ورچوئل رئیلٹی کا ماضی اور مستقبل


تخیل یا تصور پر اجارہ داری تو کسی کی نہیں لیکن اب تک یہ شاعر اور مصنفین کی اساس تھے۔ یہ انہی کے کمالات تھے جن سے قارئین ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ تخیلات کے اس کھیل میں کچھ کردار فلموں اور دیگر محرکات کا بھی ہے لیکن کسی بھی انسان کے لئے حقیقت صرف ایک ہی تھی جس میں وہ لمحۂ موجود میں زندہ ہوتا۔ مگر آج ایسا نہیں ہے۔ سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کے ساتھ حقیقت بھی بدل گئی ہے۔ آج کسی بھی شخص کے لئے لمحۂ موجود میں ایک نہیں متعدد حقیقتیں ہو سکتی ہیں جن کے ساتھ مادی تعامل مختلف تبدیلیاں بھی رونما کر سکتا ہے

سائنسی لحاظ سے موجودہ حقیقت کے علاوہ دو اور حقیقتیں مجازی حقیقت (ورچوئل رئیلٹی) اور اوگمنٹڈ رئیلٹی ( جس کے لغوی معنی تو فروزاں یا ابھری ہوئی حقیقت بنتے ہیں لیکن یہ معنی اس کا اصل مفہوم واضح نہیں کرتے ) بھی موجود ہیں جنہیں مزید شاخوں اور اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مجازی حقیقت عمیق ٹیکنالوجی سے ایسا ماحول اور دنیا بنانا ہے جس کے ساتھ صارف نہ صرف تعامل بنا سکے بلکہ خود کو ایسے ماحول کا ذہنی اور مادی حصہ بھی سمجھے۔

ایسی ٹیکنالوجیز کو مجازی حقیقت گردانا جا سکتا ہے جن میں ٹیلی پریزنس (دور سے کسی عمل میں شرکت کرنے کا مادی ذریعہ) ، استغراق اور تعامل پایا جائے۔ یہ ٹیکنالوجیز پہلی بار 1960 کی دہائی میں متعارف کروائی گئیں لیکن مہنگے سامان اور غیر معیاری کارکردگی کی بنا پر زیادہ شہرت حاصل نہ کر سکیں اور ان کا استعمال دفاعی اور ہوائی جہاز کی نقلی تربیت تک محدود رہا۔ عام آدمی سے اس کا تعارف مشہور ہدایت کار سٹیون سپیلبرگ کی فلم ’ریڈی پلیئر ون‘ سے ہوا۔ سائنسدانوں کی کافی تعداد مجازی حقیقت کو مفروضے اور قیاس پر مبنی مردہ ٹیکنالوجی قرار دیتی رہی

ایچ ایم ڈی آلہ

پچھلی دو دہائیوں میں کمپیوٹیشن، ہیپٹکس اور ڈسپلے ٹیکنالوجیز میں جدت کی بدولت مجازی حقیقت کا دوسرا جنم ہوا جس کے ذریعے ان ٹیکنالوجیز کو تجارتی اور عام صارف کی دسترس میں پہنچانا ممکن ہوا۔ ’گارٹنر ہائپ سائیکل‘ ٹیکنالوجیز کے تصور اور پختگی سے عام استعمال تک کے مدوجزر کو دیکھنے کا ایک پیمانہ ہے۔ مجازی حقیقت ایک عرصے تک گارٹنر ہائپ سائیکل میں ’مایوسی کی گرفت‘ میں رہنے کے بعد 2016 میں ’آگہی کی ڈھلوان‘ تک پہنچی اور آج اس فہرست سے نکل کر ایک پختہ ٹیکنالوجی بن چکی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے لیے ’ایچ ایم ڈی‘ (ہیڈ ماؤنٹڈ ڈسپلے ) کی ضرورت ہوتی ہے جسے بہت سی شہرہ آفاق کمپنیاں بیچ رہی ہیں۔ ایچ ایم ڈی آلہ کو آنکھوں پر پہنا جاتا ہے جو موبائل فون یا کمپیوٹر سے منسلک ہو کر آپ کو مجازی حقیقت دکھاتا اور اس سے تعامل بنانے دیتا ہے۔ دیکھی جانے والی مجازی حقیقت کسی اور شخص کی تیار کردہ ہوتی ہے جبکہ اگر آپ چاہیں تو کچھ ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز کے ذریعے خود سے بھی ایسی حقیقت تخلیق کر سکتے ہیں۔

ایک عام آدمی کے لئے اس مجازی حقیقت کو دیکھنے کے لئے یوٹیوب یا سونی پلے اسٹیشن سب سے آسان طریقہ ہو سکتے ہیں۔ 2018 میں مجازی حقیقت سے منسلک کاروبار کی مالیت 7.3 بلین ڈالر تھی جو کے 2026 تک 120.5 بلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ان میں بڑی تعداد سافٹ ویئر اور گیمز پر مشتمل ہے۔ مجازی حقیقت کو ملازمین کی تربیت، گاہکوں کو اپنی مصنوعات کے استعمال، ترتیب، ان میں موجود اقسام کو دکھانے اور کچھ کھیلوں کی نشریات کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے

اوگمنٹڈ رئیلٹی مجازی حقیقت اور اصل حقیقت کا مجموعہ ہے جس میں مجازی حقیقت کی معلومات اور ماحول کو موجودہ حقیقت کے اوپر رکھ کر پیش کیا جاتا ہے۔ اوگمنٹڈ رئیلٹی کی گہرائی اور کام کے لحاظ سے موبائل فون ڈسپلے، کمپیوٹر مانیٹر، ایچ ایم ڈی اور پروجیکٹر اس ٹیکنالوجی کو دکھا سکتے ہیں۔ اگرچہ اس کا ماخذ مجازی حقیقت ہی ہے مگر مجازی حقیقت اور اوگمنٹڈ رئیلٹی میں عام فہم کے لئے بنیادی فرق یہ ہے کے مجازی حقیقت کو استعمال کرتے اصل حقیقت میں کیے گئے فعل کا اثر صرف مجازی حقیقت پر ہوتا ہے اصل حقیقت پر نہیں لیکن اوگمنٹڈ رئیلٹی میں کیے گئے فعل کا اثر فروزاں حقیقت کے ساتھ ساتھ اصل حقیقت پر بھی ہو سکتا ہے۔ اوگمنٹڈ رئیلٹی کو مخلوط حقیقت یا اوگمنٹڈ مجاذیت بھی کہا جاتا ہے۔ سائنسدان اوگمنٹڈ اور مجازی حقیقتوں کو بیان کرنے لئے توسیعی حقیقت کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں

عام زندگی میں اوگمنٹڈ رئیلٹی کو تجربہ کرنے کے لئے پوکیمون گو گیم یا اے آر ایموجی ایپلیکیشن کار آمد ہو سکتی ہیں۔ اوگمنٹڈ ریلیٹی کا زیادہ استعمال نئے جراحوں اور پائلٹ کی تربیت، نئے روبوٹ کو سدھارنے اور انسان اور روبوٹ کے مابین رابطہ یا تعامل پیدا کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ تعلیمی شعبے میں بھی ان ٹیکنالوجیز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ چند ممالک میں انہیں جغرافیہ اور زمینی خد و خال پڑھانے کے لئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ بہت سی کمپنیاں اور ممالک توسیعی حقیقت کی ترویج اور تحقیق پر زور دے رہے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجیز آج بھی عام آدمی کی دسترس سے دور نہیں لیکن سائنسدان آنے والے وقت میں ان کو مزید پھیلتا اور عام ہوتا دیکھ رہے ہیں

توسیعی حقیقت کی ٹیکنالوجیز کو دوسری ٹیکنالوجیز مثلاً روبوٹ، کمپیوٹر یا ویب سائٹس وغیرہ کے ساتھ الحاق کر کے مزید قابل عمل بنایا جا رہا ہے اور سائنسدان آنے والے وقتوں کے لئے نئی تحقیقات اور مصنوعات پیش کر رہے ہیں۔ متعارف کروائی گئی ٹیکنالوجیز دور بیٹھے روبوٹ کو چلا سکتی ہیں اور ان سے ایسی حرکات کروا سکتی ہیں جو موجودہ الگورتھم سے کنٹرول نہیں کی جا سکتیں۔ انہیں فوجیوں کے لئے ایسی مہمات کی تربیت کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے جنھیں اصل حقیقت میں نقل کرنا ممکن نہیں۔

جوہری تنصیبات اور تیل اور گیس کے پلانٹس پر کام کرنے والے ملازمین کو حادثے کی صورت میں اپنے بچاؤ، اخراج اور نقصان کو کم کرنے کی تربیت بھی ایسی ٹیکنالوجیز سے دی جا رہی ہے۔ حال ہی میں جنوبی کوریا کی ایک کمپنی نے کورونا کی بندشوں کے دوران اپنا سارا عملہ اور دفتر اوگمنٹڈ ریالٹی پر تبدیل کر لیا۔ تمام ملازمین مادی دفتر میں حاضری کی طرح گھر سے حاضری لگواتے، ایک دوسرے سے بات اور میٹنگز کرتے جبکہ اوقات کار کے دوران غائب ہونے کی صورت میں ان کی نشاندہی بھی ممکن تھی۔ اس نظام کو نہ صرف پذیرائی ملی بلکہ کچھ ملازمین نے اسے دفتر جانے سے زیادہ پیداواری بھی پایا

مستقبل میں یہ ٹیکنالوجیز کیسے ہماری زندگی کا حصہ بنیں گی اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا لیکن ان ٹیکنالوجیز کی بدولت کوئی بھی شخص اپنی مصنوعی حقیقت اور دنیا بنا سکتا ہے۔ درحقیقت یہ ٹیکنالوجیز خالی کینوس کی مانند ہیں جن میں اپنی مرضی سے رنگ، اشیاء اور کہانیاں بھری جا سکتی ہیں اور اپنے ذہن میں موجود خیالات اور تخیلات کو ایک مصنوعی حقیقت میں بدل کر مادی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کسی بھی اور ٹیکنالوجی کی طرح ان کا غلط استعمال بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے لیکن شر پسند ذہن ساز انہیں استعمال کر کے اس حقیقت کی ترویج مزید موثر طریقے سے کر سکتے ہیں جسے وہ اصل حقیقت کے متوازی ایک حقیقت گھڑ کے پیش کیا کرتے ہیں۔ ایسے میں ہمیں ہونے والی جدتوں کو سمجھنے اور اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے کے ہم کس حقیقت میں زندہ ہیں؟

Facebook Comments HS