این آر او دینے والوں نے خود این آر او لے لیا
پاکستان کی قومی سیاست میں این آر او کی اصطلاح اس قدر زیادہ استعمال کی گئی کہ ہر خاص و عام کو اب اس کی باقاعدہ سمجھ ہے۔ اس این آر او کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب پاکستان کا نظام عادل بے بسی کی تصویر بنا یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ اس کا ملزم بلکہ مجرم جدہ کے شاہی محل میں پہنچ چکا ہے۔ پھر یہ این آر او والا سلسلہ ایسا چلا کہ دبئی میں بھی اس کی بازگشت سنائی دینے لگی اور اس دفعہ دینے والے تو وہی تھے مگر لینے والے بدل چکے تھے۔
یوں پاکستان میں موجود لوگوں کے گناہ نیکیوں میں بدل گئے اور وہ ریاست کی خدمت میں جت گئے مگر اچانک ان کو جسے الہام ہوا کہ یہ لوگ گناہوں سے باز نہیں آ رہے تو ایک متقی اور پرہیز گار کی تلاش شروع کر دی گئی مگر ان کے پرانے وفادار نے ان کو بین الاقوامی دوستوں کی مدد سے یقین دہانی کرا دی کہ اب کی بار خدمت میں کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ اس یقین دہانی کے بعد جیپوں پر اکٹھے سفر ہوئے اور غیر ملکی دوروں پر بھی یہ بندھن نہ ٹوٹا۔
یہی تاریخ کا دھارا پھر بدلا اور عدم اعتماد نے پھر جگہ بنانا شروع کردی اور متقی اور پرہیزگار شخصیت نے اس قدر ریاضت کی کہ عبادت قبول ہو گئی اور جناب کو تیاری شروع کرا دی گئی۔ متقی اور پرہیز گار نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور وہ دعوے بھی کرنا شروع کر دیے جن کی عملداری کا کسی کو بھی یقین نہ تھا، مگر انا کی تسکین کے لئے اس بار بیوفائی کرنے والے کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ اب اس کے 70 سالہ اعمال کو دوربین میں رکھ کر منصفوں کے سامنے پیش کر دیا گیا اور منصف بھی وہ جنہوں نے میزان کی حرمت کو کسی کے آگے گروی رکھ کر انصاف اور طاقتور کو سزا دینے کا بیانیہ اس طرح عام کرنا شروع کر دیا کہ مسیحا آ گئے ہیں اور اب راج کرے گی واٹس ایپ، مگر کہتے ہیں کہ دوست ایک دوسرے کے لئے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
کل کے دوست اب اپنی اپنی طاقت دکھانے پر مصر تھے ایک دوست نے جی ٹی روڈ کا راستہ اختیار کیا اور دوسرے دوست نے تمام راستوں کو بند کر کے اپنے رازوں کو جیل میں ہی بند کر دیا اور کہا، طاقت کا سر چشمہ وہ ہیں اب جیل میں بیٹھ کر توبہ کرو مگر اس دوست نے جیل میں ایک وظیفہ کا آغاز کر دیا اور روزانہ کی بنیاد پر ”این آر او کالا متناہی ورد شروع کر دیا اور بالآخر قبولیت کا وقت آ گیا اور غیر مرئی قوتیں وظیفہ گزار شخصیت کو لندن کے پرفضا مقام پر لے گئیں اور اپنی تمام تر توانائیاں مملکت خدا داد کو سنوارنے میں لگا دیں۔
مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا اور متقی اور پرہیز گار شخصیت نے اپنے آپ کو مرشد اور عقل کل قرار دے دیا اور اپنے ہمدردوں اور کرم فرماؤں کو مرید سمجھنا شروع کر دیا اور فیصلے مسلط کرنا شروع کر دیے۔ مرشد کامل نہ تھا اور آہستہ آہستہ مریدوں پر اس کے سارے راز افشا ہو گئے۔ پیر کی حالت اب ایسی ہو گئی ہے کہ لوگ اب اس کو نیاز بھی نہیں دیتے اور اس کے آستانے کے در پے بھی ہیں، مگر پیر اب بھی اپنے دعوے پر قائم ہے کہ اس کے دم میں اثر ہے اور تمام بیماریوں کا خاتمہ اس کی پھونک میں چھپا ہوا ہے، مگر این آر او کی طلسماتی طاقت رکھنے والوں نے شاید کوئی نیا بابا تلاش کر لیا ہے اور وہ بابا این آر او کی طاقت رکھنے والوں کو بھی ایک نئی روح بخشے گا جو ان کے لئے بھی بہت ضروری ہو چکی ہے۔
پرچیوں پر نام لکھ کر قرعہ نکالا جا رہا ہے ہر پرچی والا اپنے آپ کو بابا ہی تصور کر رہا ہے اور بڑھ چڑھ کر بتا رہا ہے کہ اس کے مریدوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس کے پاس بگڑے حالات کو ٹھیک کرنے والا تعویز ہے۔ بابا کو یہ خود معلوم نہیں کہ اس کا چناؤ کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے اور وہ کتنے عرصے تک کامل رہتا ہے اور اس کے بعد اس کو بھی ایک نیا بابا تلاش کرنا ہے کہ اس گناہ سے بہت بڑھ گئے ہیں اور اس کے لئے صدقے کی ضرورت ہے۔
بہر حال اس وقت بابا منتخب کرنے والے بھی پریشان ہیں کہ اس دفعہ بابا کس طرح منتخب کیا جائے اور پرانا بابا ان کے راز بھی افشا نہ کرے۔ پرانے بابے کو چاروں طرف سے چیلے والے بابوں کے حملے کا سامنا ہے۔ مگر موجودہ بابے نے سب کچھ دیکھا ہوا ہے اور اس کے پاس ایسے موکلات ہیں کہ وہ بندے ہی غائب کر دیتے ہیں اب بس اس کا فیصلہ ہونا ہے کہ اس بابے کے پاس وہ موکلات ہیں کہ انہیں اگر وہ موکلات کو ہدیہ کر دیے گئے ہیں تو بابا جی کو ملک میں بنے بہترین لنگر خانوں کے کھانوں کو چکھنے کا بھرپور موقع مل جائے گا اور ایک نئی ریاضت کا آغاز ہو جائے گا۔


