قصہ ماسکو میں قلم خریدنے کا


نہ جانے کیوں ماسکو میں رہتے رہتے ہمیں یہ خیال آیا کہ یہاں جہاں نابغۂ روزگار ادیبوں نے زندگی بسر کی اور اپنی تحریروں کے لوح عالم پر انمٹ نشان چھوڑ گئے۔ وہاں ہم بھی کیوں نہ انگلی کٹوا کر شہیدوں میں شامل ہو جائیں۔ اس اچھوتے خیال کی آمد سے جو پہلا مسئلہ درپیش ہوا وہ یہ تھا کہ تحریر کیا جائے تو کیا تحریر کیا جائے؟ یعنی کس صنف سخن کو اعزاز تحریر سے نوازا جائے۔ جن اصناف سخن کے ناموں سے ہم واقف ہیں ان میں پہلے ہی اتنا کچھ رقم کیا جا چکا ہے کہ اسے پڑھنے کے لئے بھی قاری میسر نہیں ایسے میں مزید لکھنے کا فائدہ؟ اب ہمارے ذہن میں ایک اور اچھوتے خیال نے جڑ پکڑ لی کہ کیوں نہ ایک بالکل نئی صنف سخن بذات خود ایجاد کریں۔ آخر ساری اصناف سخن انسانوں ہی نے تو ایجاد کی ہیں!

چونکہ ہمیں معلوم اصناف سخن یعنی مضمون، افسانہ، انشائیہ، ناول، رپورتاژ، سفرنامہ وغیرہ محدود چند تھیں۔ چنانچہ یہ بات کافی ممکن لگی کہ اس شعبے میں طبع آزمائی سے یقیناً مفید نتائج برآمد ہوسکتے ہیں لیکن شبانہ روز غور و خوض کے باوجود یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ ایسی کون سی نئی قسم میں اپنی تحریر کو ڈھالیں کہ یہ میدان مار لیں یہی سوچتے سوچتے ہمیں ایک اور اچھوتا خیال آ گیا اور وہ یہ تھا کہ کیوں نہ اندھا دھند لکھنا شروع کر دیں۔ تحریر کی آخر کوئی نہ کوئی شکل تو ضرور ہوگی! جب یہ تحریر بقدر جثہ اچھی خاصی اور اس قابل ہو جائے کہ اسے کوئی بھاری بھرکم نام دیا جا سکے تو پھر اس بارے میں سوچا جائے کہ اس نئی نویلی صنف سخن کو کیا نام دیا جائے۔

اب جو مسئلہ درپیش ہوا وہ یہ تھا کہ ابتدائی تیاری کے کن مراحل کو پہلے شروع کیا جائے اور کن مراحل کو بعد ازاں اختیار کیا جائے یعنی تقدم و تاخر کا مسئلہ تھا۔ ایک بات کا تو ہم نے فوری فیصلہ کر لیا کہ اپنی مجوزہ تحریر کے لئے سب سے پہلے مختلف جاذب نظر رنگوں کی کاپیاں خریدی جائیں۔ اس کے دو فائدے ہوں گے۔

نمبر1: ان پر کشش کاپیوں کو دیکھ کر ہی ہم میں لکھنے کی تحریک پیدا ہوگی۔

نمبر2: ان مختلف رنگوں کی کاپیوں میں لکھنے سے ہمیں معلوم ہو گا کہ ہم نے کس رنگ کی کاپی میں کس موضوع پر کیا لکھا ہے۔ یا کیا لکھنا ہے۔ اس خیال سے ہمیں بڑی اندرونی مسرت حاصل ہوئی اور ہم نے کاپیاں خریدنے کے مراحل کو لکھنے کے عمل کے پہلے قدم کے طور پر اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

