دو بھینسوں کی لڑائی


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل تھا جس میں رنگ رنگ کے جانور بستے تھے مگر جنگل کے اندر ایک اور گہرا جنگل تھا جس کا علم جانوروں کو بہت دیر میں ہوا، یہ گہرا جنگل ہی اصل میں جنگل کے ہر معاملے و امور کے فیصلے کرتا تھا، کبھی کبھی ہوتا کہ اس گہرے جنگل کے مکین بھی آپس میں لڑ بھڑتے، اس دفعہ بھی ایسا ہی ہوا دو بھینسے آپس میں ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے۔ بڑا بھینسا عہدے و طاقت کے لحاظ سے بڑا تھا، اسی نے اپنے ایک معتمد خاص چھوٹے بھینسے کے ذریعے اپنے نامزدنمائندے کو جنگلی قانون کا نمائندہ بنوا کر جانوروں کے ووٹ ڈلوائے لئے۔ اس نے ایسے حالات پیدا کیے کہ اس نمائندے کے لیے تمام راہیں ہموار ہوتی گئیں مگر وہ نمائندہ ایسا طوطا چشم ثابت ہوا کہ اس کا جھکاؤ چھوٹے بھینسے کی طرف ہو گیا یا جانے چھوٹے بھینسے نے اسے کیسی یقین دہانیاں کرائیں تھیں کہ وہ بالکل اس کی جانب جھک گیا تھا۔ دراصل اس نمائندے کو اپنی ناتجربہ کاری و نالائقی کے باعث یقین تھا کہ وہ چناؤ سے نہیں بلکہ سہاروں کے ذریعے امور حکومت میں آیا تھا، اس کی رعونت غرور، حماقتوں اور نا اہلیت نے اس کے آقاؤں کو اس سے بیزار کر دیا تھا اور اب وہ چھوٹے بھینسے کی مدد سے اگلا چناؤ جیتنا چاہتا تھا اور چھوٹا بھینسا جو بڑا بننے کا شدید خواہش مند تھا اس کی پشت پہ آکھڑا ہوا تھا۔

جنگل کے جانور کم تو نہ تھے اور ان کے کئی نمائندے تھے جن میں حکومتی پالیسیوں اور انتشار کو لے کر بے چینی پائی جاتی تھی، حکومتی پالیسی جو صرف دشمن داری کے ایجنڈے پہ مشتمل تھی ان نمائندوں کو دیوار سے لگانے کی کوئی کسر نہ چھوڑی تھی مگر بڑے بھینسے کے آگے سب بے بس تھے کیونکہ بڑا بھینسا ہی دونوں جنگلوں پہ راج کرتا آیا تھا، جانوروں کے تمام نمائندے اس کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بن کر ناچتے رہے جو بھی نمائندہ آیا وہ بڑے بھینسے کے آگے بے بس و مجبور رہا جس نے بغاوت کی کوشش کی اسے نشان عبرت بنا دیا گیا مگر اب گہرے جنگل کے داؤ پیچ جانور سمجھنے لگے تھے وہ اس کے خلاف آواز اٹھاتے، ان کی خواہش تھی کہ نمائندے کا چناؤ کا حق انہیں ملے، گہرے جنگلوں کے بھینسوں کا راج ختم ہو، وہ جنگل کی طاقت کی علامت تھے وہ بس وہی کام کریں گے۔

مگر اس دفعہ ان ہونی ہو گئی تھی گہرے جنگل کے دو بھینسے آمنے سامنے آ گئے تھے۔ بڑے نمائندے نے اپنا زور اپنے بنائے نمائندے کی پشت سے ہٹا لیا اور مخالف پارٹی کے نمائندوں کو یقین دہانی کرا دی کہ اب وہ پیچھے نہیں ہے۔

چھوٹے بھینسے نے حکومتی نمائندے سے وعدہ کر رکھا تھا کہ اگر مجھے بڑا بنا دیا جائے تو وہ اگلے چناؤ میں اس کی کامیابی کو یقینی بنادے گا اور اگلے پانچ برس بھی وہ مزید نمائندہ رہ سکتا ہے مگر جنگل میں یہ خبر پھیل کر انتشار کا سبب بن چکی تھی، جانور اور ان کے نمائندے اس بے ایمانی اور خیانت سے مشتعل تھے۔

جنگل مختلف آوازوں، نعروں اور شور کی آماجگاہ بنا ہوا تھا، حکومتی نمائندے و مخالف مختلف جوڑ توڑ میں مصروف تھے، دونوں جانب سے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے تھے، اس لڑائی کو حق و باطل کی جنگ بنا دیا گیا تھا حالانکہ یہ گہرے جنگل کے دو بھینسوں کے سینگ پھنسانے کا نتیجہ تھا۔

کیا کہا؟ کیا یہ اپکو کسی ملک کے سیاسی حالات کی کہانی لگ رہی ہے مگر مصنف اس ذمہ داری کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔

Facebook Comments HS