عُلُوِیَّت میں جھوٹے جذبات


اس موضوع کو موجودہ حالات کے تناظر میں پرکھنے کی کوشش کرے تو آسانی سے اس کی سمجھ آ سکتی ہے۔ کیونکہ جب کوئی مصنف کسی فن پارے کو تخلیق کرتا ہے تو وہ معاشرے میں ہونے والے اردگرد تغیر کو دیکھتا ہے، اس کا بغور مطالعہ کرتا ہے اور پھر صفحہ قرطاس پر مجسم کر کے حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ میری اس تحریر کا بھی کچھ تعلق اسی طرح سے ہے موضوع میں موجود لفظ ”عُلُوِیَّت“ اور ”جھوٹے جذبات“ عام الفاظ اور عوام میں عام رائج ہیں۔ ”علویت“ کو انگریزی میں Sublime کے نام سے جانتے ہیں۔ اردو میں اس کے متبادل مفہوم پر غور کریں تو مطلب ”گہرائی“ ، ”وجدان کی کیفیت“ ، ”بلندی“ ، ”عالم فاضل“ ، ”زیادہ پر اثر“ اور ”پرزور“ وغیرہ کے ہیں۔

اس کیفیت کا لفظی ریمانڈ میں نے صرف عبادت گاہ میں بیٹھے سپیکر میں بولتے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے، یا پارلیمنٹ جسے قانون کا گھر بھی کہا جاتا ہے، بڑے بڑے دعوے دار وہاں پر نظر آئے ہیں مگر اس کے باوجود تمام کے تمام حقیقت سے خالی اور محروم ہی نظر آئے ہیں۔

علویت کا تقاضا اندرونی اور بیرونی دونوں طرح سے ایک جیسا ہونا ضروری ہے۔ اگر ان کی داخلی اور خارجی کیفیت میں تضاد ہو تو وہ علویت سے خالی صرف جھوٹے جذبات پر مبنی کہلاتا ہے۔

یہی کہانی کچھ ہمارے پاکستانی معاشرے کی ہے یہاں پر ہر طرف ظاہری طور پر علویت کے دعویدار ہر موڑ، ہر گلی، ہر شہر، ہر گاؤں میں نظر آتے ہیں لیکن ان کا اصل روپ بنارسی ٹھگ، جھوٹ اور فریب پر مبنی ہوتا ہے، جو کبھی گالم گلوچ، بے ترتیب، گالیاں، کتاب مقدس پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی گواہی دینا اور لوٹ مار بنیادی شیوہ بن جاتا ہے۔

اس کا نتیجہ پھر یہی نکلتا ہے کہ:

کانپیں ٹانگ رہی ہیں، مجھے کیوں نکالا، میرا نام بدل دینا، میرا جسم میری مرضی، بے ضمیری، تاج و تخت کی ہوس وغیرہ۔

مندرجہ بالا چیزیں جہالت کی نشاندہی کرنے میں ہماری مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ یہ تمام نشانیاں اس گدھ کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو اپنے اردگرد مردار کے مال پر اپنی چونچ رکھتا ہے۔ اس لیے کہ کرگس جاتی لوگوں کی کوئی قسم نہیں ہوتی۔ مجموعی طور پر یہ کسی قوم کی چال چلنے کی اندرونی کہانی ہوتی ہے۔

مجھے یہاں پر ولیم بلیک کی لکھی ہوئی نظم ( A Poison Tree ) یاد آتی ہے۔ اس نظم میں بھی شاعر نے ان جیسے لوگوں کی حرکتوں، بناوٹی رنگ اور جھوٹ کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ جو دیکھنے میں خوشنما اور خوبصورت ہے جبکہ اندرونی طور پر مکمل زہر سے بھرا ہوا ہے جو اخلاقی اعتبار سے مکمل طور پر مردہ ہو چکا ہے۔ کوئی بھی شخص یا آدمی ان کے قریب جانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اس کی اخلاقی موت کا سبب بنتے ہیں۔

یعنی گدھے پر کتابیں لاد دی جائے تو وہ عالم فاضل نہیں بنتا بلکہ گدھے کا گدھا ہی رہتا ہے، کچھ یہی صورت حال مجھے اس وقت اپنے اردگرد ماحول پر اور خاص کر سیاسی میدان میں نظر آتی ہے کیوں کہ پوری دنیا میں ان جیسے لوگوں نے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ علویت میں جھوٹے جذبات لیے دن رات ایک دوسرے کو دھوکا دینے میں مگن ہیں۔

اس وقت یہ زہریلے درخت کا کردار ادا کر رہے ہیں جس طرف بھی یہ نگاہ کرتے ہیں وہ زہریلا اثر چھوڑ کے چلے جاتے ہیں۔ اس زہر کے نتائج کمینگی، جھوٹے نعرے، غریب کا حق مارنا، اپنی جائیداد اور بینک بیلنس بنانا، قانون کا مذاق اڑانا، کھوکھلے نعرے، اور حرام کا مال اکٹھا کرنا ہے۔ کیونکہ پاکستان زمینوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ان مفاد پرستوں کی وجہ سے غریب ہے۔

Facebook Comments HS