سات دن کی بچی کو پانچ گولیاں: ’شاہ زیب بیٹی کی پیدائش سے خوش نہیں تھا‘


صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی میں اتوار کو ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی سات دن کی بیٹی کو اس لیے فائرنگ کر کے قتل کر دیا کہ وہ بیٹی کی پیدائش سے خوش نہیں تھے۔

یہ واقعہ میانوالی کے قصبے داؤد خیل میں پیش آیا ہے اور پولیس تاحال ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعے کے عینی شاہد ہدایت اللہ نے بتایا کہ 22 سالہ ملزم شاہ زیب نے ان کے سامنے اپنی بیوی سے بیٹی کو چھین کر زمین پر پٹخا اور پستول سے بچی پر فائر کر دیے۔

ہدایت اللہ خان بچی کی والدہ کے چچا ہیں اور اُن کے مطابق وہ اس وقت وہیں موجود تھے اور اپنے بھتیجے کے ہمراہ اپنی بھتیجی سے ملنے آئے ہوئے تھے۔

پولیس نے ہدایت اللہ کی مدعیت میں قتل ہونے والی بچی کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور اس وقت ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہدایت اللہ نے بتایا کہ اُن کی بھتیجی اس واقعے کے بعد سے ہوش و حواس میں نہیں ہے۔ ’اسے نیند کی گولی دے دیتے ہیں اور پھر جب ہوش آتا ہے تو پھر پریشان ہوتی ہے۔‘

’اسے بیٹے کی خواہش تھی‘

ہدایت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ خود داؤد خیل کے رہنے والے ہیں جو میانوالی سے 35 کلومیٹر دور ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی بھتیجی مشعل کی شادی صرف پونے دو سال پہلے ہی ملزم شاہ زیب سے ہوئی تھی اور شاہ زیب اور ان کا خاندان میانوالی شہر میں رہتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مشعل کے بھائی کلیم اللہ نے بتایا کہ شاہ زیب نے انٹر پاس کیا تھا اور ڈسپنسر کا کورس کر رکھا تھا لیکن بے روزگار تھا اور نوکری کی تلاش میں تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ملزم ان کی خالہ کا بیٹا تھا اور یہ کزنز کی شادی تھی جس کے بعد سے میاں بیوی کے درمیان تعلقات خوشگوار رہے اور ’کبھی کوئی جھگڑے کی بات نہیں سنی تھی۔‘

’ہم مبارک باد دینے گئے تھے‘

ہدایت اللہ نے اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وقوعہ کے روز وہ اپنی بھتیجی کو مبارک باد دینے میانوالی اس کے گھر گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’یہ میری بھتیجی کی پہلی بیٹی تھی اور اس سے پہلے ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔‘

ہدایت اللہ کے مطابق ان کی دو بھتیجیوں کی شادی کوئی پونے دو سال پہلے ایک ساتھ ہوئی تھی۔ ایک بہن کی شادی داؤد خیل اور ایک کی شادی میانوالی میں ہوئی تھی۔ دونوں کے ہاں بیٹیاں ہوئی تھیں۔

ہدایت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ بچی کی پیدائش کو سات دن ہو گئے تھے اور لوگ مبارکباد کے لیے ان کے گھر آ رہے تھے۔

’میرے ساتھ بھتیجے اور بھانجے بھی تھے۔ ہم بھتیجی کے گھر میں ایک کمرے میں بیٹھے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

دوران پرواز بچی کی پیدائش: ’مبارک ہو لڑکی ہوئی ہے‘

پاکستان کا پہلا ٹیسٹ ٹیوب بےبی جسے ‘گناہ’ اور ‘حرام’ قرار دیا گیا

آئی وی ایف مکس اپ: ’ہمارے ہاں ایک اجنبی کے بچے کی پیدائش ہوئی تھی‘

’شاہ زیب غصے میں بھرا گھر آیا‘

ہدایت اللہ نے بتایا کہ جس وقت وہ اپنی بھتیجی کے گھر پہنچے اس وقت شاہ زیب گھر پر موجود نہیں تھا۔

’تھوڑی دیر بعد وہ گھر آیا تو غصے میں تھا اور شور و واویلا کر رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ میں اپنی بیٹی کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘

ان کے دیکھتے ہی دیکھتے شاہ زیب اپنے کمرے میں داخل ہوا جہاں اس نے اپنی بیوی سے بیٹی کو چھینا اور بچی کو زمین پر پھینک دیا۔ اس کے بعد ملزم نے بچی پر پانچ فائر کیے جو بچی کو دائیں جانب لگے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق ہدایت اللہ نے اس موقع پر جب ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی تو شاہ زیب نے ان پر اسلحہ تان لیا اور موقع سے فرار ہو گیا۔

’بھتیجی ہوش و حواس میں نہیں‘

میانوالی پولیس کی درج ایف آئی آر کے مطابق ہدایت اللہ بچی کو لے کر ہسپتال پہنچے لیکن تب تک وہ ہلاک ہو چکی تھی۔

میانوالی، قتل

پولیس کو واقعے کی ساری تفصیل بتاتے ہوئے ہدایت اللہ نے کہا کہ ملزم شاہ زیب کو بیٹے کی خواہش تھی اور بیٹی کی پیدائش پر وہ خوش نہیں تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھیں ’ایسا کچھ نہیں لگا کہ ملزم اس طرح کی کوئی کوشش کرے گا، ہاں یہ ضرور تھا کہ ملزم کو بیٹے کی خواہش تھی، اس لیے وہ خاموش تھا۔‘

ہدایت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب سے یہ واقعہ پیش آیا ہے ان کی بھتیجی پر غشی طاری ہے۔ اسے سکون کی دوائی دی جا رہی ہے، پھر جب ہوش آتا ہے تو وہ پھر بیٹی کو یاد کرتی ہے اور بے ہوش ہو جاتی ہے۔‘

پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور بہت جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

پاکستان میں لڑکیوں کی پیدائش پر اس طرح کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں۔ پاکستان میں کئی ایسے علاقے ہیں جہاں بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔

میانوالی کے علاقے داؤد خیل میں گذشتہ سال مئی میں باپ نے اپنی تین معصوم بیٹیوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ مقامی لوگوں نے بتایا تھا کہ ملزم کو بیٹے کی خواہش تھی اور اس کی تین بیٹیاں پیدا ہو گئی تھیں جن کی عمریں ڈیڑھ سال سے چار سال کے درمیان بتائی گئی تھیں۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp