براڈ شیٹ کاوہ موسوی کا اچانک ضمیر لالچ نے جگایا یا قانونی دھمکیوں نے؟

برطانیہ میں سیاست دان جلا وطن کئی دہائیوں سے ہوتے آ رہے ہیں بلکہ ان سیاستدانوں کی جمع پونجی بھی برطانیہ میں محفوظ ہے کیونکہ برطانیہ میں قوانین کے باوجود غریب ممالک سے لوٹی ہوئی رقم یہاں شفٹ ہوتی آئی ہیں جس میں پاکستان سر فہرست ہے جو کہ ہر وقت موجودہ حکمران اقتدار سے نکالے جانے لے بعد سارا ملبہ اس پر ڈالا جاتا ہے کہ سب کچھ جانے والا لے گیا لیکن بیچاری پبلک کو کیا پتہ کہ پبلک منی کیسے اور کہاں استعمال ہوتی ہے۔
رشوت کے طور پر بھی پبلک فنڈ کا استعمال لایا جاتا ہے بلکہ سب مل بانٹ کے کھانے کے عادی ہیں۔ ملین پاؤنڈز ایسے کیسوں کی مد میں پبلک فنڈ ایسی کمپنیوں کو دیے جاتے ہیں۔ چلتے ہیں اصل پس منظر کی طرف براڈ شیٹ کے سی او کاوہ موسوی کی طرف آکسفورڈ میں جن کی تازہ سٹیٹمنٹ نے ہل چل مچا دی، بلکہ اہم ڈے کے موقع پر جب او آئی سی کا اجلاس چل رہا تھا، ملک دشمن عناصر نے او آئی سی کانفرنس خراب اور پاکستان کا امیج خراب کرنے کی ناکام کوشش کی۔
کاوہ موسوی ایک ایسا کردار ہے جس نے براڈ شیٹ کے پلیٹ فارم سے پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت جو کہ برطانیہ شفٹ کی گئی جن میں شریف فیملی کے خلاف کاوہ موسوی نے کنٹریکٹ اٹھایا کئی سال چلتا رہا کافی رقم وصولی لیکن موجودہ حکومت نے کنٹریکٹ یعنی انویسٹیگیشن روک دی اور موسوی کو پیسے دینا بند کر دیا، اب یہ کوئی حکومتی نمائندہ یا نیب بتا سکتی ہے کہ کیوں کاوہ موسوی سے کیس واپس لیا؟ میں لمبی تفصیل نہی لکھ رہا تاکہ مضمون چھوٹا اور کرنٹ ایشو پر رہے۔
میں نے تقریباً بیس منٹ کا انٹرویو کیا جس میں میں نے پوچھا کہ آپ نے یہ وڈیو کب بنائی؟ اور کس کے کہنے پر بنائی تو موسوی ایک بار کنفیوژن کا شکار ہو گئے اور یہ کہہ گئے منگل، بدھ، جمعرات، ایک ہفتہ۔ بہت سارے لوگوں نے انھیں اپروچ کیا تھا۔ تو میں نے پوچھا جناب آپ نے ایک سال پہلے کیوں نہی معافی مانگی اب کیوں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ اس وقت حالات اور تھے اب میں نے تحقیقات مکمل کی ہیں۔ جبکہ تقریباً ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا، اس کیس سے متعلق مکمل خاموشی تھی۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کاوہ نے پیسے لے کر ایسی سٹیٹمنٹ دی؟ جبکہ وہ شریف فیملی کی کرپشن کے متعلق کئی سٹیٹمنٹ دے چکا ہے اور اچانک دستبردار ہونے کے ساتھ ساتھ ضمیر جاگ گیا اور معافی بھی مانگ لی۔ اب آتے ہیں وڈیو بنا کر اس کو پاکستان کے اہم دن پر چلوانے اور بنوانے والا کون سازشی؟ کون سی سیاسی جماعت؟ کون سا صحافی ہے جس نے یہ سارا ارینج کیا، موسوی نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے بہت کچھ غلطی سے منکشف کر دیا۔ جو کہ انٹرویو کی شکل میں مکمل موجود ہے۔
اب ذرا سوچیئے ہر با شعور انسان اس چیز پر سوچنے پر مجبور ہے کہ موسوی صاحب جب آپ کا اس کیس سے رابطہ ہی ڈسکونیکٹ تھا تو پھر آپ کو یہ نوبت انٹرویو کی کیوں پیش آ گئی؟ موسوی کے ایک بیان سے براڈ شیٹ 2021 جنوری سے اس کیس پر یعنی حکومت پاکستان کے ساتھ کام نہیں کر رہی تو پھر یہ اچانک ضمیر کیوں جاگا؟ اب سوال یہاں یہ جنم لے رہے ہیں، کہ موسوی نے یہ سٹیٹمنٹ کس حساب سے دی جبکہ اس کا سیاست سے لینا دینا نہی، کاوہ موسوی پیشہ کے لحاظ سے وکیل بتائے جاتے ہیں۔
کیا اس سٹیٹمنٹ کے پیچھے مال لیا گیا؟ کیا ایڈیٹر نے اس کو دھونس دھمکیاں دے کر ڈرایا؟ کہ اگر تم چاہتے ہو کہ شریف خاندان تجھ پر ہرجانے کا کیس نہ کریں تو تجھے پیسہ دینا پڑ جائے گا۔ یاد رہے شریف فیملی براڈ شیٹ سے بیس ہزار پاؤنڈ لیگل اخراجات اسے کاوہ موسوی سے لے چکے ہیں یعنی کہ کاوہ نے شریف فیملی کے ساتھ عدالت کے باہر ڈیل کر کے لین دین کر لیا تھا۔
کیا یہ سٹیٹمنٹ مزید ہرجانے سے بچنے کے لیے تو نہیں دی گئی جبکہ ایک سوال میں اس نے کہا کہ میرا کوئی لیگل کیس نہیں ہے۔
اس میں ایک صحافی کا کردار بھی بڑا اہم ہے جس نے اس کام کو اپنی طرف سے ہینڈل کرنے کی کوشش کی جو کہ کاوہ موسوی نے بتا دیا کہ وہ صحافی حلفیہ بیان بھی لندن کی کورٹ میں جمع کروا چکا ہے یعنی وہ اپنا بیان کہ شریف فیملی کے خلاف جو چیزیں مہیا کی گئیں وہ سب بے بنیاد ہیں اور میں اس کا گواہ ہوں۔ حلفیہ بیان کی کاپی آنے کے بعد مزید لکھوں گا۔
تھنک ٹینک کے ایسے دانش ور مفکر نے بتایا کہ یہ وڈیو پاکستان کے او آئی سی کے موقع پر قوم اور انٹرنیشنل فورم کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے کاوہ موسوی کو صحافی نے یہ بھی کہا ہو گا کہ پاکستان کا اہم ترین دن آ رہا ہے، پاکستان میں حکومت کے حالات کچھ ایسے ہیں تو اس وقت یہ سہی موقع ہے سٹیٹمنٹ دو، انٹرویو ارینج کر کے اسی صحافی نے پلاننگ کے ساتھ اور سیاسی پارٹی کی طرف سے اشارہ ملنے پر آج کا دن انتخاب کیا۔ جو کہ میں ماننے کو تیار نہی میں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض خبروں کی تشریح کے لیے ٹائم درکار ہوتا ہے ہو سکتا ہے ترجمہ کرواتے کرواتے دیر ہو گئی ہو
دیکھیں صحافی کے ہاتھ میں اگر نیوز ہو تو وہ اس وڈیو سٹیٹمنٹ کو کبھی نہی روکے گا کیونکہ ایسے سٹیٹمنٹ باقی موقع پر موجود صحافی بھی رکھتے ہیں تو چھپا کر رکھنا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ ہر صحافی اپنی بریکنگ کے چکر میں فوری نیوز روم بھیجے گا، باقی آپ خود فیصلہ کریں کہ تھنک ٹینک کی بات میں کتنا وزن ہے۔

