تحریک عدم برداشت

پاکستان ایک عظیم بحران سے گزر رہا ہے۔ یہ بحران کس عمل و شکل میں بطور سزا ہے، اس کی مثال ایک ایسے اندھے مسافر کی سی ہے جو اندھیرے میں ٹکریں مار مار کر ذوق سفر سے محروم ہو چکا ہو، قیام پاکستان عصری تاریخ میں ایک منفرد واقعہ تھا۔ اس کا شمار تاریخ عالم کے ان معدودے چند واقعات میں ہو سکتا تھا جن سے انسانیت نئے موڑ مڑنے کے قابل ہوئی اور آج ان کے دم سے موجودہ مقام تک پہنچ سکتی ہے لیکن تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملے گی کہ قوم نے ہمہ گیر مخالفت کے علی الرغم اپنے نصب العین کو وطن کی صورت میں متشکل کیا اور پھر اسی عمارت کے شکست و ریخت کے درپے ہو گئے۔
تحریک عدم اعتماد دراصل تحریک عدم برداشت ہے جس میں فریقین ایک دوسرے کا مینڈیٹ تسلیم کرنے سے چشم پوشی کرتے ہیں، ایسی تحریک کی عمارت جب بھی استوار کی گئی تو دیکھا یہی گیا کہ ہر شخص اور قریبا ہر جماعت اپنی ہوس رانیوں اور ذاتی اقتدار و مفاد کے استحکام و تکمیل میں منہمک ہو جاتے ہیں۔ یہ مہم جوئیاں پہلے بھی ہوتی رہی اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے ملک کے لئے بھی المناک ہو سکتا ہے، نیا حادثہ اور زیادہ المناک ہو سکتا ہے، اس پس منظر میں دیکھا جائے تو ہمارے ارباب اختیار کی سیاست کے جملہ محرکات بخوبی آشکار ہو جاتے ہیں۔ ارباب حل و عقد کی نالائقی اور نا اہلیت نے بھی مملکت کو معاشی اور معاشرتی نظام آلام میں مبتلا کر دیا کہ قومی مفادات کے جذبات لطیف و شریف سے بیگانہ نظر آنے لگے، ان کی وحدت پارہ پارہ ہونے لگی اور وہ ہر راہ رو کا ساتھ دینے لگے کہ چاہے اس کے نتائج کس قدر تباہ کن کیوں نہ ہو۔
بد قسمتی یہ رہی کہ طوفان بد تمیزی کا ریلا بالخصوص تبدیلی کے نام سے وارد ہوا اور تمام اخلاقی و پاکستانی اوصاف کو بہا لے گیا۔ لسانیت قومیت پر حاوی ہوئی تو بد دہنی سے بات گولی تک چلانے کی نوبت پر جا پہنچی۔ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ یہ فتنے درحقیقت ارباب سیاست کے پیدا کردہ تھے اگر مذاکرات پر یقین محکم ہر شعبے میں موجود ہو تو اس قسم کے تنازعات پیدا ہی نہ ہوتے اور پاکستان درست سمت پر گامزن رہتا۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور المیہ کیا ہو گا کہ آج تک ایک بھی وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔
جس صوبے یا لسانی اکائی کو دیکھیں تو ایسا محسوس کرایا جاتا ہے کہ وہ بہ حیثیت ایک علیحدہ قوم اپنے ’جداگانہ‘ حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں، یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جہاں لسانی یا صوبائی اکائیوں میں منقسم سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے حریف ہیں تو وہاں مخصوص مفادات کے لئے بالکل یک زبان ہیں۔ راقم کو کبھی کبھار ہر گلی کوچوں میں جگتو فرنٹ کا سایہ نظر آتا ہے جس کے حواری اپنی مطلب براری کے لئے تفرقہ اندازی کر رہے ہوں تاکہ انہیں ادھر ادھر سے، کہیں سے بھی کچھ مل جائیں۔ تحریک عدم برداشت اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ تقاضا تھا کہ جذبات کو ٹھنڈے کرنے کے لئے اطمینان سے اس کا حل سوچ لیا جاتا، لیکن غیر معمولی تعجیل سے کام لیا گیا اور اب جیسا اعلان ہو گیا ہو کہ اپنے اپنے الیکٹیبلز کے جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی حالت اس قدر دگرگوں ہو گئی، جیسے لسانی تنازع پر 22 اپریل 1954 کے دن کراچی میں ہڑتال منائی گئی جو مکمل تھی اس سے عوام نے اپنے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ مولوی عبدالحق کی قیادت میں ایک جلوس مرتب ہوا جو ریلی کی شکل میں مجلس دستور ساز تک گیا، دوسرے دن جب اس جلوس کی روداد اخبارات میں شائع ہوئی تو ایک اخبار نے لکھا کہ شرکا ء جلوس کی تعداد پانچ ہزار تھی، دوسرے نے دس ہزار تعداد بتائی، تیسرے نے ایک لاکھ اور چوتھے نے اسے لاکھوں کہا، اس پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا کہ جلوس کی تعداد کون سی صحیح ہے، جس اخبار نے پانچ ہزار لکھا تھا اس سے باز پرس ہوئی، اس نے الزام خبر رساں ایجنسی پر ڈالا، کسی نے جرات کا مظاہرہ نہیں کیا کہ اس تعداد کو وہی مان لیتے جو انہوں نے لکھی تھی، نہ دونوں نے اسے غلط کر کے معافی مانگی۔ اخبار مذکور نے معترضین کو خوش کرنے کے لئے خبر رساں ایجنسی کی ڈائریکٹری سے استعفیٰ دے دیا، حالاں کہ ان کی مدت بہت عرصہ پہلے ختم ہو چکی تھی۔
دراصل ہمارے قومی ذہن کے افق کی پستی کا یہ احوال روز اول سے عیاں آ رہا ہے، اہل صحافت کے کسی بھی گوشے میں چلیں جائیں، ان کی بھی برداشت گویا ختم ہو چکی، ایسا لگتا ہی نہیں کہ ان کا فرض قلم کی حرمت اور غیر جانب داری کے ساتھ معاشرے میں اخلاقی اقدار کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہے نہ کہ مخصوص فریق کے حلیف بن کر قومی معاملات کا حشر نشر کریں۔ جس طرح مولوی عبدالحق اور ان کے رفقا علمی لوگ تھے لیکن سیاسی تحریکیں چلانے کا تجربہ نہیں رکھتے تھے، اس سے یہ ہوا کہ ان تحریکات کا فائدہ ان لوگوں نے اٹھا لیا جن کے مقاصد کچھ اور تھے۔ ہماری قومی زندگی کا بھی یہی پہلو افسوس ناک ہے کہ موجودہ دور میں بھی کارکن اور جماعتیں مفقود ہیں جو سیاسی تحریکات کی رہنمائی کرسکیں یہ محض تحریکوں کی ناکامی کی دلیل ہوگی بلکہ متفنی (عیار) لوگوں کے لئے دعوت عام ہے۔
ذرائع ابلاغ کو اخلاقی حدود کا معیار از خود نافذ کرنا ہو گا کہ جو کوئی بھی ہو اس کی بد دہنی اور اخلاقی پس دماغی سے پورے معاشرے میں ناسور پھیلتا ہو، اس کے غیر محتاط رویوں پر اپنی ذمے داری پوری کرے۔ من و عن منفی رویوں سے عدم برداشت کا فتنہ نسل کی تباہی کا موجب بن جائے گا، اس عمل کو روکنا ہو گا۔ کسی بھی فریق کو محض اکثریت کے زعم میں مبتلا ہونے کے خبط سے باہر نکل جانا چاہے۔ سب سے پہلے ہمیں یہ طے کرلینا چاہے کہ ہم ایک قوم ہیں بھی یا نہیں، سیاسی جماعتوں میں نظریاتی اختلاف انوکھی بات نہیں لیکن وفاق کی مرکزیت کو کوئی بھی کمزور کرنے کی کوشش نہ کرے کہ علاقائی نسبتیں سے بالاتر قومی مفادات پہلی ترجیح ہیں۔ ریاست کے تمام اجزائے ترکیبی مساوی درجہ اور اختیارات رکھتے ہیں، طے بھی کرنا ہو گا۔ مملکت کی سلامتی و بقا کے لئے اختیارات سے متجاوز ہونا یکساں نقصان دے گا۔ تحریک عدم اعتماد کا جو بھی انجام ہو، اس پر برداشت کا رویہ اپنانا ہم سب کے حق میں بہتر ہو گا۔

