چیونٹیاں، چینی اور گندم
چیونٹیوں کو تو آپ نے دیکھا ہی ہے۔ مسلسل کام میں مشغول رہتی ہیں۔ قطار میں چلتی ہیں کسی لمحے کام کے دوران ایک دوسرے کی جانب رخ کر کے کوئی بات بھی کر لیتی ہیں اور پھر واپس اسی راستے پر روانہ ہو جاتی ہیں ان ہی چیونٹیوں میں جو بڑے سائز کے ہوتے ہیں انہیں کچھ لوگ چیونٹا اور کچھ مکوڑا کہتے ہیں۔ کبھی غور سے سنا ہے کہ یہ آپس میں کیا بات کرتے ہیں نہیں نا! ان کی باتیں سننے کے لئے بہت جھکنا بلکہ جھک کر زمین تک آنا ہوتا ہے جو ظاہر ہے ہر ایک کے لئے مشکل کام ہے۔
خصوصاً اونچے قد والے لوگوں کے لئے۔ ہاں تو میں یہ بتلا رہی تھی ایک مرتبہ دو چار چیونٹے ایک جگہ پر جہاں بہت بڑی تعداد میں چیونٹیاں اپنے گھروں سے نکل کر جمع تھیں، انہیں بتلا رہے تھے کے جس جگہ ہم کھڑے ہیں یہ دریا کا کنارہ ہے۔ اور لگتا ہے یہاں پر سیلاب بھی آنے والا ہے۔ اور چند دنوں سے اس طرف جیپیں ٹرک اور ٹرالر بھی گزرنے لگے ہیں۔ ہم سب خطرے میں ہیں۔ اگر ہم سب ہمت کر کے سامنے لکڑی والے پل کی رسیوں پر سے گزر کر دوسری جانب چلے جایں تو ہم محفوظ ہو جائیں گے کیوں کہ اونچائی کی وجہ سے وہاں پر سیلاب کا خطرہ بھی نہیں ہے۔ اور وہاں کچھ گندم کے ذخیرے بھی ہیں۔ ہاں مگر یہ اندیشہ ضرور ہے کے پل کی رسیوں پر سفر کرتے ہوئے تیز ہوا کی وجہ سے ہم یا ہمارے بچے پانی میں گر جایں۔ مگر ہمارے خیال میں ہمیں یہ خطرہ مول لینا چاہیے۔ تم لوگوں کی کیا رائے ہے۔ ؟ چیونٹیوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ ایک چیونٹا بولا ”پیاری چیونٹیوں تم لوگ آج کل اتنی سست کیوں ہو گئی ہو۔ کہیں اس کی وجہ وہ دانے تو نہیں ہیں جوہر ماہ تمھارے گھروں کے باہر ڈال دیے جاتے ہیں“ بغیر محنت کیے گزارے کے لئے۔
یاد رکھو کھانا وہی اچھا ہے جو محنت سے حاصل ہو۔ ساری چیونٹیاں خاموش رہیں کیوں کے ایک رات پہلے ہی کوئی ان کے گھروں کے آگے چینی اور گندم کی بہت بڑی مقدار ڈال کر چلا گیا تھا۔ نجانے کیوں؟ چیونٹیوں نے سوچا کہ سیلاب کا خطرہ تو ہے مگر کچھ پکا نہیں ہے۔ شاید نہ آئے سیلاب۔ ایک چونٹا بولا ”دیکھو اس چینی اور گندم کے ڈھیر سے ہمیں کیا لینا دینا۔ ہم ایک شریف اور محنتی قوم ہیں، اپنی خوراک کا بندوبست خود کرتے ہیں۔ ہماری محنت بے نظیر ہے۔ ہمیں اس چیز کا احساس کرنا ہو گا۔ "
مگر ایک بھی چیونٹی ٹس سے مس نہ ہوئی۔ کافی انتظار کے بعد وہ چیونٹے پل کی جانب چل دیے۔ اور انہوں نے ہمت اور کوشش کے بل پر اس پل کو عبور کر لیا۔ پل عبور کر کے انہوں نے دیکھا وہ علاقہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا انہوں نے سوچا تھا۔ وہ محفوظ تھے اور کوئی جیپ، کوئی ٹرک، کوئی کنٹینر والا ٹرالر اس طرف سے نہیں گزر رہا تھا جس کے نیچے وہ کچلے جاتے۔ تھوڑی سی محنت کے نتیجے میں انہیں خوراک بھی مل رہی تھی۔
مگر دوسری جانب وہ بے شمار چیونٹیاں بہت خوش تھیں کے انہیں کوئی محنت نہیں کرنی۔ ان کے گھروں کے باہر چینی اور گندم کے ڈھیر ہیں۔ اور وہ جلدی جلدی چینی اور گندم کے دانوں کو اٹھا کر اپنے گھروں میں لے جانے لگیں۔ اتنی دیر میں کچھ جیپیں اور دو کنٹینرز والے ٹرالر تیزی سے شور مچاتے چلے آئے۔ ان میں موجود اونچے قد والے انسان اس سے بھی زیادہ شور مچا رہے تھے، تمام چیونٹیوں کو کچل کر چلے گئے۔ خوش قسمتی سے کچھ چیونٹیاں زندہ بچ گئیں۔
وہ ایک جگہ بیٹھ کر آہ و زاری کرنے لگیں۔ اتنی دیر میں دریا کی لہریں بپھرنے لگیں۔ سیلاب کی سی کیفیت ہو گئی اور پانی کا ریلا دریا کے کناروں سے باہر آ گیا۔ بچی کچھی چیونٹیاں اس میں ڈوب کر مر گئیں۔ دوسری صبح چشم فلک نے دیکھا ساری چیونٹیاں پانی چینی اور گندم کے ملغوبے میں مردہ پڑی تھیں۔ جانا پہچانا سا منظر تھا۔ مگر یاد نہیں آتا کے یہ کون سا منظر ہے؟ بس یہی ایک خیال ہے پریشان مجھ میں۔


