چوہدری برادران، منحرف ارکان اور حکومت کے داؤ پیچ


اپوزیشن کو وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائے 12 روز ہو گئے ہیں لیکن سپیکر نے ریکوزیشن پر طلب کر دہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔ پچھلے دو ہفتے کے دوران ملکی سیاسی صورت حال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہو رہی ہے۔ تحریک عدم اعتماد بارے میں غیر یقینی صورت حال ختم ہونے کے بارے میں اس وقت واضح اشارت ملنے لگے ہیں جب پی ٹی آئی کے کم و بیش دو درجن ”منحرف“ ارکان نے سندھ ہاؤس میں پناہ لے لی۔ تحریک عدم اعتماد بارے صورت حال بڑی حد واضح ہو گئی ہے۔

”منحرف“ ارکان نے ہر قیمت پر وزیر اعظم کے خلاف ووٹ ڈالنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ادھر حکومت نے بھی ”منحرف“ ارکان کے خلاف کارروائی کے لئے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شیخ رشید احمد سندھ میں گورنر راج لگوانا چاہتے تھے لیکن حکومت کو ہمت ہی نہ ہوئی۔ وزیر اعظم اور ان کے ترجمانوں کی فوج ظفر موج میچ جیتنے کے دعوے کر رہی تھی۔ اب وہ بوکھلاہٹ میں ”منحرف“ ارکان وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دینے پر سنگین بھگتنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے 27 مارچ کو ڈی چوک میں جلسہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے تو اپوزیشن نے دو روز قبل ڈی چوک میں دھرنا دینے کی کال دے دی ہے۔

چوہدری برادران نے پچھلے ہفتہ سے اسلام آباد میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ ”چوہدری ہاؤس“ میں رونقیں لگی ہوئی تھیں صبح شام اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کے قائدین کی آمدو رفت کا سلسلہ جاری تھا اگرچہ سیاسی جماعتوں کے رہنما چوہدری شجاعت حسین سے مذاکرات کرنے آتے تھے لیکن پارٹی نے تمام فیصلوں کا اختیار چوہدری پرویز الہی کو دے رکھا ہے چوہدری پرویز الہی پچھلے دو ہفتوں سے انتہائی خاموشی سے حکومت اور اپوزیشن سے اپنے مطالبات پر بات چیت کر رہے تھے۔

انہوں نے وزیر اعظم کو بڑا فیصلہ کرنے مشورہ دیا لیکن وزیر اعظم نے مسلم لیگ ( ق) کے پی ٹی آئی میں ادغام کو چوہدری پرویز الہی کو وزارت اعلیٰ دینے سے مشروط کر دیا جسے مسلم لیگ (ق) نے مسترد کر دیا۔ مسلم لیگ (ق) چوہدری برادران کی شناخت ہے۔ وہ کس طرح اپنی شناخت ختم کر سکتے ہیں۔

اس دوران مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے بھی نہ صرف چوہدری پرویز الہی کو چوہدری کو وزارت اعلیٰ کی پیشکش کر دی بلکہ صوبائی حکومت فوری طور پر ختم کرنے میں بھی لچک پیدا کر دی چوہدری پرویز الہی کے اس انکشاف کہ ”تحریک عدم اعتماد پر اتحادی جماعتوں کا 100 فیصد جھکاؤ اپوزیشن کی طرف ہے“ نے حکومتی حلقوں میں کھلبلی مچا دی انہوں نے کہا کہ ”آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نیوٹرل ہیں تو وزیر اعظم نے کہا کہ نیوٹرل تو صرف جانور ہی ہوتا ہے۔ اس لئے پہلے سوچ کر ہی بولنا چاہیے انہوں نے ہمارے ایم این اے سے کہا کہ 3 سال اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری کی اس لئے ڈیلیور نہیں کر سکا حکومت نے دیر کر دی بڑا شگاف پڑ گیا ہے۔ اپوزیشن کے پاس زیادہ ارکان ہیں۔“ ۔

