تحریک عدم اعتماد۔ عمران خان کا سرپرائز؟


وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والی ہے۔ سپیکر نے تحریک عدم اعتماد کو نمٹانے کے لئے قومی اسمبلی کا غیر معمولی اجلاس بلا تو لیا لیکن پارلیمانی تاریخ میں سپیکر نے پہلی بار ریکوزیشن پر طلب کردہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس کی آڑ لے کر مقررہ ایام میں نہ بلا کر دانستہ تاخیر کی جس پر اپوزیشن نے ان کے خلاف آئین شکنی کا فتویٰ دے دیا۔ انہوں نے قومی اسمبلی کا اجلاس سٹنگ ممبر خیال زمان کی وفات پر کوئی کارروائی کیے بغیر عجلت میں 28 مارچ 2022 ء تک ملتوی کر دیا۔

مجموعی طور پر 24 مرتبہ کسی رکن قومی اسمبلی کی وفات پر ایوان کی کارروائی احترام میں ملتوی کی گئی ہے اگرچہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈا پر 152 ارکان کے دستخطوں سے تحریک عدم اعتماد تھی لیکن انہوں نے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کو ٹیک اپ نہیں کیا اجلاس کی کارروائی تقریباً 14 منٹ ہی چل سکی، حکومت کی جانب سے عمران خان اور اپوزیشن کی جانب سے جمہوریت زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ اجلاس میں حکومت کے 80 جبکہ اپوزیشن کے 159 ارکان نے شرکت کی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بات کرنے کی اجازت مانگتے رہے لیکن سپیکر نے ان کی ایک نہ سنی۔

حیران کن طور پر خیال زمان کے انتقال پر صرف دعائے مغفرت کی گئی اور تعزیتی ریفرنس کے بغیر قومی اسمبلی اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ اجلاس ملتوی ہونے پر اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں کوئی احتجاج نہیں کیا گیا حالانکہ آصف زرداری نے اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت نہ ملی تو ہنگامہ کریں گے۔

متحدہ اپوزیشن نے گزشتہ ہفتہ ہی سندھ ہاؤس میں پناہ لینے والے 14 ارکان کو ٹیلی ویژن کی سکرین پر دکھا کر عملاً تحریک عدم اعتماد کی جنگ میدان میں لڑے بغیر ہی جیت لی تھی لیکن کپتان ابھی تک شکست تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں عمران خان کے زمانہ طالبعلمی کے ایک سیاست دان دوست نے ان کو موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کا ایک راستہ تجویز کیا ہے کہ وہ بھرا میلہ چھوڑ کر اپوزیشن کو سرپرائز دیں تو اپوزیشن کے لئے حکومت سازی پیدا ہو جائیں گی اور وہ معاشی طور بدحال ملک کو چلا نہیں پائے گی لیکن عمران خان نے کسی بھی صورت استعفاٰ نہ دینے اور آخری بال تک لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ابھی تو لڑائی شروع ہی ہوئی ہے۔ وقت بتائے گا۔ کون استعفاٰ دیتا ہے۔ ہار ماننے والا نہیں کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ گھر بیٹھ جاؤں گا۔ حکومت گر گئی تو چپ نہیں بیٹھوں گا۔ لڑائی سے پہلے ہی مخالفین کے ہاتھ کھڑے کرا دوں گا۔ اگر عمران خان کی لن طرانیاں سنیں تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ مضبوط اعصاب کے مالک ہیں لیکن یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ 14 ناراض ارکان کی بغاوت نے ان کے اندر پائی جانے والی خود اعتمادی کو پاش پاش ہو گئی ہے۔ پارلیمان میں عدم اعتماد کا میلہ لگنے سے پہلے ہی اپوزیشن کے ہاتھوں اپنا کمبل اتروا بیٹھے ہیں۔

عمران خان کی یہ حالت ہو گئی ہے۔ وہ کبھی باغی ارکان اور اپوزیشن کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہیں اور کبھی اپنے باغی ارکان کی منت سماجت پر اتر آتے ہیں۔ عمران خان اپنی سیاسی زندگی کی مشکل ترین اننگز کھیل رہے ہیں جس میں ان کی شکست کا پورا سٹیج سج چکا ہے لیکن وہ اس بات پر بضد ہیں کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گی۔ مر جاؤں گا۔ حکومت چھوڑ دوں گا۔ چوروں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا خان صاحب اپنی تقاریر میں بلند بانگ دعوے کرتے تھکتے ہیں لیکن وہ اپنے بیانات پر یو ٹرن لینے کی شہرت بھی رکھتے ہیں۔

سر دست ان کے سرپرائز بارے میں کوئی بات حتمی طور نہیں کہی جا سکتی سیاسی حلقوں یہ بات برملا کہی جا رہی ہے کہ یہ سرپرائز اپوزیشن کے لئے ہو گا جس کسی اور کے لئے۔ میں بھی بار ہا یہ بات کہہ چکا ہو کہ عمران خان سیاسی شکست کھانے کے باوجود آسانی سے اقتدار نہیں چھوڑیں گے۔ ان کا بس چلا تو وہ جاتے جاتے پورے جمہوری نظام کی چولیں ڈھیلی کر جائیں گے۔ پچھلے چار سال تک عمران خان کی حکومت کے لئے بیساکھیوں کا کام کرنے والی اتحادی جماعتوں نے بھی مشکل وقت میں عمران خان کی کشتی کو منجدھار میں چھوڑ دیا ہے۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق ان کا جھکاؤ اپوزیشن کی طرف ہے۔ عمران خان کی کشتی کو ڈبونے میں جہاں ان کے اپنے دو درجن سے زائد ناراض ارکان قومی اسمبلی نے اپنا بھرپور کر دار ادا کیا ہے۔ وہاں اتحادی جماعتوں نے بھی عمران خان کے ساتھ اچھا نہیں کیا پچھلے دو تین ہفتوں کے دوران اتحادیوں نے وزیر اعظم عمران خان کو اپنے در پر بار بار بلا کر نہ صرف بے توقیر کر دیا ہے بلکہ انہیں بے بسی کی تصویر بنا دیا ہے۔ وزیر اعظم کو کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا سپیکر بھی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد فوری طور پر نمٹانے کی بجائے لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے بحران سے بچ نکلنے میں آخری امید سپریم کورٹ سے وابستہ کر رکھی ہے۔ جہاں صدر مملکت عارف علوی نے ریفرنس دائر کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کیا اگر کوئی خیانت کرتا ہے اور وفاداری تبدیل کر کے انحراف کرتا ہے تو کیا ایسی صورت میں اس کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی ہے اور اسے ڈی سیٹ کیا جا سکتا ہے۔ ایسے رکن کو تاحیات نا اہلی قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیا ایسے غیراخلاقی عمل میں شریک منحرف ارکان کے ووٹ کی کوئی وقعت باقی رہ جاتی ہے اور کیا ایسے ارکان کو ووٹ دینے کا حق دیا جا سکتا ہے؟ کیا ایسے رکن کو تاحیات نا اہل قرار دیا جائے گا؟

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر بندیال نے ریفرنس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں۔ ریفرنس کے بجائے پارلیمنٹ طے کرے، ہم خالی جگہ پر نہیں کر سکتے، وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد پر ووٹ تو ہر صورت ہو گا اور شمار ہو گا پھر دیکھیں گے کیا کرنا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہے کہ صدر نے آئینی تشریح کا کہا ہے۔ ہم ادھر ادھر نہیں جا سکتے، ممکن ہے ریفرنس ہی واپس بھیج دیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ پارٹی سربراہ کو بادشاہ سلامت بنانا چاہتے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہے کہ کیا دوسری کشتی میں جاتے ہوئے پہلا جہاز ڈبویا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ معلوم نہیں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہوگی۔

معاملہ صرف 63 اے کی تلوار کا نہیں پورا سسٹم ناکام ہونے کا ہے۔ سپیکر ریفرنس بارے سپریم کورٹ کی حتمی رائے آنے تک تحریک عدم اعتماد کو منطقی انجام تک پہنچانے میں لیت و لعل کام لے سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے تحریک عدم اعتماد میں ممکنہ شکست دیکھ کر قبل از وقت انتخابات کا عندیہ دیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی تحریک عدم اعتماد پر زیادہ دیر حکومت کو ریلیف نہیں دے سکتے بالآخر انہیں تحریک عدم اعتماد کو منطقی انجام تک پہنچانا ہو گا۔

Facebook Comments HS