سیکورٹی اداروں میں مذہبی رجحان
پچھلے دنوں ایک تصویر نظر سے گزری، جس میں ایک باوردی پولیس اہلکار ممتاز قادری کی قبر کو سلیوٹ کر کے اپنے جذبات کا اظہار یا خراج تحسین پیش کر رہا تھا۔ عام شہری کے لیے ہو سکتا یہ کوئی غیر معمولی بات ہو، مگر بطور سیکورٹی اہلکار میرے لیے کوئی اچنبھے والی بات نہیں تھی کیوں کہ ہمارے ملک میں سیکورٹی اداروں کو ایک خاص مذہبی رنگ میں ڈھال دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے مذہبی جذبات سیکورٹی اہلکاروں کے پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر حاوی ہو جاتے ہیں اور وہ کوئی بھی انتہائی ماورائے قانون قدم اٹھا لیتے ہیں۔
کیوں کہ دوران تربیت ہی ان اہلکاروں کو تربیت دینے والے اہلکار مذہبی رجحان رکھنے والے زیر تربیت اہلکاروں کو دوسرے کم مذہبی یا غیر مذہبی اہلکاروں پر ترجیح دیتے ہیں۔ مزید برآں تربیتی مراکز میں کچھ ایسے مذہبی سکالروں کو دعوت خطاب دیا جاتا ہے جن کے نظریات یا خیالات کئی دفعہ متنازعہ یا متشدد ہوتے ہیں۔
پولیس جیسا محکمہ جس کے اہلکاروں نے بلا تفریق ہر مذہب، فرقہ اور نسل کے لوگوں کو تحفظ اور انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے۔ مگر اس مذہبی ذہنی رجحان کے ساتھ جب وہ اپنے فرائض سر انجام دیں گے تو ان سے کسی بھی ماورائے قانون انتہائی قدم کی توقع کی جا سکتی ہے جس کا عملی مظاہرہ ہم گورنر پنجاب کے قتل کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔ جب ان کی حفاظت پہ مامور پولیس اہلکار نے ان کے سینے میں گولیاں اتار دیں۔ عدالتی نظام کے تحت عدالت نے مقدمہ سننے کے بعد ملزم کے لیے موت کی سزا تجویز کی۔ مگر اس کے باوجود ایک باوردی پولیس اہلکار کا ممتاز قادری کی قبر کو سلیوٹ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ تربیت دینے والے مراکز کو مذہبی رنگ دینے سے اہلکاروں کے نزدیک ملکی قوانین اور عدالتی احکامات کی وہ وقعت نہیں، جن کی ریاست ان سے متقاضی ہے۔
عسکری اداروں میں افواج کو مذہبی رنگ شاید اس لیے دیا جاتا ہے کہ افواج کا مقابلہ عموماً دوسرے ممالک کی افواج جو کہ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی ہیں ان کے ساتھ ہوتا ہے تو وہ جنگ کو مذہبی فریضہ سمجھ کر مقابلہ کرتی ہیں۔ مگر پولیس نے تو ملک کے اندر اپنے ہی لوگوں کو بلا تفریق مذہب فرقہ و نسل تحفظ اور انصاف دینا ہوتا ہے لہذا ریاست کو چاہیے کہ وہ اپنا بیانیہ از سر نو مرتب کر کے پولیس اہلکاروں کی تربیت میں احتیاط برتے اور سلیبس از سر نو مرتب کرے۔



💯👍
آپ نے ایک نازک ترین مسئلہ کی نشان دہی کی ہے اور بہترین تجزیہ کیا ہے۔ بہت شکریہ