تحریک عدم اعتماد: آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے صدارتی ریفرنس پر جے یو آئی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جواب جمع کرا دیے
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا عدالت عظمیٰ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہنا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت کسی بھی رکن قومی اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکا بھی نہیں جا سکتا۔
پاکستان کی سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس اور تحریک عدم اعتماد کے دن تصادم روکنے کی بار کونسل کی درخواست پر سماعت آج ہو رہی ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے اپنے ریفرینس میں سپریم کورٹ سے رائے مانگی تھی کہ کیا اُن ارکانِ قومی اسمبلی کے ووٹ کی کوئی حیثیت ہے یا نہیں جو وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ میں اپنی پارٹی کے مؤقف کے برخلاف جا کر ووٹ دیں۔
یہ صدارتی ریفرنس وزیرِ اعظم عمران خان کے مشورے پر بھیجا گیا، جس کی بنیاد تحریک انصاف کے سربراہ کی طرف سے ایسے 14 اراکین کو شوکاز نوٹس ہے، جس میں ان سے پارٹی سے انحراف سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے بار ایسوسی ایشن کو بھی آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے حوالے سے معاونت کے لیے نوٹس جاری کر رکھا ہے، حکومت کی اتحادی جماعتوں کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کو بھی نوٹس کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سیاسی جماعتوں بشمول حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے مجوزہ سیاسی جلسوں کے پیشِ نظر اپنی درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ سیاسی تصادم اور متوقع ناخوشگوار حالات کو روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کرے گا، چیف جسٹس پاکستان کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ کا حصہ ہوں گے۔
اٹارنی جنرل آف پاکستان بیرسٹر خالد جاوید خان آرٹیکل 63 اے پر دلائل دیں گے۔
خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر کر رکھی ہے جس پر قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلوایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان کی سیاسی جماعت جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) نے بھی صدارتی ریفرنس پر جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیے ہیں۔
خیال رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے آرٹیکل 63 اے اور تحریک عدم اعتماد کے روز تصادم روکنے سے متعلق سماعت کو یکجا کر کے سننے کے احکامات جاری کیے تھے۔
ادھر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر کے 19 مارچ کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پٹیشن پر جاری کردہ آرڈر پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالت نے مذکورہ پٹیشن اور صدارتی ریفرینس کو ایک ساتھ سماعت کے لیے کیسے مقرر کر لیا جبکہ ریفرینس اس وقت دائر ہی نہیں کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جمع کروائے گئے جواب میں کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت مجلس شوریٰ یعنی پارلیمان میں ووٹ ڈالنا رکن قومی اسمبلی کا انفرادی حق ہے اور کسی رکن اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جاسکتا۔ ہر رکن قومی اسمبلی اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے میں خودمختار ہے۔
بار ایسوسی ایشن نے جواب میں موقف اپنایا کہ آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کسی سیاسی جماعت کا حق نہیں ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہےکہ آرٹیکل 95 کے تحت ڈالا گیا ہر ووٹ گنتی میں شمار ہوتا ہے اور عوام اپنے منتحب نمائندوں کے ذریعے نظام حکومت چلاتے ہیں۔
تحریک عدم اعتماد: ’حکومت کے پاس قرارداد پر ووٹنگ کروانے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہے‘
قومی اسمبلی کے سپیکر اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر سکتے ہیں؟
تحریک عدم اعتماد: کیا ارکانِ اسمبلی کو پارٹی کے خلاف ووٹ دینے سے روکا جا سکتا ہے؟
سپریم کورٹ کا کمرہ عدالت نمبر ون: ’جن پر پہلے آرٹیکل چھ لگا ہے اس پر تو عمل درآمد کروائیں‘
'سپیکر کو اراکین کے ووٹ مسترد کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا‘
جے یو آئی کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سلیکٹیڈ عہدیدار آرٹیکل 63 اے کے تحت ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے کی ہدایت نہیں دے سکتے۔
جے یو آئی کے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپیکر کو اراکین کے ووٹ مسترد کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا، اور لازمی نہیں کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے ہی ریفرنس پر رائے دی جائے اور اگر سپریم کورٹ نے ووٹنگ سے پہلے رائے دی تو الیکشن کمیشن کا فورم غیر موثر ہو جائے گا۔
جے یو آئی کے عدالت عظمیٰ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 63 اے پہلے ہی غیر جمہوری ہے، پارٹی کے خلاف ووٹ پر تاحیات نااہلی کمزور جمہوریت کو مزید کمزور کرے گی۔ عدالت پارلیمنٹ کی بالادستی ختم کرنے سے اجتناب کرے۔
جے یو آئی نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ عدالت ‘پارلیمنٹ کی بالادستی ختم کرنے سے اجتناب کرے’ جبکہ اس کا کہنا حکومتی جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں پارٹی انتخابات نہیں ہوئے ہیں لہذا پارٹی کو سلیکٹیڈ عہدیدار چلا رہے ہیں۔
جے یوآئی کی جانب سے آرٹیکل 63 اے کے صدارتی ریفرنس پر جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی آزاد حیثیت سے انتخاب جیت کر پارٹی میں شامل ہونے والوں افراد کی نشست بھی پارٹی کی پابند ہو جاتی ہے۔
جواب میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ کسی رکن کے خلاف نااہلی کا کیس بنا تو معاملہ ویسے بھی سپریم کورٹ تک آنا ہی ہے۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریفرنس سے لگتا ہے صدر وزیراعظم اور سپیکر ہمیشہ صادق اور امین ہیں اور رہیں گے۔


