جب چھانگا مانگا کے جنگل سے ریشم پیدا ہوتا تھا


شہتوت سے جڑی بچپن کی یاد میرا گاؤں چھانگا مانگا جنگل کی غربی سمت جنگل کے بیچوں بیچ سے گزرتی خوبصورت نہر کے ساتھ تھا۔ جنگل میں سرکار نے شہتوت کے پودوں کا سری کلچر لگایا تھا تو گاؤں کے باسی مارچ اپریل میں جنگل سے شہتوت کے پتے لا کر ریشم کے کیڑے پالتے تھے۔ ان دنوں میں مرد عورتیں بچے سب مل کر سارا سارا دن شہتوت کے پتے اتار کر لاتے تھے کیونکہ ریشم کے کیڑے اپنے وزن سے پچاس ہزار گنا پتے کھا جاتے تھے جنگل میں خوب رونق ہوتی تھی۔ کچھ شہتوت کھانے بھی جاتے۔ پھر یہ ریشم کے کیڑے اپنے گرد سفید ریشم کی تاروں کا خول بن لیتے تھے جس کو ٹوٹی کہتے تھے اور پھر اس کو ایک چرخی پر لپیٹ کر ریشم حاصل کیا جاتا تھا۔

ہمارے ہمسائے میں سیما بی بی جنھوں نے شادی نہیں کی تھی اور اکیلی رہتی تھیں، ان کا گھر ہر مرد کی نگاہ شوق کا مرکز بن جاتا تھا۔ محلے دار مولوی صدیق کی نگاہ التفات کو ٹھکرانے کی پاداش میں ان پر بے راہ روی کا الزام لگ گیا اور ان کو گھر چھوڑنا پڑا۔ یہ ایک الگ داستان ہے۔ ان کے گھر چرخی لگی ہوتی تھی جس سے وہ ریشم اتار کر فروخت کرتی تھیں۔ یہ ایک بہت بڑی معاشی سرگرمی بھی تھی کہ گاؤں کے ہر گھر کو بہت معقول پیسے مل جاتے تھے۔

‏جن لڑکیوں کی شادی ہو جاتی تھی، وہ گاؤں میں میلا لگنے پر اور شہتوت کے موسم میں والدین کے پاس ضرور آتی تھیں اور رشتہ دار مہمانوں کو بھی اس موسم میں ضرور مدعو کیا جاتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ چائنہ کے ریشم نے اس ہاتھ سے بنے ریشم کی جگہ لینی شروع کر دی۔ گاؤں میں ریشم کی بھٹیاں اور چرخیاں کم ہونے لگیں اور ایک وقت ایسا آیا کہ ریشم کے کیڑے پالنے کی صنعت، سری کلچر اور ریشم گاؤں سے بالکل روٹھ گیا اور ایک بہت بڑی معاشی سرگرمی بھی ختم ہو گئی جو اچھا خاصا زرمبادلہ بھی لاتی تھی۔

مگر ریشم کے کیڑے، سری کلچر جنگل، شہتوت چرخی اور بچپن کے وہ دن جب میں خالہ کو پاس بیٹھ کر نرم ریشم کو ترتیب سے رکھتے دیکھتا تھا۔ ہمیشہ کے لئے ذہن میں نقش ہو گئے۔

 

Facebook Comments HS

One thought on “جب چھانگا مانگا کے جنگل سے ریشم پیدا ہوتا تھا”

  • 30/03/2022 at 7:12 صبح
    Permalink

    ہماری حکومت اگر اس گھریلو صنعت کی سرپرستی کرتی اور اسے جدید خطوط پہ استوار کرتی تو کافی زرمبادلہ کمایا جا سکتا تھا لیکن افسوس کہ ہماری ترجیحات اور ہیں

Comments are closed.