پھر خیال آیا کہ کاپیوں پر تحریر کرنا تو بعد کا مرحلہ ہے تحریر کے لئے اولا تو ہمیں ایک اچھے قلم کی ضرورت ہوگی۔ آج کل تو لوگ بال پوائنٹ سے لکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ لیکن ہم جیسے قدیم خیالات کے لوگ جن کی بہت سی عادتیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ راسخ ہو جاتی ہیں بغیر کسی اور خاص وجہ کے قلم سے لکھنے کے عادی ہیں۔ لیکن دیکھا تو کوئی ڈھنگ کا قلم سرے سے موجود ہی نہ تھا کیونکہ ہم نے پڑھنے اور لکھنے کی زحمت کم ہی اور وہ بھی انتہائی مجبوری کے عالم میں ہی کبھی گوارا کی تھی۔ یہ خیال تو ہمیں اچانک ہی آیا تھا کہ اس شعبے میں ہمیں ضرور طبع آزمائی کرنی چاہیے (خدا جانے یہ خیال کیوں پیدا ہوا؟ ) سو قلم خریدنے کے مرحلے کو ہم نے اپنی ترجیحی فہرست میں پہلا نمبر دے دیا اور یوں یہ مضمون تحریر کرنے کی صورت پیدا ہوئی جسے پڑھنے کی زحمت آپ اس وقت گوارا کر رہے ہیں۔

کام بظاہر آسان لگتا تھا اس لئے ہم نے معمول کے مطابق کمپیوٹر سے ماسکو میں موجود ان بڑی بڑی دکانوں کے پتوں کی فہرست حاصل کی جہاں سے درمیانے درجے کا کوئی کار آمد قلم خریدا جا سکتا تھا۔ پھر خیال آیا کہ کیوں نہ ایک بار، ایک آخری بار، دولت کو آگ لگا ہی دی جائے اور زندگی میں پہلی بار ایک اچھا قلم، یعنی مقابلتاً ایک اچھا قلم، خرید ہی لیا جائے۔ اس سے ذرا دیکھنے والوں پر بھی پڑھا لکھا ہونے کا تاثر جمتا ہے اور خود کو بھی لکھتے ہوئے اچھا محسوس ہوتا ہے۔ بس یہیں سے ہمارے مسائل کی ابتداء ہوتی ہے!

ہم قلم خریدنے ماسکو کے شمال میں اسٹیشنری کے ایک بہت بڑے سپر اسٹور جا پہنچے۔ اس اسٹور سے بڑی بڑی دکانوں کو تھوک پر سامان بذریعہ انٹرنیٹ مہیا کیا جاتا ہے مگر آپ خود بھی وہاں جا کر بنفس نفیس کوئی چیز دیکھ بھال کر خرید سکتے ہیں۔ چنانچہ یہاں عرصے سے مقیم ایک پاکستانی ماہر کو ساتھ لے کر ہم وہاں جا پہنچے۔ اس بہت بڑے اسٹور میں جا بجا مختلف النوع اقسام کے قلم دیدہ زیب شو کیسوں میں سجا کر رکھے گئے تھے اور ان پر قیمتیں بھی درج تھیں۔

چنانچہ ہمیں یہ کام بڑا آسان محسوس ہوا مگر قیمتوں پر نظر پڑتے ہی ہمارے ذہن کو دھچکے لگنے شروع ہو گئے کہ قیمتیں بہت زیادہ تھیں۔ شو کیسوں میں سجے قلموں کو شو کیسوں سے باہر نہیں نکالا جاسکتا تھا۔ اور نہ ہی انہیں کھول کر دیکھا جا سکتا تھا۔ سو ہم نے کاؤنٹر پر موجود خواتین و حضرات سے دریافت کیا کہ ہم کیسے اپنے مطلوبہ قلم کو دیکھ بھال کر خرید سکتے ہیں؟

ان سب نے باہم مشاورت اور کافی غور و خوض کے بعد ہمیں مطلع کیا کہ ہم سامنے موجود بہت سی مشینوں میں سے کسی پر کریڈٹ کارڈ کے ذریعے قلم کی قیمت کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔ مطلوبہ قلم کا نمبر مشین پر لکھنے سے قلم کی قیمت اور شکل و صورت بھی سامنے آ جائے گی۔ سو ہمیں مینول (دستی) خریداری کے عمل سے آگے بڑھ کر مشینی خریداری کی دنیا میں داخل ہونا پڑا۔ جب مشین پر متعلقہ قلموں کے نمبر درج کیے تو کھٹاک سے ان کی تصاویر سامنے آ گئیں، اور ساتھ ہی ان کی قیمتیں بھی۔

لیکن یہ ہمارے لئے کسی جذباتی صدمے سے کم نہیں تھا کیونکہ شو کیسوں میں قلموں پر درج کی گئی قیمتوں اور ان مشینی قیمتوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ چنانچہ ہم دوبارہ کا ؤنٹر پر پہنچے اور وہاں موجود عملے سے درخواست کی کہ وہ اس حوالے سے ہماری رہنمائی فرمائیں اور اس مسئلے کا کوئی حل بتائیں۔ مگر ان سب نے ہماری طرف حیرت سے دیکھا۔ ان کے چہروں سے ناگواری مترشح تھی۔ بہر حال انہوں نے ہمیں مطلع کیا کہ خریداروں کو اس طرح کی معلومات فراہم کرنا ان کے فرائض منصبی میں قطعاً شامل نہیں ہے اور یہ کہ ایسی معلومات ان کے پاس سرے سے موجود ہی نہیں اور مزید یہ کہ جو کچھ ہمیں خریدنا ہے اس کی ادائیگی مشین پر خوب سوچ سمجھ کر درج قیمت کے مطابق کر دیں اور باقی سب قسمت پر چھوڑ دیں لیکن با کمال مہربانی یہ وضاحت کردی کہ چونکہ ڈالر کے مقابلے میں روبل کی قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں اور شو کیسوں میں موجود قلموں پر چسپاں قیمتیں چند دن پہلے کی ہیں جبکہ مشینوں پر لحظہ بہ لحظہ قیمتیں ڈالر اور روبل کی شرح مبادلہ کے مطابق تبدیل ہو رہی ہیں اس لئے قیمتوں میں یہ فرق ظاہر ہو رہا ہے۔ اس گہرے معاشی نکتے کو ہم فوراً سمجھ گئے گو اس سے اس جذباتی صدمے میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی جو قیمتوں کی بلند سطح اور ان میں دیکھتے دیکھتے مسلسل اضافے کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ بہر حال ہم نے مشینی قیمت کے مطابق فوری ادائیگی کردی۔

اب ہمارا خیال تھا کہ چونکہ خریداری کے تمام مراحل بشمول ادائیگی کے مکمل ہو چکے ہیں چنانچہ ہم قلم لیں گے اور واپسی کے لئے روانہ ہو جائیں گے! لیکن ہوا یوں کہ مشین سے ایک پرچی برآمد ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ مشین کے عین سامنے موجود ایک لمبے کا ؤنٹر پر ہمیں ابھی حاضری دینی ہے۔ سو ہم وہاں پہنچے اس کاؤنٹر کی مختلف کھڑکیوں پر نمبر درج تھے۔ اور اس طرح کا ایک نمبر ہماری پرچی پربھی موجود تھا۔ سو ہم کھڑکی نمبر9 کے سامنے پہنچے۔

وہاں موجود خاتون نے برق رفتاری سے ہماری پرچی موصول کی، ہمیں ایک کارڈ عطا کیا اور اس کے بعد اپنے کمپیوٹر پر کسی گہرے مطالعے میں منہمک ہو گئیں۔ چند منٹ کے مطالعے کے نتیجے میں انہوں نے کاغذوں کا ایک بڑا پلندا ہمارے حوالے کر دیا۔ اور کہا کہ کارڈ پر دی گئی ہدایات کے مطابق تمام معلومات کاغذوں کے اس پلندے پر چار جگہوں پر درج کریں اور اپنے ملتے جلتے دستخط کریں۔ ہم نے اپنے ماہر پاکستانی دوست کی مدد سے یہ مرحلہ جاں گسل کسی نہ کسی طور طے کر لیا۔ اور اب سوچ رہے تھے کہ خاتون ابھی کسی دراز سے مطلوبہ قلم نکال کر ہمارے حوالے کر دیں گی۔ لیکن ایسی بھی کیا جلدی؟ ایسی بھی کیا سرعت!

سو انہوں نے کچھ دیر بعد دو عدد مزید پرچیاں جو مشین سے حاصل کی گئی ہماری پہلی پرچی سے طوالت میں چار گنا بڑی تھیں، ہمیں تھما دیں اور ہمیں ایک اور، اس سے بھی کئی گنا بڑے کاؤنٹر پر جانے کا اشارہ کیا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ابھی ہمارا نمبر سامنے لگی بڑی اسکرین پر نظر آئے گا سو ہم نے اسکرین پر نظریں جما دیں اور اس انتظار میں کھڑے رہے کہ کب ہمارا نمبر پردۂ غیب سے منصۂ شہود پر آتا ہے اور کب ہم قلم خریدنے کے جملہ مراحل کے کسی اگلے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتے ہیں۔

