈاکٹر کی ضرورت اور اہمیت سب کو معلوم ہے، گاؤں، دیہات میں اکثر عورتیں زچگی میں ہسپتال نہیں جاتیں کچھ کے پاس وسائل نہیں ہوتے اور کچھ مرد ڈاکٹر سے پردے کی وجہ سے علاج نہیں کرواتیں اور گھر پر ہی دایہ کی خدمات لے لیتی ہیں اس کے لیے چاہے جان جوکھم میں ڈالنی پڑے، مختلف پیچیدگیوں کو ساری عمر برداشت کرتی ہیں یا پھر جان کی بازی ہار جاتی ہیں اور مرد دوسری بیوی بچے پالنے کے لیے لے آتا یہ ہے اصل تصویر.
آج ہم عورت مارچ، عورتوں کا دن منارہے ہیں لیکن اس مسئلے کی طرف دھیان ہی نہیں جارہا کہ لیڈی ڈاکٹرز کی کمی کیسے پوری ہو جبکہ ہر میڈیکل کالج میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے. خدارا لڑکیوں کو ڈاکٹر بنا کر پروفیشن میں آنے دیں یہی ملک کی ضرورت ہے. پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق پاکستان میں ڈاکٹروں کی قلت ہے، حکومت کو پابند کرنا چاہیئے کہ ہر ڈاکٹر کم از کم کچھ عرصہ اپنی خدمات ہسپتالوں کو دے، خواتین ڈاکٹرز کو سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ لیڈی ڈاکٹرز کی تعداد میں اضافہ ہو اور اتنی مہنگی تعلیم سے فائدہ حاصل ہو نہ کے گھر بیٹھ کر زنگ لگتا رہے.معاشرے کو مثبت سوچ اپنانی پڑے گی تب ہی بدلاؤ آئے گا. لیڈی ڈاکٹرز کو تنخواہیں اور مراعات دی جائیں تاکہ وہ یکسوئی سے اپنی خدمات ملک وقوم کے لیے وقف کرسکیں شاید اس طرح ویمینز ڈے کی اصل روح اجاگر ہوسکے.
Facebook Comments HS

