کیف : باتو خان اور پوٹن، ہزار سال کی کہانی


چنگیز خان کا پوتا ”باتو خان“ اکتوبر 1239 میں اپنی فوجوں کے ساتھ کیف شہر کے نواح میں پہنچ چکا تھا۔ باتو خان نے اپنے کئی ایلچی شہری حکام کے دربار میں بھیجے کہ شہر میں باتو خان کی فوج کو داخلے کی اجازت دے دی جائے اور کیف کا حاکم ”باتو خان“ کی حاکمیت اور اطاعت تسلیم کر لے، لیکن کیف کے حکام نے بجائے ہتھیار ڈالنے کے باتو خان کی طرف سے بھیجے گئے ایلچیوں کو یکے بعد دیگرے قتل کروا دیا۔ اس واقعہ کے بعد باتو خان نے اپنے ملٹری کمانڈر ”سبتائی خان“ اور اپنے چچا زاد بھائی ”منگو خان“ کو حکم دیا کہ اپنے فوجی دستوں کے ساتھ شہر کی فصیل کے سامنے پہنچ جائیں اور شہر پر حملے کی تیاری کریں

کیف شہر اس وقت شاہی ریاست Haylich Volhnia کا حصہ تھا اور یہاں کا حاکم وقت کیف شہر میں موجود ہی نہیں تھا۔ وہ قریبی ملک ہنگری کے دورے پر تھا۔ دورے کا مقصد منگولوں کے حملے کی صورت میں دونوں ملکوں کا فوجی اتحاد تشکیل دینا تھا۔ لیکن وہ ابھی ہنگری پہنچا ہی تھا کہ منگولوں نے کیف پر حملہ کر دیا۔ البتہ کیف کا ملٹری کمانڈر شہر میں موجود تھا۔ شہر کی فصیل میں تین دروازے تھے۔ 28 نومبر 1239 کو منگولوں کے فوجی دستے شہر کی فصیل کے صدر دروازے پر پہنچ گئے اور انہوں نے صدر دروازے کے عین سامنے اپنی سب سے بڑی منجنیق نصب کر دی اور شہر پر سنگ باری شروع کر دی اور تقریباً نو دن بعد چھ دسمبر 1239 کو شہر کی فصیل میں شگاف ڈال دیا گیا۔

اس شگاف سے منگول فوج کیف شہر میں داخل ہو گئی اور دونوں فوجوں میں دست بدست جنگ شروع ہو گئی۔ کیف کے شہری اور فوجی منگولوں کے ہاتھوں بڑی تعداد میں مارے جانے لگے۔ کیف کا ملٹری کمانڈر دمیترو ایک تیر لگنے سے زخمی ہو گیا۔ رات کا اندھیرا پھیلنے تک منگول فوج نے شہر کے اندر مختلف مقامات پر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی۔ کیف کے شہری اور فوجی فصیل کے قریب سے پیچھے ہٹ کر شہر کے مرکزی مقام پر واقع چرچ کی عمارت کے اندر اور اطراف میں جمع ہو گئے۔ اس چرچ کا نام church of tithes تھا۔ یہ کیف کا پہلا چرچ تھا جو سن 989 عیسوی سے سن 996 عیسوی کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا

سات دسمبر 1239 کی صبح منگولوں نے دوبارہ حملوں کا آغاز کیا۔ اس دوران پناہ گزینوں کے وزن سے چرچ کی سب سے بڑی بالکنی گر پڑی اور درجنوں افراد اس کے ملبے میں دب کر ہلاک ہو گئے۔ منگول فتح یاب ہو گئے۔ انہوں نے کیف کے شہریوں کا قتل عام شروع کر دیا اور کھلے عام لوٹ مار کر کے شہر کی عمارتوں کو نذر آتش کر دیا۔ پچاس ہزار کی آبادی والے شہر میں صرف دو ہزار افراد ہی زندہ بچے۔ شہر میں 40 پر شکوہ عمارات تھیں جن میں سے صرف چھ بچ سکیں باقی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئیں پڑوسی ریاست chorni klobuky کی فوجیں مدد کے لیے کیف شہر کی طرف روانہ ہوئیں لیکن باتو خان کے فوجی دستوں نے ان کو کیف شہر کے باہر ہی گھیرے میں لے لیا اور تمام فوجیوں کو قتل کر دیا۔

البتہ کیف کاملڑی کمانڈر دمیترو شہر چھوڑ کر فرار نہیں ہوا اور آخری وقت تک بے جگری سے لڑتا رہا۔ باتو خان بھی اس کی بہادری سے بہت متاثر ہوا اور اس نے دمیترو کو معاف کر دیا۔ سن 1240 میں کیف پر قبضہ کرنے کے بعد آہستہ آہستہ منگولوں نے ارد گرد کے ممالک کو بھی اپنے زیر نگیں کر لیا۔ منگولوں کی قائم کی ہوئی یہ سلطنت کسی نہ کسی شکل میں اگلے تین سو سال تک قائم رہی اور سن 1480 میں اس کا خاتمہ ہوا۔

آج تقریباً ایک ہزار سال بعد کیف شہر کو پھر ویسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ ہزار سال پہلے منگول شہر کی فصیل پر دستک دے رہے تھے۔ آج روسی اپنے چالیس میل لمبے فوجی قافلے کے ساتھ جو ہر قسم کے فوجی ساز و سامان سے لدا پھندا ہے کیف کے باہر موجود ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک ہزار سال بعد پھر اس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجائی جائے گی یا انسان اتنا مہذب ہو گیا ہے کہ بات چیت کے ذریعے تمام مسائل حل کر لیے جائیں گے۔ روسی حکومت کے مختلف ترجمانوں نے متعدد بار یہ دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے صدر ریلسنکی ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں لیکن یوکرین کی جانب سے ہر بار اس کی تردید کی گئی ہے اور ثبوت کے طور پر صدر ریلسنکی کی تازہ ترین ویڈیوز جاری کی گئی ہیں جس میں وہ کیف میں گھومتے پھرتے نظر آرہے ہیں۔ لگتا یہ ہی ہے کہ وہ ایک ہزار سال پہلے کے کیف کے ملٹری کمانڈر دمیترو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی جگہ پر ڈٹے رہیں گے۔

Facebook Comments HS