حزب اختلاف کی سیاست پر حکومتی جوابی حکمت عملی


حزب اختلاف کی عمومی سیاست میں حکومت پر دباؤ کو بڑھانے کی سیاست ہی ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے سیاسی مفادات کو تقویت دے کر حکومتی مشکلات میں اضافہ کریں۔ بدقسمتی سے اگر ہم پچھلے ساڑھے تین برسوں میں حزب اختلاف کی مجموعی سیاست کو دیکھیں تو اس میں ہمیں ان کی کئی کمزوریوں کو دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ حکومت اس لحاظ سے خوش قسمت رہی ہے کہ اسے ایک کمزور اور تقسیم شدہ حزب اختلاف ملی ہے۔ یہ حزب اختلاف حکومت کے مقابلے میں اپنے داخلی مسائل میں زیادہ الجھی نظر آتی ہے اور ان میں مختلف امور پر ایک دوسرے سے مختلف حکمت عملیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ اگر اسے ایک اچھی حکومت نہیں مل سکی تو ان کا دوسرا بڑا المیہ یہ ہی ہے کہ اسے حکومت کے ساتھ ساتھ ایک کمزور حزب اختلاف بھی ملی ہے۔

حالیہ دنوں میں ملکی سیاسی منظر نامہ میں سب سے زیادہ ہلچل ”حکومت گراؤ تحریک“ یا وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی صورت میں ان کی حکومت کے خاتمہ کی تحریک ہے۔ اگرچہ حکومت گراؤ تحریک ساڑھے تین برسوں سے جاری ہے مگر اسے وہ کامیابی نہیں مل سکی جس کا وہ عملی طور پر دعوی کیا کرتے تھے۔ ایک بار پھر حزب اختلاف کے دونوں فریق پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم دونوں حکومت اور وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو بنیاد بنا کر حملہ آور ہوئے ہیں۔

ان کے بقول اس وقت کیونکہ اسٹیبلیشمنٹ غیر جانبدار ہے اور ایسی صورت میں حکومتی سطح پر ان کی جماعت اور اتحادیوں میں شگاف ڈالا جاسکتا ہے۔ اگرچہ ابھی تک سیاسی پنڈت حزب اختلاف کی سیاسی حکمت عملی اور طریقہ کار پر واضح نہیں اور ان کو لگتا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر سیاسی شور زیادہ ہے جبکہ سیاسی حقیقت کافی مختلف ہے۔

لیکن اس کے باوجود حکومت یا وزیر اعظم نے بھی حزب اختلاف کی سیاسی مہم جوئی کو ناکام بنانے کے لیے ایک جوابی حکمت عملی کو ترتیب دیا ہے۔ حکومت نے عملی طور پر حزب اختلاف کے دباؤ میں خود کو محدود کرنے کی بجائے یا اس تاثر کو مضبوط کرنا کہ واقعی حکومت دباؤ میں ہے خود کو جارحانہ سیاسی حکمت عملی سے جوڑ دیا ہے۔ وزیر اعظم اور ان کی ٹیم عملی طور پر سیاسی لنگوٹ کس کر میدان میں سامنے آ گئے ہیں اور اس کا مقصد حزب اختلاف کی سیاست یا سیاسی مہم جوئی پر جوابی حملہ ہے۔

اس کھیل میں حکومت نے چار بنیادی حکمت عملیوں کو ترتیب دیا ہے تاکہ حزب اختلاف پر جوابی دباؤ بڑھایا جا سکے۔ اول اتحادی جماعتوں اور پارٹی میں موجود گروپ بندی سے نمٹنا اور اس میں براہ راست وزیر اعظم کی موجودگی اور ملاقاتیں تاکہ ان سب کو حکومتی حمایت پر یکجا رکھا جا سکے۔ دوئم مہنگائی اور معاشی بدحالی کو بنیاد بنا کر عوام کو پٹرول، ڈیزل، بجلی کی قیمتوں میں کمی، مختلف ٹیکسوں کی مد میں چھوٹ، ایمنسٹی اسکیم، گریجوئیٹ کے لیے سکالر شپ پروگرام، تیس لاکھ تک گھر بنانے کے لیے بلا سود قرضہ، انڈسٹری کو ٹیکسوں کی چھوٹ اور ریلیف جیسے اقدامات، سوئم وزیر اعظم کا حزب اختلاف کے لانگ مارچ یا جلسوں کا جوابی وار خود مختلف مقامات پر براہ راست عوام سے رابطہ مہم اور جلسوں کی سیاست، چہارم حزب اختلاف کی داخلی سیاست میں تقسیم اور ارکان کی حمایت یا گروپ بندی کو پیدا کرنا شامل ہے۔

وزیر اعظم کی حزب اختلاف کی سیاست کے مقابلے میں جوابی حکمت عملی کی سیاسی ٹائمنگ کافی اہم ہے۔ کیونکہ ایک ایسے موقع پر جب ایسا لگ رہا ہے کہ حزب اختلاف حتمی جنگ یا حکمت عملی کو اختیار کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے یا لوگوں میں منگائی کی بنیاد پر اس تاثر کا مضبوط ہونا کہ حکومت عملاً عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہے۔ مگر ایسے موقع پر وزیر اعظم کا مختلف امور پر ریلیف پیکج یقینی طور پر حزب اختلاف کی سیاست کے لیے مشکل پیدا کر سکتا ہے۔