کافی دیر بعد اچانک ہمارا نمبر پردہ ٔاسکرین پر نمودار ہوا۔ یاد رہے کہ اس سارے عرصے میں سامنے کے سارے کا ؤنٹر مکمل طور پر ویران پڑے تھے اور ان پر کوئی خریدار موجود نہیں تھا جبکہ سارے کا سارا عملہ وہاں نہ صرف موجود بلکہ مستعد کھڑا تھا چونکہ اب شام ہو چکی تھی اور شنید یہی تھی کہ زیادہ تر خریدار دن دن میں خریداری کر لیتے ہیں۔ اور شام کو شومئی قسمت سے ہی کوئی ہم جیسا قسمت کا مارا خریدار وہاں آتا ہے۔ مگر مشینوں نے تو اپنا کام مشینی انداز سے ہی کرنا ہوتا ہے۔

وہ تو اس دن والی رفتار اور تسلسل سے خود کارانہ طور پر اپنا کام کرتی تھیں۔ خیر ہم بھاگم بھاگ اپنے کاؤنٹر پر پہنچے۔ وہاں موجود ایک صاحب نے ہم سے متعلقہ کاغذوں کا پلندا وصول کیا اور بنظر غائر ان کا مطالعہ شروع کر دیا۔ ایک ایک لفظ کو بغور پڑھنے کے بعد جھٹ سے انہوں نے ایک الماری سے ایک ڈبہ نکالا اور اسے اپنے پاس رکھ لیا۔ ہم للچائی ہوئی نظروں سے اس ڈبے کو دیکھ رہے تھے جس میں ہمارا مطلوبہ قلم یقیناً موجود تھا۔

مگر اس کے بعد انہوں نے کاغذات کا ایک نیا پلندا اپنی دراز سے برآمد کیا بالکل ایسے ہی جیسے جادوگر اپنی ٹوپی سے کبوتر یا خرگوش نکالتا ہے۔ اور اسے مزید خانہ پری کے لئے ہمارے سامنے رکھ دیا۔ ہم نے ایک بار پھر اپنے ماہر پاکستانی ساتھی کی مدد سے ان کاغذات کو پر کرنا شروع کر دیا۔ جب کاغذات پر ہو گئے تو اس نے مخصوص مقامات پر دستخط کرنے کو کہا۔ دستخط ثبت ہو چکے تو اس دوران میں ہماری انتہائی کوشش تھی کہ ہم ان صاحب سے مطلوبہ قلم کی جملہ خصوصیات دریافت کریں مثلاً کیا اس میں عام روشنائی استعمال کی جا سکتی ہے یا اس میں صرف ری فل ہی استعمال ہو گا لیکن انہوں نے ہمیں شفاف الفاظ میں بتایا کہ وہ اس قلم کی خصوصیات سے قطعاً آگاہ نہیں ہیں اور ان کے فرائض منصبی میں صرف کاغذات کی خانہ پری اور قلم کی حوالگی شامل ہیں۔

سو طوعاً و کرہاً ہم نے وہ بند ڈبہ وصول کیا۔ ہم دونوں گہر مراد پا لینے پر از حد خوش تھے۔ ہم نے جلدی جلدی ڈبے کو کھولا۔ مگر اس میں سے جو قلم برآمد ہوا اسے اس حد تک قلم تو کہا جا سکتا تھا کہ اس کا اوپر کا ڈھکنا اور نیچے کا ڈھکنا موجود تھا۔ علاوہ ازیں اس کی نب بھی موجود تھی۔ اس کے علاوہ اس میں کچھ نہیں تھا، یعنی ری فل نہ روشنائی بھرنے کی سہولت۔ خریداری کے ان جملہ مراحل سے گزرتے گزرتے اتنی دیر ہو چکی تھی اور ہم اتنا تھک چکے تھے کہ ہماری ہمت جواب دے گئی تھی اور اب ہم جلد سے جلد واپس جانے کی سوچ رہے تھے چنانچہ یہ سوچتے ہوئے واپس روانہ ہو گئے کہ اب اس بارے میں مزید غور و خوض اور اگلے مراحل کی منصوبہ بندی گھر واپس پہنچ کر کریں گے کیونکہ یہ قلم ہمارے کسی کام کا نہیں تھا۔ اور اس قلم کی واپسی کے لئے بھی اتنے ہی مراحل سے گزرنا تھا جتنے اس کی خریداری میں پیش آئے تھے۔

Facebook Comments HS