زبان اگرچہ گوشت کا لوتھڑا ہے


ایک کہاوت کہہ لیجیے یا ایک دانشورانہ قول سمجھ لیجیے جس میں زبان کی اہمیت یا زبان کے استعمال کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یعنی زبان اگرچہ گوشت کا لوتھڑا ہے پر مارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب اس بات کو کسی بھی زاویے سے پرکھیں نتیجہ وہی نکلے گا جو اس کا ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید میں سورة حجرات میں غلط ناموں اور برے القابات سے منع فرمایا گیا ہے۔ غیبت کو مرے ہوئے بھائی کے گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ آواز کو اونچا رکھنے کے بجائے دھیمی اور نیچی رکھنے کا کہا گیا ہے۔

حدیث کا مفہوم ہے کہ تم کسی کے جھوٹے خدا کو بھی برا بھلا نہ کہو کہیں وہ تمھارے سچے خدا کو برا بھلا نہ کہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تلوار کی چوٹ یا تلوار کا زخم مندمل ہو سکتا ہے پر زبان کا زخم تادم زیست پیوند ہونے سے قاصر رہتا ہے۔ زبان واحد گھوڑا ہے جس کو سواری کے بغیر لگام دیا جاتا ہے۔ زبان واحد چڑیا ہے جب یہ چوں چوں شروع کرتی ہے تو اسے چونچ بند رکھنے کی تنبیہ دی جاتی ہے۔ اگر کوئی زبان کو بڑی شائستگی سے استعمال کرتا ہے تو خوش زبان اور رطب اللسان اور با اخلاق آدمی سمجھا جاتا ہے جبکہ اگر کوئی زبان کو غیر شائستہ استعمال کرتا ہے تو انھیں بد زبان، چرب زبان اور بد اخلاق پکارا جاتا ہے۔

پھر بندے بندے کی حیثیت میں بھی فرق ہوتا ہے اگر بندہ معاشرتی طور پر اس حیثیت کا نہیں ہے کہ اس پر سماجی حیثیت کے حوالے سے انگلی اٹھائی جائے تو ایسے بندے کو اس کے محدود دائرے تک دھتکارا جاتا ہے لیکن اگر ایک فرد سارے سماج کے سب سے اونچے منصب پر فائز ہو تو ایک تو بصر کے حوالے سے ہر کسی کو دکھائی دیتا ہے دوسرے سمع کے حوالے سے بھی ہر کسی کے سماعتوں سے بھی جڑے رہتے ہیں۔ جیسے کہ آج کل ہماری سیاست میں ہو رہا ہے۔

گالم گلوچ، تان و تشنیع، برا بھلا، زبان درازی تو جیسے سیاست کا جز لازم بن چکا ہو۔ ایسا کیوں ہے۔ یہ میری دانست میں اس لئے ہے کہ بظاہر ہر کوئی سیاست کو خدمت سمجھ کر عوام کے سامنے آتا ہے لیکن خدمت میں تو معاشی نقصان ہوتا ہے، پیسے کمائے نہیں لگائے جاتے ہیں۔ خدمت میں شراکت داری اور تقسیم کار ہوتا ہے۔ لیکن کیا کرے جب خدمت کے نام پر کاروبار شروع ہو جائے اور لگانے کے بجائے کمانے لگ جائے تو پھر خدمت میں ساجھے، داری تقسیم کار کے بجائے مارکیٹنگ شروع ہوجاتی ہے اور مارکیٹنگ میں ”مکمل مقابلہ“ کے اصول اپنائے جاتے ہیں۔

”گو سلو“ کے پالیسی پر چلنا پڑتا ہے۔ مکمل اجارہ داری یا مارکیٹ موناپلی کو اپنایا جاتا ہے۔ تو ایسے میں اگر کوئی فریق دوسری جانب سے اگر اس سب سیٹ اپ کو وقت سے پہلے چھیڑتا ہے تو متعلقہ یا متاثرہ فریق کو تو ٹھیس ضرور پہنچی گی کون اپنا جمع جمایا کاروبار چھوڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب دوسرا فریق یہ سب کچھ دے کر کر خدمت کے نام پر ایسا ہی کرنے کے لئے پر تول رہا ہوتا ہے تو ایسے میں مفادات کا ٹھکراؤ تو ہونا ہی ہونا ہے۔

اور جب مفادات معاشی ہو تو پھر معاش کا پہلا اصول اخلاقیات سے شروع ہوتا ہے اور اخلاقیات پر ہی ختم ہوتا ہے۔ اب ضروری نہیں کہ ہر کسی کے اخلاق اونچے ہوں اگر بندہ با اخلاق ہو تو سارے مسئلے اور قضیے کو باتوں سے ہموار کرنے کی کوشش کرے گا اور اگر وہ با اخلاق نہ ہو تو وہ مسئلے کو سلجھانے کے بجائے الجھا کر گالم گلوچ، دھینگا مشتی اور باتوں کے بجائے لاتوں تک لے آئے گا۔ کہنے والے ایسے موقعوں پر یہ بھی کہتے ہیں کہ شریف شرفا اپنے گندے کپڑے گھر کے اندر دھوتے ہیں پر شرافت سے بالا تر چادر اور چاردیواری کی پرواہ کیے بغیر باہر گلی میں میل کچیل نکالنا شروع کر دیتے ہیں۔

ایسے میں پھر دور کی لڑائی نہیں، لڑائی محلے سے شروع ہوتی ہے۔ لیکن اکثر دکھا گیا ہے کہ ایسے میں بیچ بچاؤ کرنے والا ثالث حتی الامکان کوشش کرتا ہے کہ مسئلے کو کسی طریقے سے رفع دفع کرے لیکن دیکھا گیا ہے کہ وہی ثالث اکثر دونوں جانب کے مکوں اور لاتوں کی زد میں آ کر زخمی ہوجاتا ہے۔ اور ایسے میں یا تو وہ ثالث دونوں سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے یا پھر دونوں کے گریبانوں تک ہاتھ لمبے کرتا ہے اور دونوں کو اپنے قابو میں کرتا ہے۔

تماشا دیکھنے والے دیکھتے ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں اور پھر صرف اس لڑائی اور ثالث کے کردار پر بحث و مباحثے پر ایک بار پھر وقت گزاری کے لئے اپنے اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ تو بات میں زبان کی کر رہا تھا ہر چھوٹی بات ایک لفظ سے شروع ہوتی ہے اور ہر بڑی بات ایک لفظ پر ختم ہو سکتی ہے اگر کوئی اس کو سمجھنا اور ختم کرنا چاہتا ہو۔

Facebook Comments HS