ارشد وحید کا نیا ناول ایک پاور فل کہانی کا حامل ہے
پچھلے پچاس برسوں میں ہماری ذاتی اور معاشرتی زندگیوں میں ایک نئی پیچیدگی آئی ہے۔ اس پیچیدگی سے معاشرے میں تشدد پہلے سے کہیں زیادہ عام اور شدید تر ہوا ہے۔ اس تشدد کی تشہیر جہاد یعنی مذہبی فریضہ کے طور پر کچھ ایسے کی گئی ہے کہ بہت سے لوگ اسے جائز بلکہ ضروری سمجھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس تشدد کو ایک بھاری اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ طاقت کا توازن اتنا بگڑ گیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کیے جانے والے تشدد کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی ناممکن ہے۔ قانون اور معاشرہ دونوں ہی یا تو بے بس نظر آتے ہیں یا پھر اس تشدد کی حمایت میں ہیں۔ وکٹم ہی کو قصوروار سمجھتے ہیں۔
اس پیچیدگی نے نوجوانوں کو خاص طور پر متاثر کیا ہے۔ تعلیمی ادارے بھی شدید متاثر ہوئے۔ مذہبی شدت پسند نوجوانوں نے معاشرے کو پاکیزہ بنانے کی ٹھیکے داری لے لی۔ عام شہری خواتین و حضرات کے لیے اپنی مرضی کی زندگی جینا اور بھی مشکل ہو گیا۔
مذہبی شدت پسندی کی سیاست کرنے والوں کے مقابلے سرخ انقلاب کے لئے کوشاں لوگ کمزور تر ہوتے گئے۔ وہ اپنی بے ضرر سرگرمیاں جیسے کہ کوئی ادبی محفل یا سٹڈی سرکل بھی چھپ چھپا کر ہی کر سکتے تھے۔ ارشد وحید کو اس دور کا ذاتی تجربہ ہے۔ انہوں نے اس کشمکش کو ذاتی طور پر جیا ہے۔ ان کا یہ ناول
Other Days
اس کشمکش کو بھگتنے والے عام لوگوں کی غیر معمولی کہانی ہے۔ بیسویں صدی کی آخری تین دہائیوں کی یہ کہانی عام نوجوان مردوں اور عورتوں کی وہ کہانی ہے جس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔
انیس صد ستر کی دہائی کے آغاز میں یونیورسٹی کا ایک نوجوان لیکچرر ایک بے ضرر قسم کا سٹڈی سرکل اٹینڈ کرتا ہے۔ وہ طالب علموں سے سوالات پوچھتا ہے اور ہیر وارث شاہ کے نئے زاویے سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے۔ یونیورسٹی کی ایک طالبہ جو قدرے بے دلی سے اس سٹڈی سرکل میں شامل ہوتی ہے وہ یونیورسٹی واپس جانے کے لیے سواری کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ اسی انتظار میں دونوں آپس میں مختصر سا تعارف کراتے ہیں اور سواری کا انتظار کرنے کی بجائے یونیورسٹی کی جانب واک کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ دونوں واک کے دوران بحث کرتے کرتے تھوڑی دیر کے لیے پروفیسر کے کمرے میں چلے جاتے ہیں۔ کمرہ کتابوں سے بھرا ہوتا ہے۔ وہ کتابوں کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور انہیں یہ دھیان ہی نہیں رہتا کہ انہوں نے کتنا بڑا جرم کر چکے ہیں، یعنی لڑکی کا بوائز ہاسٹل میں داخل ہونے کا جرم۔
اسلامی طلبہ کا جتھا اس نوجوان لیکچرر کے کمرے پر حملہ آور ہوتا ہے اور وہ ان دونوں کو سرعام شدید تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ دوسرے دن یہ واقعہ ایک بڑے سکینڈل کے طور پر اچھالا جاتا ہے۔ اخبارات کے ذریعے بات لڑکی کے والدین تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ تشدد کرنے یا سکینڈل بنانے والوں کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کا تو کوئی امکان ہی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس اس پروفیسر اور طالبہ کی زندگیاں کیسے بدل جاتی ہیں یہی اس ناول کا مین تھیم ہے۔
اس دوران لیفٹ کی سیاست کرنے والوں کی عقل و دانش، سمجھ بوجھ اور اخلاص کا کیا معیار ہے اسے بھی بہت خوبصورتی سے اس کہانی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ان کے ہاں عورت کی آزادی اور برابری کا کیا معیار تھا یہ بھی کہانی میں بہت خوب صورتی سے بنا گیا ہے۔
اسی دوران میں جہاد اور مسلمانوں کے عروج کی جو کہانی پھیلائی گئی اس کا شکار ہونے والے صرف پاکستان تک محدود نہ تھے بلکہ یورپ میں پلنے بڑھنے والے نوجوان بھی اس سے بچ نہ سکے۔ پچاس برس پہلے یورپ کو ہجرت کر جانے والے پاکستانی خاندان اس مذہبی شدت پسندی کا شکار ہوئے۔ سرخ اور سبز کی سیاست غیر حقیقی آئیڈیلز کا کیسے پیچھا کر رہی تھی۔ اور لوگوں کی ذاتی زندگیاں کیسے متاثر ہو رہی تھیں، اس کا احاطہ بہت خوب صورتی سے کیا گیا ہے۔
اس ناول کو پڑھنا ایک ٹریٹ سے کم نہیں۔ ایک ناول کے تمام اجزائے ترکیبی کا بہترین امتزاج ہے۔ پہلے چند صفحات کے بعد ہی یہ آپ کو باندھ لیتا ہے اور ادھورا چھوڑ کر اٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ امید ہے کہ اس ناول کا اردو ترجمہ بھی ہو جائے گا۔


