عمران خان خودکشی پہ کیوں اتر آئے ہیں
پیپلز پارٹی کے کامیاب اور تاریخی لانگ مارچ، اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد سے وزیراعظم پاکستان مسلسل اپنے منصب اپنے عہدے کی توقیر و تکریم کو بیچ چوراہے بے عزت و رسوا کر رہے ہیں۔ ان کی پچھلے ایک ہفتوں کی سرکاری سرگرمیوں اور انداز بیاں سے لگتا ہے کہ وہ ”ہم تو ڈوبیں گے صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے“ کے مقولے پہ عمل پیرا ہیں اور وہ پورے جمہوری آئینی سسٹم کے درپے بنے ہوئے ہیں۔ خان صاحب ذاتی اقتدار کو طول دینے کے لیے آئینی قانونی آپشنز استعمال کرنے کے بجائے خودکشی بلکہ اجتماعی سیاسی خودکشی کرنے جا رہے ہیں۔ ان کی ان ہی غیر سنجیدہ اور غیر دانشمندانہ سیاسی سرگرمیوں اور اقدامات کی وجہ سے ان کے اپنے اور اتحاد اب اپنا سیاسی مستقبل غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان سرعام عوامی اجتماعات میں جس طرح کی ناشائستہ گفتگو اور دشنام طرازی اپنے مخالفین کے ساتھ ساتھ ملک کے مقتدر قومی اداروں اور ان کے سربراہان کے خلاف کر رہے ہیں وہ اس بات کا مظہر ہے کہ ان کانپیں ٹانگ رہی ہیں اور وہ بوکھلائے ہوئے اپنے آپ کو انتہائی غیر محفوظ وزیراعظم مان چکے ہیں۔
اوڈولف ہٹلر کے آخری ایام میں اس کو بھی یہ زعم تھا کہ وہ ناقابل شکست اور ناقابل بدل ہے۔ اس کے اس زعم کو ہوا دینے والے اس کے چمچے حواری تھے جو اسے سب ٹھیک ہے اور کنٹرول میں ہے کی رپورٹس دیتے تھے، آج وزیراعظم عمران خان کو بھی بالکل ویسی ہی صورتحال درپیش ہے۔ ان کے ساتھ غیر نظریاتی، غیرسیاسی مصاحبین کا ایک ہجوم ہے جو انہیں آل از ویل کی رپورٹس دے رہا ہے۔ انہیں خوش کرنے کے لیے خان صاحب کے مخالفین کو خان صاحب سے بھی زیادہ مغلظات بک کر شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں لگا ہوا ہے یہ سوچے سمجھے اور جانے بغیر کے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یقینی ہے اور پھر اپوزیشن ان کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرے گی۔
وزیراعظم عمران خان کنٹینر پہ کھڑے ہو کر کہتے تھے کہ اگر ان کے خلاف سو دو سو لوگ بھی کھڑے ہو کر گو عمران گو کا نعرہ لگائیں گے تو وہ اقتدار کو ٹھوکر مار کر کرسی چھوڑ دیں گے۔ لیکن اقتدار اور اختیار جب ملتا ہے تو انسان اپنا آپا بھول جاتا ہے اور اقتدار و طاقت کے نشے میں مدہوش ہو کر نعوذ باللہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگتا ہے، خان صاحب کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے، اسی لیے مولا علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا تھا کہ ”جب کسی کم ظرف کو اقتدار، اختیار اور طاقت ملتی ہے تو وہ بدلتا نہیں بلکہ بے نقاب ہوجاتا ہے“ خان صاحب آپ بدل نہیں گئے بلکہ بے نقاب ہو گئے ہیں۔
تحریک عدم اعتماد کسی بھی اپوزیشن کا آئینی جمہوری حق ہے۔ اور حکومت کا بھی آئینی اور جمہوری حق کہ وہ اس تحریک کو ناکام بنانے کے اقدامات کرے، مگر اگر کسی بھی طرف سے جمہوری، آئینی، اخلاقی، اسلامی اور انسانی اقدار کی دھجیاں اڑائی جائیں تو یہ اجازت نہ ہمارا آئین، قانون دیتا ہے نہ ہی اس کی گنجائش شریعت میں ہے، انسانی تقاضوں کے مطابق بھی یہ قبیح فعل کہلائے گا۔ وزیراعظم خان صاحب بھی آج کل ایسے ہی اقدامات اٹھانے میں پیش پیش ہیں، ان کی جماعت اپوزیشن کو لتاڑنے ان کی کردار کشی، گالم گلوچ میں تمام اخلاقی اور انسانی اقدار کو پامال کرنے میں لگی ہوئی ہے ان کی انہیں حرکات و اعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی خان صاحب کے سر سے اونچا ہو چکا ہے، اب جی کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
” دشمنی جم کر کرو، لیکن یہ گنجائش رہے،
جب ہم دوست ہوجائیں تو شرمندہ نہ ہوں ”
آج وزیراعظم عمران خان ایسے لوگوں کے ہجوم میں چاروں طرف سے گھرے ہوئے ہیں جو ان کا سروائیول نہیں چاہتے بلکہ انہیں تباہی و ناکامی کی دلدل میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ ایسے ناعاقبت اندیش مصاحبین سے خان صاحب کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو آئینی جمہوری حق کے استعمال کو حق و باطل کا معرکہ قرار دے کر عوام میں اشتعال و شر پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور خان صاحب کو ایک ایسی بند گلی میں دھکیل رہے ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہ بچے۔
شیخ رشید احمد اور فواد چودھری جیسے لوگ خان صاحب سے اپنے اتحادیوں سمیت اپنی ہی پارٹی کے اراکین کو متنفر کر چکے ہیں، سونے پہ سہاگہ خان صاحب کی مخالفین کے خلاف انتہائی ناشائستہ غیراخلاقی زبان درازی نے جلتی پہ تیل کا کام کیا ہے۔ خان صاحب اپنی ہر تقریر میں ریاست مدینہ کے ماڈل کی بات کرتے ہیں مگر جب جوش خطابت میں ان کی زبان شعلے اگلتی ہے تو وہ ریاست مدینہ کے اقدار، نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت ان کے افکار و گفتار کو بالکل پس پشت رکھ دیتے ہیں۔ سورت حجرات کی آیت نمبر 11 میں اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ
” اے ایمان والو! ایک قوم دوسری قوم سے ٹھٹھا نہ کرے عجب نہیں کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے ٹھٹھا کریں کچھ بعید نہیں کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور ایک دوسرے کو طعنے نہ دو اور نہ ایک دوسرے کے نام دھرو، فسق کے نام لینے ایمان لانے کے بعد بہت برے ہیں، اور جو باز نہ آئیں سو وہی ظالم ہیں۔“
تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے یا ناکام یہ تو آنے والے چند روز میں معلوم ہو جائے گا مگر اس تحریک کے نتیجے میں پاکستان کے اسلامی معاشرے، اخلاقی اقدار کی جو دھجیاں خان صاحب اور ان کے اکابرین و مصاحبین نے اڑائی ہیں اس کے اثرات کئی سالوں بلکہ دہائیوں تک پاکستان کے سیاسی، اخلاقی، معاشرتی اور اسلامی اقدار میں نظر آتے رہیں گے۔ وزیراعظم عمران خان تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد بھی مزید کچھ عرصے تک ہی مسند اقتدار رہ سکیں گے یا پھر تحریک عدم اعتماد کی کامیابی پہ فوری طور پہ اقتدار سے علیحدہ ہوجائیں گے لیکن اگر وہ ایک سیاسی جماعت کے رہنما کے طور پر سیاسی منظرنامے پہ اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو اپنے انداز حکمرانی کو، اپنے انداز گفتگو کو اور اپنے تکبر و رعونت کو قابو میں رکھنا ہو گا کیوں کہ یہ ساری قباحتیں انہیں سیاسی خودکشی کی جانب دھکیل رہی ہیں یا پھر ایسا لگتا ہے کہ وہ خود سیاسی خودکشی کرنا چاہ رہے، مگر کیوں، اور اس کیوں کا جواب صرف خان صاحب ہی دے سکتے ہیں۔


