تیسری خواتین کانفرنس۔ احوال


ہر برس ماہ مارچ کی ابتدا ہوتے ہی ” عالمی یوم خواتین“ کی صدا سنائی دیتی ہے۔ عالمی یوم خواتین کی ایک پوری تاریخ ہے جس پر فدویہ سمیت دوسری بہت سی خواتین لکھ چکی ہیں۔ پاکستان میں پچھلے پانچ برس سے یہ صدا ایک گونج کی صورت نمایاں ہوئی ہے۔ ماہ مارچ ”عورت مارچ“ کے حوالے سے مقبول ہو گیا ہے۔ آرٹس کونسل کراچی میں یوم خواتین کے حوالے سے رواں برس بھی تیسری وومن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ دس مارچ کو افتتاحی سیشن کے بعد صنفی امتیاز، صنفی تفاوت پر سیشن ہوا جس کی گفتگو کا ماحصل یہ تھا کہ

سماج اور معاشرے کی بہتری کے لئے سول سوسائٹی کو بھی کام کرنا ہو گا، معاشرے میں صنفی امتیاز کی بنیاد پر کیے جانے والے جرائم کو یہ کہہ کر ٹالا نہیں جا سکتا کہ یہ چند برے لوگ کر رہے ہیں۔ خواتین کی صحت کے حوالے سے ایک مفید سیشن کیا گیا، جس میں کراچی کی تجربے کار قابل ڈاکٹرز و گائنا کالوجسٹس نے گفتگو کی۔

دوران گفتگو سیشن میں دوران زچگی اموات اور دوران حمل کی پیچیدگیوں پر بات کی گئی۔ کیا دوران زچگی اموات کے لئے پاکستان میں کوئی قانون ہے۔
کیا پاکستان میں دوران حمل اور زچگی عورت کے لئے سازگار ماحول ہوتا ہے۔ کیا عورت کو اپنی زندگی اپنے جسم پر اختیار ہے کہ وہ کب بچہ پیدا کرنا چاہتی ہے، کیا شادی شدہ جوڑوں میں بچوں کی پیدائش میں وقفہ اور دوران حمل کی پیچیدگیاں زیر بحث آتی ہیں۔

بد قسمتی سے ہمارے یہاں کوئی آڈٹ نہیں ہوتا، کہ دوران زچگی ہونے والی اموات کے اسباب کیا ہیں۔ اس کے لئے حکومت کی طرف سے قانون سازی کرنے کے لئے کام ہو رہا ہے۔ سیشن میں خواتین کی صحت کے حوالے سے طبی و نفسیاتی مسائل بھی زیر بحث لائے گئے۔ ورکنگ وومن اور اجرت کے سیشن میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مسائل، اجرت پر گفتگو ہوئی۔

سیشن میں سبا گھئی بھیل بھی موجود تھیں جنہوں نے اندرون سندھ کسان خواتین کے لئے پہلی کسان ”خواتین ہاری کمیٹی“ بنائی ہے اور وہ ان کی ساتھی کسان خواتین کے حقوق کے لئے سرگرم ہیں۔ صنف کی بنیاد پر روا رکھے جانے والے تشدد اور ہراس منٹ کے سیشن کی خاص بات یہ تھی کہ انیس ہارون صاحبہ جو اس سیشن کی ماڈریٹر تھیں۔ انہوں نے ہال میں موجود خواتین کو بھی شامل کیا۔ سیشن میں شامل امر سندھو نے سندھ بھر میں گھریلو تشدد، ریپ اور قتل کے رپورٹڈ کیسز کے حوالے سے گفتگو کی جو بہت دل دوز حقائق پر مبنی تھی۔ ستم ظریفی یہ ہے خواتین کے قریبی رشتے دار ان کے خلاف یہ جرائم کرتے ہیں اور قانون خاموش رہتا ہے۔ ڈیڑھ گھنٹے کے اس سیشن کا ماحصل یہ تھا کہ ریاست کو خواتین کے لئے موثر قانونی اقدامات کرنے ہوں گے اور اس ضمن میں قانونی سقم بھی ختم کرنے ہوں گے ۔

تعلیمی میدان کے چیلنجز اور مراحل پر بھی سیشن کیا گیا جس میں شرکاء نے خواتین کو پروفیشنل تعلیم حاصل کرنے پر سراہا اور مستقبل میں خواتین کے لئے درپیش مسائل اور ان سے نمٹنے پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ڈیجیٹل میڈیا میں خواتین کے کردار پر ڈیجیٹل میڈیا کی نمایاں شخصیات، قرت مرزا، ہدی بھرگڑی اور محمد معیز نے گفتگو کی اور سوشل میڈیا جو دور جدید میں اظہار کا ایک موثر و پرقوت ذریعہ ہے اس کے تاثرات پر روشنی ڈالی۔

ذرائع ابلاغ میں کریٹو میڈیا اور خواتین کے کردار پر سیشن میں پاکستان میں پہلی خاتون پروڈکشن ہاؤس کی مالک محترمہ سلطانہ صدیقی۔ بی گل۔ اداکارہ ثانیہ سعید، صبیحہ سومار نے گفتگو کی۔ سیشن کی نظامت محترمہ حوری نورانی نے کی۔ سیشن کی گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ ذرائع ابلاغ میں خواتین کو ایک دوسرے کا مددگار ہونا چاہیے۔
سب سے اہم اور کارآمد سیشن ” کرمنل جسٹس سسٹم“ رہاجس میں شہر کراچی سے خاتون ایس پی ” زاہدہ پروین“ نے شرکت و گفتگو کی۔ سیشن میں وکلا سماجی کارکنان، اور پولیس کے دیگر شرکا بھی شامل ہوئے۔ خواتین و بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم و کیسز ڈسکس کیے گئے۔

اس بھرپور گفتگو کے سننے کے بعد کانفرنس موجود ہر خاتون نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ جرائم کے خلاف اور مجرم کو سزا دلوانے کے لئے ریاستی طور پر قانون کو بہت فعال بنانے کی ضرورت ہے، خواتین وکلاء اور خواتین پولیس افسران کی موجودگی کے باوجود پدر شاہی جبریت کرنل جسٹس سسٹم پر بھی حاوی ہے اور اس نظام کی بہتری کے لئے اسمبلی میں موجود خواتین کو بہت فعال کردار ادا کرنا ہو گا۔ دو روزہ کانفرنس میں تھیٹر پلے بھی پیش کیا گیا۔ جو ماں اور گمشدہ بچے کے موضوع پر تھا۔ فنون لطیفہ کے حوالے سے بھی پروگرام پیش کیے گئے، جن میں خواتین نے اپنے فن کا یورینیم مظاہرہ کیا۔ ” خواتین عالمی مشاعرے“ کا انعقاد کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات، امریکہ۔ کینیڈا، انڈیا اور پاکستان کی شاعرات نے آن لائن اور براہ راست شرکت کی۔ مشاعرے کے ساتھ ساتھ یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔

اس کانفرنس کے انعقاد کے لئے آرٹس کونسل کراچی کے صدر ”احمد شاہ“ ( ستارہ امتیاز ) اور دیگر ٹیم ممبران کا بہت شکریہ، جو بہت محنت اور دل جمعی سے معاشرے اور سماج میں بہتری و مثبت تبدیلیوں کے خواہاں ہیں۔ ہماری درخواست ہے کہ معاشرے میں موجود ہر باشعور فرد اس قسم کی کانفرنسوں میں شریک ہو اور سماج میں توازن اور عدل و انصاف کا نظام لانے کے لئے فعال ہو۔

Facebook Comments HS