پریانتھا کمارا: سری لنکن شہری کے قتل میں گرفتار 89 ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت کا آج سے آغاز

احتشام احمد شامی - صحافی، گوجرانوالہ


پریانتھا کمارا
پاکستان میں توہین مذہب کے الزام میں قتل ہونے والے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے کیس کی سماعت پیر (آج) سے انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت میں شروع ہو رہی ہے۔

گوجرانوالہ ڈویژن کی جج نتاشہ نسیم سپرا کوٹ لکھپت جیل لاہور کے کورٹ روم میں روزانہ کی بنیاد پر اس کیس کی سماعت کریں گی۔

پہلے روز کی کارروائی کے لیے عدالت نے استغاثہ کے 14 گواہان کو طلب کر رکھا ہے جو کہ اپنے بیانات قلمبند کروائیں گے۔

یاد رہے کہ تین دسمبر کو وسطی پنجاب کے شہر سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں توہین مذہب کے الزام میں مینیجر پریانتھا کمارا کو مبینہ طور پر فیکٹری ملازمین سمیت ایک مشتعل ہجوم نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا اور بعدازاں اُن کی لاش کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھی نوٹس لے کر ملزمان کو سخت سے سخت سزا دلوانے کا اعلان کیا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق خصوصی اہمیت کے حامل اس مقدمے میں ملزمان کی گرفتاری اور چالان کی تیاری کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں اور لگ بھگ دو سو افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے 89 ملزمان کو جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے قصوروار قرار دے کر باقی افراد کو چھوڑ دیا گیا تھا۔

سیالکوٹ پولیس نے مقدمے کا چالان تین ماہ بعد چار مارچ کو عدالت میں پیش کیا تھا، حالانکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے مطابق چالان 14 روز کے اندر اندر پیش کیا جانا ضروری ہے۔

اس تاخیر کی وجوہات بتاتے ہوئے تفتیشی ٹیم کے ایک رکن انسپکٹر طارق محمود کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ ہجوم کے ہاتھوں قتل تھا اور اس میں ملزمان کا تعین کرنا عام قتل کیس سے بالکل الگ اور ایک مشکل کام تھا اس لیے قانونی شہادتیں اس قدر پیچیدہ تھیں کہ اُن میں وقت لگا۔ ’تاہم ہم نے ہر لحاظ سے کیس کو مضبوط بنایا ہے۔‘

قانونی ماہرین کے مطابق یہ پولیس اور پراسیکیوشن (استغاثہ) کے لیے ٹیسٹ کیس ہے جس کی تفتیش پر معمول کی نسبت کہیں زیادہ وسائل استعمال ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ پریانتھا کی اہلیہ نے وزیر اعظم سے انصاف کا مطالبہ کیا تھا۔

پریانتھا کمارا

فرد جرم کی عدالتی کارروائی

سنیچر کے روز انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کی جج نتاشہ نسیم سپرا فرد جرم کی کارروائی کرنے کے لیے کوٹ لکھپت جیل لاہور پہنچی تھیں۔

پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے اس مقدمے کی سماعت کے لیے دو ہفتے قبل تمام گرفتار ملزمان کو سینٹرل جیل گوجرانوالہ سے کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کر دیا تھا، جہاں جیل کے کورٹ روم میں ہی مقدمے کی باقاعدہ سماعت ہو گی۔

فرد جرم کی کارروائی کے لیے کورٹ روم میں تمام 89 ملزمان پیش ہوئے۔ عدالت نے ملزمان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے انھیں اس کی نقول فراہم کیں۔ اس موقع پر تمام ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار 89 میں سے 80 ملزمان بالغ جبکہ نو نابالغ ہیں۔ نابالغ ملزمان کے خلاف الگ سے چالان جوینائل ایکٹ کے تحت پیش کیا گیا اور قانونِ نابالغان کے تحت ہی ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔ باقی 80 ملزمان کو اپنے خلاف انسداد دہشت گردی کے معمول کے قانون کا سامنا کرنا ہو گا۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت آج 14 مارچ کے لیے ملتوی کر دی تھی اور اسی روز شہادتیں بھی طلب کی ہیں۔ عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ 14 مارچ سے مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے گی تاکہ کیس کا جلد فیصلہ سُنایا جا سکے۔