اگرچہ اب حزب اختلاف کا دعوی ہے کہ وزیر اعظم جو کچھ کر رہے ہیں یا اقدامات سامنے آئے ہیں اس کی بڑی وجہ ان کی حکومت پر سیاسی چڑھائی ہے۔ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو اور یہ ہی حزب اختلاف کی سیاست ہونی چاہیے تھی کہ وہ بلاوجہ محاذ آرائی کی سیاست میں الجھنے کی بجائے منظم ہو کر حکومت پر مضبوط دباؤ بڑھاتی تو اس کے بہتر نتائج پہلے بھی سامنے آسکتے تھے۔ حکومتی جوابی حکمت عملی کی وجوہات میں تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانا، حزب اختلاف کو کمزور وکٹ پر لانا، متوقع مقامی حکومتوں کے انتخابات کی سیاسی تیاری اور بالخصوص 2023 کے عام انتخابات کی تیاری سے جڑی کڑیاں ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ کافی عرصہ سے اپنی پارٹی معاملات سے الگ تھلگ تھے اور پارٹی کے داخلی مسائل کی وجہ سے ان کو مختلف محاذوں پر مسائل کا سامنا تھا۔ اب نئی سیاسی حکمت عملی کے تحت پارٹی کی نئی تنظیم سازی کی گئی ہے اور اسد عمر جو وفاقی وزیر ہیں ان کو پارٹی کا جنرل سیکرٹری بنا کر تنظیم سازی کے معاملات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کا احساس وزیر اعظم کو اس وقت زیادہ ہوا جب ان کو خیبر پختونخوا کے پہلے مرحلے کے مقامی حکومتوں کے انتخابات سیاسی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی طرح وزیر اعظم پارٹی کے اندر موجود جو بھی داخلی مسائل تھے یا ارکان اسمبلی چاہے وہ حکومتی جماعت سے ہوں یا اتحادی جماعتوں سے ان کو نظرانداز کرنے کی پالیسی پر گامزن تھے۔ اب وزیر اعظم کو احساس ہوا ہے کہ اگر نئے انتخابات کی طرف بڑھنا ہے تو ان کو موجودہ سیاسی پالیسی اور طریقہ کار میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کرنا ہوں گی ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ حکومتی امور کے ساتھ ساتھ پارٹی اور اتحادی جماعتوں سے جڑے معاملات پر بھی کافی سرگرم نظر آتے ہیں۔

یقینی طور پر اس کی ایک وجہ تو حزب اختلاف کی سیاست کا بڑھتا ہوا دباؤ ہے تو دوسری طرف نئے انتخابات کا سیاسی ماحول بھی بنتا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان عمومی طور پر جارحانہ کھیل یا مخالفین پر سیاسی برتری کے لیے فرنٹ فٹ پر کھیلنے کے عادی ہیں اور مخالفین کو دباؤ میں لانے کے لیے وہ مختلف حکمت عملیاں اختیار کرتے ہیں۔

اب دیکھنا ہو گا کہ حالیہ دنوں میں جو ایک بڑی شدت حزب اختلاف کی سیاست یا عدم اعتماد کی صورت میں سامنے آئی ہے اسے حکومتی حلقہ بالخصوص وزیر اعظم کس جوابی حکمت عملی سے اس کا جواب دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حزب اختلاف عام انتخابات سے قبل ایک حتمی سیاسی وار کے طور پر حکومت پر حملہ آور ہوئی ہے اور اسے بھی اندازہ ہے کہ اگر اس بار بھی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو نہ صرف اس کی سیاسی سبکی ہوگی بلکہ اس کا بڑا سیاسی فائدہ بھی حکومت اور عمران خان کو ہو گا۔

یہ ہی وجہ ہے کہ حتمی سیاسی وار سے قبل مختلف حکمت عملیوں کی مدد سے معاملات کو دونوں اطراف سے آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت کو ایک سیاسی برتری ضرور حاصل ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی سیاسی حکمت عملی میں جہاں تضاد ہے وہیں ایک دوسرے پر اعتماد سازی کا فقدان بھی ہے۔ حکومت حزب اختلاف کی اسی سیاسی داخلی تضاد کو بنیاد بنا کر اپنے سیاسی کارڈ بھی کھیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جبکہ حکومت پس پردہ ایک کوشش اور کر رہی ہے کہ خود حزب اختلاف کے ارکان میں سے ایک ایسے پارلیمانی گروپ کو سامنے لایا جائے جو اپنی جماعتوں کی سیاست کے مقابلے میں حکومتی حلقوں کا براہ راست یا پس پردہ ساتھ دے کر اپنے جماعتوں کو مشکل میں کھڑا کر دیں۔

بنیادی طور پر اس وقت حکومت ہو یا حزب اختلاف دونوں طرف ایک سیاسی اعصاب کی جنگ جاری ہے اور دیکھنا ہو گا کہ کون کتنا زیادہ اپنے اعصاب کو کنٹرول کرتا ہے۔ حزب اختلاف کی سیاست نے اس تاثر کو عام کر دیا ہے کہ حکومت کو اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت حاصل نہیں اور تحریک عدم اعتماد کے معاملے میں اسٹیبلیشمنٹ غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے گی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب حزب اختلاف کی سیاسی تنقید اسٹیبلیشمنٹ پر کم اور حکومت یا وزیر اعظم عمران خان پر زیادہ ہوتی ہے اور اسی کو سیاسی ٹارگٹ کیا ہوا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہو گا کہ حزب اختلاف کے بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ، تحریک عدم اعتماد کے مقابلے میں جو سیاسی حکمت عملی حکومت نے اختیار کی ہے اس کے کیا سیاسی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ جو سیاسی مہم جوئی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان جاری ہے اس سے حکومت کا واقعی خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور اگر یہ ہوتا ہے تو آگے کے منظر نامہ کے خد و خال کیا ہوں گے ۔ وگرنہ دوسری صورت میں معاملات 2023 کے عام انتخابات کی طرف ہی بڑھیں گے، البتہ تحریک عدم اعتماد کی ناکامی یقینی طور پر حزب اختلاف کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکہ ہو گا۔

Facebook Comments HS