چوہدری پرویز الہی کے اس انٹرویو سے حکومتی حلقوں میں سراسیمگی پھیل گئی لیکن اگلے روز ہی چوہدری پرویز الہی سے ایک فرمائشی بیان جاری کرا یا گیا جس میں انہوں نے عمران خان کی تعریف کی اور کہا کہ ہم نے حکومت چھوڑی نہیں اور اپوزیشن بھی جائن نہیں کی تاہم ان کے بیان میں وزیر اعظم کی حمایت کے لئے ایک لفظ نہیں تھا۔ یہ بات بھی سننے میں آئی ہے۔ چوہدری مونس الہی کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے گئے تھے۔ بعد ازاں حکومت نے اس خبر کی تردید کر دی ہے۔ معلوم ہوا ہے۔ چوہدری مونس الہی اپنی فیملی کے ساتھ لندن چلے گئے ہیں جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دو تین روز بعد وطن واپس آ جائیں گے۔

تحریک انصاف کے ”منحرف“ ارکان نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر سندھ ہاؤس اسلام آباد میں پناہ لینے پر حکومتی حلقوں میں ”چیخ پکار“ ہو رہی ہے کہ بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ ہو رہی ہے اگرچہ ”منحرف“ ارکان کی تعداد کے بارے میں مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم راجہ ریاض نے کہا ہے کہ ان ارکان کی تعداد 24 سے زیادہ ہے جب کہ رمیش کمار کا دعویٰ کہ یہ تعداد 33 ہے جس میں 3 وفاقی وزرا بھی شامل ہیں۔ حکومت سندھ نے ”منحرف“ ارکان کی حفاظت کے پولیس کے کمانڈوز تعینات کر دیے گئے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کے ارکان کی ”بغاوت“ سے حکومت اکثریت سے محروم ہو گئی ہے۔

شنید ہے وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے سندھ میں گورنر راج کی تجویز پیش کی تو کچھ وزراء نے کہا کہ سندھ میں گورنر راج کے نفاذ پر شدید رد عمل ہو گا۔ وزیراعلی ٰسندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں گورنر راج کے نفاذ پر سندھ کے عوام ایسا جواب دیں گے جس کی مثال نہیں ملے گی۔

وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں گزشتہ ہفتہ غیر معمولی ڈویلپمنٹ ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمنٰ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی تصدیق کر دی ہے۔ مولانا صاحب نے ملاقات کے بعد معنی خیز گفتگو کی ہے۔ ”اتنا جانتا ہوں معاملات طے ہو گئے ہیں۔ ٹکراؤ ہوا تو ذمہ دار حکومت ہو گی۔ ہمیں 10 ووٹوں کی ضرورت تھی۔ اس وقت 30 سے زائد ہیں۔ 182 سے لے کر 190 تک ووٹ تحریک عدم اعتماد کے حق میں ڈالے جائیں گے۔“

وفاق اور پنجاب میں پی ٹی آئی کے ارکان میں ”بغاوت“ کے بعد آزاد جموں و کشمیر میں ”کھسر پسر“ شروع ہو گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے بعض ارکان اسمبلی نے وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں۔ آزاد جموں کشمیر کی سیاست پر قبائلی عصبیت کی چھاپ نمایاں نظر آتی ہے۔ بظاہر آزاد جموں و کشمیر میں خاموشی ہے۔ کہیں ”بغاوت“ کے آثار نظر نہیں آتے لیکن اندر ہی اندر لاوہ پک رہا ہے جو کسی وقت دھماکہ کی صورت میں پھٹ سکتا ہے۔

بعض ارکان کے بدلے تیور اس بات کی عکاسی کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت ان کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی۔ 9 ماہ بعد ہی شکایات کے دفتر کھول دینے سے بعض ارکان کے سیاسی عزائم بے نقاب ہو رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے رکن اسمبلی جاوید بٹ نے مظفرآباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عبدالقیوم نیازی کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ حکومت چلانا عبدالقیوم نیازی کے بس کی بات نہیں۔ قبل ازیں وزیر مال چوہدری اخلاق نے بھی وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کی موجودگی میں انہیں مخاطب کرتے کہا کہ ”آپ نے انتخابات میں میری مخالفت کی تھی۔“

پی ٹی آئی کے بعض ارکان اسمبلی کو شکایت ہے کہ وزیراعظم آزاد جموں کشمیر ان کے حلقوں میں خالی اسامیوں پر اپنے حلقے کے لوگوں کو بھرتی کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ پٹوری اور دھوبی بھی اپنے حلقے کے لگا رہے ہیں۔ پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے نتائج آزاد جموں کشمیر کی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے۔ وزیر اعظم عمران بظاہر ہاری ہوئی جنگ کس طرح جیتتے ہیں جس اپوزیشن کے ہاتھوں تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS