تحریک عدم اعتماد: ’سندھ ہاؤس میں حکومت کے نہیں اپوزیشن کے اراکینِ اسمبلی مقیم ہیں‘


وزیراعظم پاکستان عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے تناظر میں حکومتی شخصیات کی جانب سے پیپلز پارٹی پر حکومتی ارکانِ اسمبلی کو سندھ اسمبلی میں ’قید‘ رکھنے کے الزامات کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سندھ ہاؤس میں یقیناً متعدد ارکان مقیم ہیں لیکن اُن کا تعلق حکومت سے نہیں اپوزیشن سے ہے۔

تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے اس نوعیت کے الزامات بدھ کو سامنے آئے تھے اور انھیں حکومت کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما پرویز الٰہی کے اس انٹرویو سے بھی تقویت ملی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ حکومت کے پندرہ، سولہ ارکان قومی اسمبلی ’ٹوٹ گئے ہیں‘ اور ان میں سے بیشتر اپوزیشن کے پاس ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ حزبِ اختلاف کے رہنما حکومتی ارکان کی وفاداریاں خریدنے کے لیے ‘پیسے کی بوریوں’ کے ساتھ سندھ ہاؤس میں موجود ہیں جبکہ وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے بھی ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ سندھ پولیس کے چار سو اہلکار سندھ ہاؤس میں تعینات ہیں۔

اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ سندھ ہاؤس میں اپوزیشن بشمول پی پی پی اور مسلم لیگ نواز کے وہ ایم این ایز موجود ہیں جن کی جانوں کو حکومت کے ہاتھوں خطرہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جب وزیر اعظم اپنی تقریروں میں بندوق کی باتیں کریں گے، اپوزیشن ایم این ایز کو پانچ لاکھ افراد کے مجمعے سے گزر کر جانے کی دھمکی دی جائے گی یا وزارت داخلہ کے احکامات پر پولیس کے ذریعے پارلیمنٹ لاجز میں ایم این ایز کی رہائش گاہوں پر حملہ کیا جائے گا، تو منتخب نمائندوں کو اپنی جانوں کا خوف ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔‘ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ سندھ ہاؤس میں موجود چند پی پی پی ایم این ایز وہ ہیں جن کا تعلق سندھ سے ہے۔ ’ان ایم این ایز کو خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت انھیں اٹھایا جا سکتا ہے یا ان کے خلاف کوئی منفی حکومتی اقدام کیا جا سکتا ہے۔‘

تحریکِ عدم اعتماد کے موقع پر تصادم سے بچانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست

ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک عدم اعتماد کے موقع پر سیاسی کارکنان کو تصادم سے بچانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی ووٹنگ مارچ کے اواخر میں متوقع ہے اور اس سے قبل حکمراں جماعت اور اپوزیشن نے اپنے جلسوں کا اعلان کر رکھا ہے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی گذشتہ روز مخالف کارکنان کے درمیان تصادم کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے بات چیت کے ذریعے محفوظ راستوں کے تعین کا مطالبہ کیا تھا۔

جمعرات کو دائر کردہ درخواست میں سپریم کورٹ بار کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کا آئینی عمل پُرامن انداز سے مکمل ہونا چاہیے تاہم ’سیاسی بیانات سے عدم اعتماد کے روز فریقین کے درمیان تصادم کا خطرہ ہے۔‘

اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ تمام سٹیلک ہولڈرز کو عدم اعتماد کا عمل پُرامن انداز سے مکمل ہونے کا حکم دیں۔ جبکہ اس میں وزارت داخلہ، وزارت دفاع، آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے۔

عمران خان کو جاری الیکشن کمیشن کا نوٹس اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر اسد عمر نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ پبلک آفس ہولڈرز انتخابی مہم میں حصہ لے سکتے ہیں۔

یہ معاملہ 11 مارچ کو تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا کے علاقے لوئر دیر میں جلسے کے بعد سامنے آیا جہاں وزیر اعظم عمران خان نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے قبل اپنی جماعت کی مہم میں حصہ لیا۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان سمیت حکمراں جماعت کے وزرا کو انتخابی مہم میں حصہ لینے پر نوٹس جاری کیے تھے اور انھیں طلب ہونے کا حکم دیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم تحریک عدم اعتماد سے قبل بدھ کو سوات کے جلسے میں عمران خان نے الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ جو ہارس ٹریڈنگ ہو رہی ہے، اس کی آئین میں اجازت ہے؟ کیا کسی جمہوریت میں ایسا ہوتا ہے؟ برطانیہ میں ایسا ہوا کبھی جہاں سے ہم جمہوریت لے کر آئے۔’ انھوں نے کہا کہ ‘قوم پر لازم ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کے خلاف کھڑے ہوں۔ اس لیے اسلام آباد پہنچ کر دنیا کو بتائیں کہ ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم ان کے خلاف کھڑے ہیں۔’

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد میں ایک مرتبہ پھر جلسے جلوس: بات کدھر جائے گی؟

عمران خان کی ’ان سوئنگ یارکر‘ کی دھمکی، اپوزیشن رہنماؤں کا ردعمل، الیکشن کمیشن اِن ایکشن

اتحادیوں کے انکار کی صورت میں حکومت کے پاس کیا راستہ بچتا ہے؟

ڈی چوک اور دما دم مست قلندر: عاصمہ شیرازی کا کالم

جمعرات کو اسد عمر الیکشن کمیشن کا نوٹس چیلنج کرنے خود اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے جہاں انھوں نے اپنی دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ’الیکشن کمیشن کے پاس قانون کی تشریح کا اختیار نہیں تھا۔‘

اس درخواست پر اسد عمر کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان کے دستخط موجود ہیں۔ انھوں نے استدعا کی کہ درخواست کو آج ہی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

تاہم رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس درخواست پر اعتراض اٹھایا ہے کہ عمران خان کا بیان حلفی درخواست کے ساتھ منسلک نہیں اور انھوں نے بائیو میٹرک کے بغیر پٹیشن دائر کی۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے فروری میں ایک متنازع آرڈیننس کے ذریعے الیکشنز ایکٹ میں ایک ترمیم کی تھی جس کے ذریعے پبلک آفس ہولڈرز انتخابی مہم میں حصہ لے سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے علاوہ اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی اس پر اعتراض اٹھایا تھا۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نوٹس جاری کیوں کیا تھا؟

الیکشن کمیشن حکام کے مطابق کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت کوئی بھی پبلک آفس ہولڈر یا عوامی عہدیدار (ایگزیکٹیو اتھارٹی) ان علاقوں کا دورہ نہیں کر سکتا جہاں انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہو۔

انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر جمعہ کو الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انھیں وضاحت کے لیے طلب کیا تھا۔

تاہم اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے مطابق الیکشن کمیشن صدراتی آرڈیننس کو نظر انداز نہیں کر سکتا اور وزیر اعظم کو روکنے کا مجاز نہیں ہے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر 50 ہزار روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن کا مانیٹرنگ افسر ایسی خلاف ورزی کی صورت میں نوٹس جاری کرتا ہے اور اگر دوبارہ بھی خلاف ورزی کی جائے تو پھر الیکشن کمیشن مزید سخت کارروائی بھی عمل میں لا سکتا ہے۔

تاہم ان کے مطابق کسی بھی آرڈیننس سے زیادہ آئین سپریم ہے اور پھر الیکشن کمیشن کا 2017 کا اپنا ایکٹ بھی واضح ہے۔ ان کے مطابق کوڈ آف کنڈکٹ 22 سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا تھا، جس میں تحریک انصاف سے بھی مشاورت ہوئی تھی۔ ان کے مطابق تحریک انصاف نے ایگزیکٹو اتھارٹی پر دورہ کرنے کی پابندی کی مخالفت کی تھی۔

’قانون کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘

اسد عمر نے ٹوئٹر پر حکومت کا موقف بیان کیا ہے کہ ’آرڈیننس جاری کرنے کے لیے مقررہ عمل کی پیروی کی گئی جس سے پبلک آفس ہولڈر (انتخابی مہم میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ای سی پی (الیکشن کمیشن) قانون کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔‘

ادھر اپوزیشن کی جماعت مسلم لیگ ن نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق ’الیکشن کمشن کے حکم کی خلاف ورزی جرم ہے۔ ریاستی وسائل کے استعمال کی خلاف ورزی پر عمران صاحب کو سزا دی جائے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے موقع پر لوئر دیر میں عمران خان کا جلسہ الیکشن کمیشن کی پابندی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

’اگر الیکشن کمیشن عمران خان کے خلاف اس کھلی خلاف ورزی پر کارروائی نہیں کرتا تو اپوزیشن اراکین پر انتخابی مہم میں حصہ نہ لینے کی پابندی کا بھی کوئی جواز نہیں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25414 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments