سندھ ہاؤس میں تحریک انصاف کے 24 منحرف ممبران اسمبلی موجود ہیں


تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض اور ملک نواب شیر وسیر نے حامد میر کو سندھ ہاؤس میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر عدم اعتماد کی تحریک میں عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے۔

راجہ ریاض کا تعلق جہانگیر ترین گروپ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ہاؤس میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے تقریباً 24 ممبران اسمبلی موجود ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت ان کے خلاف ویسا ہی ایکشن لے سکتی ہے جیسا دس مارچ کو پارلیمنٹ لاجز میں لیا گیا تھا۔ نواب شیر وسیر نے کہا ہے کہ وہ اگلا الیکشن تحریک انصاف کے ٹکٹ پر نہیں لڑیں گے۔ |

آج صبح وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا تھا کہ حکومت ہارس ٹریڈنگ اور ممبران اسمبلی کو سندھ ہاؤس میں محبوس رکھنے کے خلاف سخت ایکشن لینے کی پلاننگ کر رہی ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے ٹویٹر پر شیئر کی جانے والی ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق ایک بڑی رقم سندھ ہاؤس منتقل کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ”اس وقت ہارس ٹریڈنگ کا مرکز سندھ ہاؤس ہے، جس طرح منڈیاں لگی ہوئی ہیں یہ آئین اور ملک کے خلاف ہے ہم ہارس ٹریڈنگ کے خلاف مضبوط ایکشن پلان کر رہے ہیں“

دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کی جانب سے اراکین اسمبلی کے خلاف تشدد، گرفتاری اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اراکین قومی اسمبلی کو تشدد، گرفتاری اور عدم اعتماد کی تحریک میں حصہ لینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی، عوامی نمائندوں کی زندگیاں، آزادی اور خاندان خطرے میں ہے، اراکین اسمبلی کو فسطائی حکومت سے اپنی حفاظت کے لئے ہر قسم کے اقدامات لینے کا حق ہے۔“

”پی پی پی اور پی ڈی ایم اراکین کی حفاظت کے لئے ہرممکن اقدام کریں گے، ہم اپنے تمام پتے ظاہرنہیں کریں گے، انشاء اللہ کچھ دوست عمران خان کے الزامات کے جواب دیں گے، آئندہ دنوں میں مزیدبھی سامنے آئیں گے، او آئی سی کانفرنس کی وجہ سے ہم اسلام آباد میں انارکی نہیں چاہتے، حکومت ہمیں نہ اکسائے“

 

Facebook Comments HS