پریانتھا قتل کیس: ملزمان کے خلاف چالان میں کیا ہے؟

جے آئی ٹی کے ایک رکن انسپکٹر طارق محمود نے بتایا ہے کہ عدالت میں پیش کیے جانے والے ریکارڈ کے مطابق اس واقعے میں گرفتار 89 ملزمان میں سے 15 کو قتل کا براہ راست ملزم قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہجوم کے ہاتھوں قتل کے واقعات میں ملزم کی شناخت اور سزا کیسے ہوتی ہیں؟

ملک عدنان: وہ ہیرو جو پریانتھا کی جان بچانے کے لیے ان کی ڈھال بنا

پریانتھا کمارا کی تدفین: ’ایسے تو کوئی جانور کو بھی نہیں مارتا‘

پاکستان میں مشتعل ہجوم آخر قانون ہاتھ میں کیوں لیتا ہے؟

ان کے مطابق فیکٹری کے اندر اور باہر لگے کیمروں سے حاصل کردہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور قتل کے وقت کی موبائل فون لوکیشن کے مطابق یہ پندرہ ملزمان پریانتھا کمارا کے قتل کے وقت جائے وقوعہ پر پائے گئے تھے۔ ان میں سے 14 ملزمان کا قتل میں متحرک کردار رہا اور ایک ملزم باقی افراد کو قتل کی ترغیب دیتا رہا۔

پریانتھا کمارا

پاکستان کے قانون کی رو سے ترغیب دینے والے ملزم کا کردار بھی وہی ہے جو کہ قتل میں حصہ لینے والے باقی 14 افراد کا ہے۔ اس لیے ان تمام 15 ملزمان کو چالان میں قتل کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

باقی 74 ملزمان کے خلاف چالان متفرق الزامات کے تحت پیش کیا گیا ہے جن میں پریانتھا کمارا کی لاش کی بے حرمتی کرنا، لاش کو آگ لگانا، گاڑی کو نذر آتش کرنا اور روڈ بلاک کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق اس واقعے کے بعد پولیس نے 320 کیمروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج کا ریکارڈ حاصل کیا اور اس سارے ریکارڈ کی جانچ پنجاب فرانزک لیب لاہور سے کروائی گئی۔

پولیس نے چالان میں 37 اشیا کی برآمدگی ڈالی ہے جن میں دو قینچیاں بھی شامل ہیں جن سے، پولیس کے مطابق، پریانتھا کمارا پر وار کیے گئے تھے۔

استغاثہ کی جانب سے 45 گواہوں، واقعے کی ویڈیوز، ڈیجیٹل شواہد، ڈی این اے شواہد اور فرانزک شواہد کو چالان کا حصہ بنایا گیا ہے۔

مقدمے کے سرکاری گواہان میں پولیس کے علاوہ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اور نقشہ نویس بھی شامل ہیں۔

سینیئر قانون دان شہروز شبیر چوہان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پریانتھا قتل کیس پنجاب پولیس کے لیے ٹیسٹ کیس ہے کیونکہ جتنے سرکاری وسائل اس کیس میں استعمال کیے گئے، شاید ہی کسی اور کیس میں استعمال کیے گئے ہوں۔

شہروز شبیر چوہان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ’ماہر پولیس افسران اور پولیس کے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کا تیار کردہ چالان کتنا مضبوط ہے، یہ تو ٹرائل میں ہی پتا چلے گا۔‘

’جب فریقین کے وکلا بحث کریں گے تو تمام صورتحال کُھل کر سامنے آ جائے گی۔ فی الحال پولیس کے دعوؤں پر یقین نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33040 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments