علیم خان کی نواز شریف سے ملاقات، ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم


لندن میں مقیم صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے بتایا ہے کہ اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ کل علیم خان نے لندن میں میاں نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں اسحاق ڈار، حسن نواز اور حسین نواز بھی موجود تھے۔ خبر کے مطابق لندن پہنچتے ہی علیم خان کو نواز شریف سے ملاقات کا وقت مل گیا۔ لندن جانے سے قبل وہ شہباز شریف سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔

نواز شریف اور علیم خان کی ملاقات تین گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ انہوں نے مغرب کی نماز بھی اکٹھے ادا کی۔ علیم خان نے نواز شریف کو بتایا کہ گزشتہ تین برس میں ان کی جماعت تحریک انصاف ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتی رہی اور انہیں کس کس طرح نشانہ بنایا جاتا رہا۔

علیم خان نے لندن روانگی کے وقت یہ بتایا تھا کہ وہ جہانگیر ترین سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں جس میں وہ آئندہ کا لائحہ عمل تشکیل دیں گے۔

علیم خان اور جہانگیر ترین کے دھڑے کے مسلم لیگ نون سے ملنے سے نہ صرف تحریک انصاف کی پنجاب میں حکومت کو خطرہ ہے بلکہ مرکز پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔ اس سے قبل خبریں آ رہی تھیں کہ اپوزیشن مسلم لیگ ق کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن مسلم لیگ نون نے چودھری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کے مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

اسی دوران علیم خان نے جہانگیر ترین کے منحرف دھڑے میں شمولیت کا اعلان کر کے صورت حال تبدیل کر دی۔ ذرائع کے مطابق علیم خان کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے پر مسلم لیگ نون آمادہ دکھائی دیتی ہے۔

اہم سوال یہ ہے کہ اپنی پارٹی کے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے پر اگر تحریک انصاف ان ممبران کو نا اہل کرنے کی درخواست سپیکر کو دیتی ہے اور الیکشن کمیشن آخر کار انہیں نا اہل کر دیتا ہے، تو پھر کیا صورت حال بنے گی۔ اتنی بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے ممبران نا اہل ہونے کے بعد حکومت اپنی اکثریت کھو بیٹھے گی۔ اگر تین مہینے بعد ان خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوتے ہیں اور اپوزیشن اور تحریک انصاف کے منحرف دھڑے کے اراکین جیت جاتے ہیں، تو اس صورت میں بھی حکومت کی زندگی تین ماہ تک محدود رہ جائے گی۔

Facebook Comments HS