ظلم کے ایوانوں میں ایک تھا مسٹر چارلس بائیکاٹ

کچھ زمانہ قبل کی بات ہے ہر برادری میں چار چوہدری ہوا کرتے تھے جو خاندان برادری کے بہت سے امور کو دیکھا کرتے تھے اور ان کے فیصلوں اور رائے کا احترام کیا جاتا تھا اور ان فیصلوں کو ساری برادری کی قوت حاصل ہوتی تھی۔ اس قوت کے زیر سایہ جہاں کچھ برائیاں پنپ جاتیں وہاں اس میں بہت سی فلاح بھی چھپی ہوئی تھی، ایک لوکل پنچایت سسٹم، روایت و تہذیب کی بقا، بہت سی قدروں کی

Read more

یوم نسواں پہ کچھ اچھے مردوں کو سلام

عام عورت چاہے وہ ورکنگ ہو یا خاتون خانہ مجھے ہمیشہ مصلحت کی دریدہ چادر اوڑھے جبر کی مختلف صورتیں سہتی یہی کہتی ملتی ہے ”تم جانتی ہو یہ مرد ایسے ہی ہوتے ہیں“ یہ اعتراف نہیں اعتراف شکست ہے ؛ مرد کی بدزبانی پہ، اس کی پینترے بدلتی بلکہ کینچلی بدلتی فطرت اور بے وفائی پہ۔ یہ اعتراف شکست ہے اس کے رکھے ناروا سلوک پہ اور یہ سب سہ کر ہم اپنی بیٹیوں کو بھی یہی مصلحت بھری

Read more

روحانی لفنگے۔ مشتری ہشیار باش

عنوان نے آپ کو چونکا دیا ہو گا۔ بات ہے بھی چونکنے والی، کہنے کو بہت کچھ ہے بات کیسے شروع کی جائے، دیکھیے اپنا افسانہ علم الاسماء لکھتے سمے یہ بھید مجھ پہ کھلا تھا کہ یہ کائنات یونی ورس نہیں ملٹی ورس ہے، بلکہ اس کائنات میں یہ جو ہمارا چھوٹا سا کرہ ہے، یہ ہماری زمین، اس پہ زندگی کے کتنے رنگ ہیں، اس دنیا میں کتنی دنیائیں ہیں ہم نہیں جانتے۔ ایک دنیا مادے کی ہے

Read more

اداسیوں کے البم میں ماں کی تصویر

ماں جب تمھیں سوچتی ہوں تو بہت سی منتشر یادیں میرے اردگرد جگنوؤں کی طرح بکھر جاتی ہیں اور ان یادوں میں میں خود کو ایک چھوٹی سی کمسن بچی دیکھتی ہوں کبھی نو عمر لڑکی، کبھی بچپن اور نوجوانی کی دہلیز پہ کھڑی معصوم سی بچی، حالانکہ ماں یہی تو وہ دن تھے جب تم میرے باپ کے سنگ بیاہ کر آئی تھی اور خود بھی ایک کمسن سی الھڑ سی لڑکی تھیں۔ ماں تم نے ہر لڑکی کی

Read more

ایم بی ایس کے نام ایک کھلا خط

محترم و معظم ولی عہد سعودی عرب محمد بن سلیمان صاحب جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں؟ فدویہ دراصل پاکستان کی ایک معمولی لکھاری ہے جی جی وہی پاکستان جس کو آپ نے اور ”پاکستانیوں“ نے الباکستان بنانے کا تجربہ کیا مگر جس کے نتائج بڑے عجیب و غریب اور خوفناک ہی نکلے ہیں اور نکلنے بھی تھے خیر وہ ایک الگ موضوع ہے جس کے لیے ایک طویل دفتر درکار ہے۔ ظل الہی مجھے معاف کیجیے گا

Read more

ابراہیم کی چڑیا کیا کہتی ہے!

کیا آپ کو پرندوں کی کہانی سننے میں دلچسپی ہے؟ شاید آپ نے اس چڑیا کی بابت سنا ہو کہانی کہنے والے کہتے ہیں کہ جب آتش نمرود بھڑکائی گئی (حضرت) ابراہیم کو بھسم کرنے کو تو اک چڑیا پانی کا قطرہ منہ میں لیے آگ بجھانے کو اڑی تھی اس سے دوسری چڑیا نے تمسخر سے پوچھا تھا :اک قطرے سے تو کتنی آگ بجھائے گی! چڑیا بولی وہی جو میری چونچ میں آنے والے قطرے ہیں اور پروں

Read more

یونس خان میرا بھائی!

یونس خان کا پہلا تعارف تو یہی ہے کہ وہ میرا بھائی ہے مگر یہ تعارف تو تصویر کشی کے عمل کو متنازعہ و متعصب کر دیتا ہے کہ بھائی تو بہنوں کو عزیز ہوتے ہیں اور اچھے ہی لگتے ہیں مگر یونس خان اگر میرا بھائی نہ بھی ہوتا تو میری رائے یہی ہوتی۔ یہ وہ بھائی ہے جو اس ادبی دنیا نے مجھے عطا کیا، اس ادبی دنیا کا یہ احسان میری ذات پہ کیا کم ہے کہ

Read more

مستنصر حسین تارڑ ۔ایک مکمل ادیب کا نامکمل خاکہ

اک وضاحت میں اپنے تئیں کرنا ضروری سمجھتی ہوں یہ خاکے نہ تو کوئی تعین و ترتیب ہے میری جانب سے بس یہ رگ جاں پہ ایک قرض ہے جو مجھے اس زندگی میں چکانا ہے، یہ وہ لوگ ہیں وہ قیمتی، اونچے ارفع، سنہرے سورج لوگ جو میرے اس ادبی سفر میں اپنی تحریر سے، اپنی گفتگو سے یا کسی بھی طرح میرے لیے مددگار ہی نہیں مہمیز ثابت ہوئے۔ میرے تخلیقی منطقے پہ اس تخلیقی جزیرے پہ مثل

Read more

حامد سراج۔ گھنا پیڑ۔ سفر آخرت بخیر یاران چمن

کچھ لوگ اتنے بے ضرر اور شفاف ہوتے ہیں کہ آپ جب انھیں لکھنے بیٹھیں تو سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ ان کی تصویر لفظوں میں کیسے اتاری جائے مگر جب وہ رتیں لوٹتی ہیں جو ان کو آپ سے جدا کر گئی تھیں تو رگ جاں پہ رکھے قرض آپ کو ستاتے ہیں کہ اس قرض کو اتار لیا جائے اس سے پہلے کہ نقارہ بج اٹھے۔ آج ایسا ہی قرض مجھے برسوں بعد اتارنا ہے اور اس

Read more

سلمی اعوان : ریشم کی اٹی یا اک جیول باکس

یاد کی سیڑھی لگا کر کہیں نیچے اپنے بچپن کو نو خیزی میں داخل ہوتے زمانے کو یاد کروں تو شاید یہ رسالہ زعفران تھا جہاں سلمی اعوان کی پہلی تحریر یادداشت کے خانے میں کچھ کچھ محفوظ ہے، شگفتہ سی کھلکھلاتی تحریر، حیرت ہوئی کہ کوئی عورت کیسے اتنی دلیری سے اپنی صورت و شخصیت پہ ہنس سکتی ہے اور تنقید کر سکتی ہے کچھ ایسے کہ ہنسنے پہ مجبور کردے۔ اس رسالے میں ساتھ کارٹون بھی ہوا کرتے

Read more

ایک ڈھکن۔ ڈاک۔ ٹر، ملنا اک اور گھنٹہ گھر کا

میں جب بیاہ کر دوبارہ فیصل آباد آئی تھی تو اس شہر کو دیکھنے کا نظریہ مختلف تھا سچی بات یہ ہے کہ یہاں کے رویے دیکھ کر گھبرا گئی تھی اور میں نے اپنے افسانے ”یہ گھنٹہ گھر“ میں لکھا تھا ”مجھے مختلف سروں پہ مختلف جسامت کے چھوٹے بڑے گھنٹہ گھر نظر آنے لگے ہیں۔ یہاں پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور پرائیویٹ کلینکس میں مجھے اتنے گھنٹہ گھروں سے ملنے کا شرف حاصل ہوا ہے کہ اگر ان تلخ

Read more

زندگی تماشا بنی

سب سے پہلے تو عرض یہ ہے کہ یہ تاثرات لکھ کر میں ہرگز فلمی ناقدین کی صف میں شامل ہونے کی کوشش نہیں کر رہی ہوں سو فلمی ناقدین سے آغاز ہی میں معذرت کہ اس مضمون کو فلمی تنقید نہ سمجھا جائے کیونکہ امید واثق ہے کہ یہ مروجہ معیارات پہ پورا نہیں اترے گا۔ یہ ایک آرٹ فلم کے عام سے ناظر کے تاثرات ہیں جسے فلم کے طاقتور اور غیر روایتی موضوع نے لکھنے پہ مجبور

Read more

موٹی لڑکی

موٹی لڑکی؟! جی جی موٹی لڑکی۔ جب میں نے اپنا افسانہ ”اوبیسٹی“ لکھا تو بظاہر بیٹی کا ایک بے ضرر جملہ مجھے جذب کے کسی اور جہان میں لے گیا، آنکھ کھلی تو میں 2033 یعنی دس سال آگے کھڑی تھی جہاں اوبیسٹی ایک مسئلہ تھا مگر مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ مسئلہ دور حاضر کا بھی اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ مختلف چینلز سے اس وقت موٹی خاتون کو لے کر اور باڈی شیمنگ کی مذمت کرتے ہوئے

Read more

خدارا عقل کو تالہ لگائیے

جب آپ کا مقدمہ کوئی اناڑی وکیل لڑے گا تو کیا ہو گا؟ جب بندر نائی بن جائے گا تو تب کیا ہو گا؟ ناک ہی کٹے گی ظاہر ہے یہ بتانے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت تو نہیں ہے اور سچی بات یہ ہے کہ اس عورت جاتی کی ناک مجھے چند دن سے کٹتی محسوس ہوئی ہے۔ اس زمینی گولے پہ تین طرح کے انسان بستے ہیں :مرد، عورت، خواجہ سرا کیا عورت صرف ویجائنا کا

Read more

ہسٹری ہینکر اور راکھ کا شہر

یو ٹیوب چینل ہسٹری ہینکر کی نئی پوسٹ دیکھ رہی تھی۔ یہ نئی پوسٹ معلوماتی سے بڑھ کر اچھی خاصی ہولناک اور دہشتناک تھی۔ وحشت اور ہولناکی ہسٹری ہینکر کے لفظوں اور چہرے کے تاثرات سے تو اتنی عیاں نہیں تھی جتنی ماحول سے چھلک کر اعصاب پہ اثر انداز ہو رہی تھی۔ ہسٹری ہینکر اس دفعہ دنیا کے ویرانے و عجائبات و قدامت دریافت کرتے ہوئے سدوم وعمورة کی عذاب الہی سے اب تک جھوجھتی برباد بستیوں پہ جا

Read more

کیا اگلا کالم مجھے کتوں پہ لکھنا پڑے گا؟

کالونی میں شادی تھی اور مزے کی بات یہ تھی بلکہ میرے لئے ایسی صورت حال بہت خوش کن ہوتی ہے جس میں کچھ عام ڈگر سے ہٹ کر ہو۔ بات کچھ یوں تھی کہ یہ شادی بین المسالک تھی، لڑکی سنی تھی اور لڑکے کا تعلق شیعہ فقہ سے تھا اور نکاح خواں قریبی مسجد اہلحدیث سے آیا اور سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ تھی کہ لڑکی کا خاندان مسلم لیگی تھا اور لڑکے کا خاندان عمران خان

Read more

مسجد واسی، حقیقی توبہ اور مذہبی بیانیہ

رمضان کے کٹھن معمولات سے حواس پوری طرح تاحال بحال نہیں ہو پائے۔ مجھے رمضان میں مختلف اجتماعات، دعا اور طاق راتوں میں مسجد جانا اچھا لگتا ہے اور وہاں آنے والی خواتین نے مجھے کہا آپ رمضان کے بعد جمعہ کی نماز کے لئے بھی آئیے گا اگر فرصت ملے تو ۔ میں نے فوراً حامی بھر لی۔ برائے مہربانی آپ مجھے میری اس پسندیدگی پہ بہت مذہب پرست اور نیک مسلمان سمجھنے کی غلطی نہ کیجیے گا، میں

Read more

مجھے عمران خان ہی کیوں اتنا ناپسند ہے

یہ سوال ویسے کرنا تو نہیں چاہیے کہ ہر شخص کی ذاتی پسند ناپسند ہوا کرتی ہے اور آپ کو یہ جمہوری حق حاصل ہے کہ آپ اپنے پسندیدہ امیدوار کا چناؤ کر سکیں، یہی جمہوریت ہے حتی کہ ایک عورت کسی مرد سے صرف اس بنا پہ خلع لے سکتی ہے کہ ”تیری بوتھی مینوں پسند نہیں“ ہر لکھنے والے کی بھی ایک پسند ناپسند ہوتی ہے مگر ہم لکھنے والوں کی ذمہ داری دہری ہوتی ہے کہ ہم

Read more

دو سرد شاموں میں گھری عورت کا قصہ

اب جب کہ بہار کی کونپلوں نے سر نکالا ہے اور ہر شاخ سبز اور ہری بھری ہو کر خوشبوئیں انڈیلنے کو تیار ہے اور اب اس موسم سے وابستہ بنت آدم کا دن بھی قریب ہے جو یقیناً کائنات میں اس خالق کی صحیح خلیفہ ہے کہ تخلیق آدم کے منصب پہ فائز ہے اور جائز حقدار ہے کہ اسے انہی سبز موسموں میں یاد کیا جائے لیکن اس کے ساتھ ہی چہ مگوئیاں اور تمسخرانہ تذکرے شروع ہو

Read more

’‘ اس نے کہا تھا ”ایک غیر روایتی ناول، ٹرانس جینڈر ایکٹ اور لکیر کے اس پار کا سچ

کچھ عرصہ قبل اشعر نجمی کے حال میں ہی شائع ہوئے دو ناول منگوائے تھے اور دل میں مصمم ارادہ تھا کہ ناول پڑھنے ضرور ہیں مگر کچھ لکھنے سے مکمل پرہیز کرنا ہے۔ وجہ اشعر نجمی صاحب کی زود رنجی اور کچھ تنک مزاجی ہے پھر عالم فاضل آدمی ہیں جو میری رائے ناگوار گزری تو بندی میں مقابلے کی کوئی سکت نہیں۔ مگر ہوا یہ کہ ان کا ناول ’‘ اس نے کہا تھا ”مجھے لڑ گیا۔ پہلے

Read more

رپٹا پاؤں اور درد زہ

میرا پاؤں رپٹ گیا جب سوچوں میں غرق میں پارک میں چلتی جا رہی تھی کہ کیا پستی کی اور بھی کوئی انتہا ہو سکتی ہے؟ کیا حکومت اور ریاست کا فرق واقعی فراموش کر دیا گیا ہے؟ کیا حکومت کا لالچی حیوان ریاست کو شکار کرنے ایک پل کو نہیں ہچکچائے گا؟ میں جو ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم اور حکیم سعید مرحوم کی پیشین گوئیوں کی بابت شک و شبہے کا شکار تھی اور سمجھتی تھی کہ یہ سب

Read more

خطرناک شوگر ڈیڈی

بہت بچپن میں ایک فلم دیکھی تھی جس کی ہیروئین غالباً بابرہ شریف تھیں جو امیر بڈھوں کو پھانستی، اس سے شادی کرتی، مال بٹورتی اور اگلی راہ لیتی پھر فلم میں ٹرن آیا اور شاہد کی صورت اک نقلی بڈھا مل گیا اور پھر غربت کا رونا دھونا اور شاید فلم کا ہیپی اینڈنگ تھا، بس کچھ کچھ ہی یاد ہے۔ اب زمانہ بدل گیا ہے اب مارکیٹ میں ایک نئی اصطلاح متعارف ہو چکی ہے جسے ’‘ شوگر

Read more

متشدد، جنونی زومبیز اور عمران خان کا بیانیہ

سحری کے وقت ایک خبر گردش کرتی دیکھی جس میں ایک شخص اس سیاسی انتہا پسندی کے عہد میں دوران مباحثہ ہونے والے جھگڑے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، خبر سننے کے بعد میں سو گئی۔ میں نے عجیب سا خواب دیکھا کہ میں جیسے تقسیم ہند جیسے کسی عہد میں ہوں، ہر طرف ابتری ہے، ہر نگاہ میں شک و سوال ہیں، ہر جان خطرے میں ہے، ہر طرف لاشیں بکھری ہیں، پہیہ جام ہے، ٹرینیں رک گئی

Read more

دو بھینسوں کی لڑائی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل تھا جس میں رنگ رنگ کے جانور بستے تھے مگر جنگل کے اندر ایک اور گہرا جنگل تھا جس کا علم جانوروں کو بہت دیر میں ہوا، یہ گہرا جنگل ہی اصل میں جنگل کے ہر معاملے و امور کے فیصلے کرتا تھا، کبھی کبھی ہوتا کہ اس گہرے جنگل کے مکین بھی آپس میں لڑ بھڑتے، اس دفعہ بھی ایسا ہی ہوا دو بھینسے آپس میں ایک دوسرے کے مدمقابل آ

Read more

ناول ”کرول گھاٹی“ کا ایک جائزہ

’‘ کرول گھاٹی ”غافر شہزاد کا تازہ ناول ہے۔ غافر شہزاد ایک معروف و منجھے ہوئے لکھاری ہیں۔ جب سے اس ناول کی بابت سنا تھا مجھے یہ تجسس تھا کہ ایک تاریخ قریب میں رونما ہونے والے واقعہ کو جو ابھی لوگوں کے ذہن سے محو نہیں ہوا اور جو میڈیا کا ہاٹ ٹاپک بنا رہا، ایک عرصے تک، مصنف نے اس کو کس طرح تخلیقی قالب میں ڈھالا ہو گا اور ان کے پاس یہ گنجائش کہاں سے

Read more

میرا بیٹا اور عورت کے حقوق: دیوانی کا خواب

اس بار دل نہیں تھا کہ یوم نسواں پہ کچھ لکھوں عجیب مردہ دلی اور بے حسی نے گھیراؤ کر رکھا تھا، یوں جیسے لفظوں کے اکارت جانے کے بھید کھلنے پہ روح و دل دونوں شل ہو جاتے ہیں، جیسے اس پدرسری سماج میں کہیں کچھ بدلنے والا نہیں، عورت کو انسان تسلیم کیے جانے میں ابھی جانے کتنے زمانے درکار ہیں تو کیوں لفظوں سے بے کار میں کھیلا جائے اور اسی اثنا میں پشاور میں دھماکے میں

Read more

ریاست کے پالے ہوئے خونخوار چوہے

یہ ریاست کے پالے خونخوار چوہے ہیں جو اب اتنے شیر ہوچکے کہ اس کی جڑوں کو ہی کتر رہے ہیں، ریاست نے انہیں خود خون پلا پلا کر پالا ہے اور اب نوبت یہ آ گئی ہے کہ ریاست خود ان چوہوں کے ہاتھوں بے بس ہے وہ جس کو دل چاہے چیر پھاڑ کھائیں، آگ لگائیں اور لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ لگا کر خون چاٹ جائیں، یہ وقت آنا ہی تھا کیونکہ اس جن کو بوتل

Read more

فارس مغل کے افسانوی مجموعے ’‘ آخری لفظ ”کا ایک جائزہ

اکرم کنجاہی اپنی کتاب ’‘ پس جدیدیت لہجے اور اسلوب ”میں رقم طراز ہیں :ایک زمانہ تھا کہ تخلیق کار خود کو کسی نہ کسی تحریک سے وابستہ کر لیتے تھے یا پھر کسی رجحان کے پابند ہو جاتے تھے۔ پس جدیدیت کسی تحریک یا رجحان کو نہ تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی انھیں رد کرتی ہے۔ یہ ایک آزاد فکری رویہ ہے۔ فارس مغل کے افسانوی مجموعے ’‘ آخری لفظ“ کا مطالعہ اس تعریف پہ پورا اترتا ہے۔

Read more

پاگل کتوں کا راج اور ہمارا مائنڈ سیٹ

وہ اکیلی بھی نہیں تھی اس کے ساتھ چند ساتھی تھے اس کے باوجود وہ ہجوم کی وحشت کا شکار ہو گئی۔
اجی ٹک ٹاکر تھی واہیات حرکتیں اپنی ویڈیوز میں کرتی تھی اس دن بھی اپنی حرکتوں کا خمیازہ بھگتا کیوں گئی تھی وہاں؟

اور وہ جو لاہور میں سانحہ موٹر وے پر ہوا تھا وہ عورت اپنے بچوں کے ساتھ اپنی گاڑی میں سوار تھی۔ اجی اس کا بھی قصور تھا کیوں اس نے پٹرول چیک نہیں کیا اور رات کو اکیلے سفر کرنے کی تک کیا تھی!

Read more

قاسم یعقوب کے ناول ’‘ خلط ملط ”کا ایک جائزہ

قاسم یعقوب کا ناول ’‘ خلط ملط ”موصول ہوا اور زیر مطالعہ آیا۔ قاسم یعقوب فیصل آباد کا وہ نام ہیں جن پہ بجا طور پہ فیصل آباد کو ناز ہے وہ ایک محقق، نقاد، شاعر اور مدیر ’‘ نقاط“ کی شناخت قائم کر چکے ہیں۔ اور ’‘ خلط ملط ”کی صورت وہ بطور ناول نگار ایک نئی شناخت کا مرحلہ طے کر رہے ہیں۔ ناول کا انتساب ’‘ اپنے تخلیقی وجود کی ان کہی کے نام ”بڑا معنی خیز

Read more

عید الاضحی کے ثقافتی بیانیے کی تہذیب کی ضرورت

مذہبی بیانیہ کیسے ثقافتی بیانیے میں بدلتا ہے اس کی ایک بہت عمدہ مثال عید الاضحی سے قبل کے دس دن ہیں۔ یہ دن اب مذہبی روایت سے بڑھ کر ایک ثقافتی میلے میں بدل چکے ہیں اور میلے کسی بھی معاشرے پہ ٹھٹھک اور ٹھہر کر سوچ بچار کرنے کی دعوت ضرور دیتے ہیں۔

عید قربان پہ جہاں مذہبی بیانیہ دو آرا میں منقسم ہے ایک وہ جو اس قربانی کو مذہبی فریضہ نہیں سمجھتے اور دوسرے وہ جو سنت ابراہیمی کی ہر حال میں تجدید کا قائل ہیں مگر اس وقت جو صورتحال ہے وہ دعوت فکر دیتی ہے کہ اسے معاملے کو مذہبی پیرائے سے الگ ہو کر دیکھا جائے۔ وہ مذہبی بیانیہ جو ان دس دنوں کی تقدیس اور قربانی کی سنت ابراہیمی کی تجدید کا شد و مد سے قائل ہے وہ بھی یہ ماننے اور دیکھنے پہ مجبور ہے کہ یہ دس دن اب ایک ثقافتی میلے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔

Read more

میرا رہبر مشرف عالم ذوقی

یہ آج سے کئی برسوں پہلے کی بات ہے، شاید 2012 ء، ابھی میری پہلی کتاب پہلا ناول ہی منظر عام پہ آیا تھا اور افسانے ادبی جرائد میں چھپ رہے تھے میں نے حسب معمول اپنے شائع شدہ افسانے ”حرف اک منظر“ کی تصاویر فیس بک پہ پوسٹ کیں اور مشرف عالم ذوقی صاحب نے کمنٹ کیا کہ کیا یہ افسانہ آپ مجھے ای میل کر سکتی ہیں۔ نہ میں انھیں جانتی تھی اور نہ وہ مجھ سے واقف۔ میری تو کم علمی کا اعتراف یہ کہ میں اتنے بڑے نام سے ناآشنا تھی جبکہ مجھے جاننا کوئی ضروری نہیں تھا۔

ادبی دنیا میں یہ آغاز کا زمانہ تھا اور میری یہ نئی پہچان بہت سے مسائل کو جنم دے رہی تھی سو پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی تھی بلکہ یوں کہیے محتاط پسندی میرا مزاج ہے، میں نے سادہ سا جواب دیا ”میں ہاتھ سے لکھتی ہوں، کمپوزنگ کی سہولت نہیں ہے میرے پاس“ ۔ دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔ اب مرحوم حامد سراج بھائی نے مجھے فون کیا ”سیمیں بہن مشرف عالم ذوقی انڈیا کے بہت بڑے ادیب ہیں، وہاں کے تارڑ سمجھیے، آپ کی خوش قسمتی ہے کہ انہوں نے آپ کے افسانے پہ توجہ دی ہے، آپ کسی بھی طرح انہیں افسانہ بھیج دیجیے“ ۔ اس طرح ان کو فیس بک پر سرچ کر کے فرینڈ ریکویسٹ بھیجی اور یوں ان سے آشنائی کا پہلا زینہ طے ہوا۔

Read more

بیڈ گورنس، سٹے بازی اور قلمی فالج

میرے میاں ایک کاروباری آدمی ہیں۔ ہمارے ایک رشتہ دار جو ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ ہیں کل ہمارے گھر آئے۔ وہ آتے ہی اپنا سر تھام کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے آغاز ہی کچھ ناقابل اشاعت گالیوں سے کیا اور فرمایا ”یہ فلاں کا پتر ہے اسے کون بتائے کہ یہ اب وزیراعظم ہے اور اس کا کام حکومت کرنا ہے اور اسے اب حکومت کرنی چاہیے مگر یہ لگاتار صرف ایک چورن بیچ رہا ہے، اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتا ہے، پتا نہیں نشے میں ہوتا ہے، آج ایک بات کرتا ہے کل دوسری بات کرتا ہے اور پھر جواب میں وہی راگنی چھیڑ دیتا ہے جو پچھلے تین سال سے جاری ہے۔

Read more

کافکا برلب ساحل

’‘ کافکا برلب ساحل ”معروف جاپانی مصنف ہاروکی موراکامی ؔکے ناول ’‘ کافکا اون دی شور“ کا اردو ترجمہ ہے اور اسے ترجمے کے قالب میں ڈھالا ہے نجم الدین احمد نے اور بہت خوب صورتی اور عمدگی سے ڈھالا ہے۔ ناول کے پہلے صفحے پہ درج ہے ’‘ بجھارتیں ڈالتا، مابعد الطبیعاتی گتھیاں کھولتا، طلسماتی حقیقت نگاری کا مرقع، شاہکار جاپانی ناول ”اور ناول کی طلسماتی فضا اور اس کے پراسرار کردار واقعی ایسے ہیں کہ وہ آپ کو

Read more

ایلف شفق کا ناول: حوا کی تین بیٹیاں

” حوا کی تین بیٹیاں“ ایلف شفق کے قلم سے نکلا ایک اور عمدہ ناول ہے۔ ناول چار ابواب یا چار حصوں میں منقسم ہے اور ہر باب کے نیچے بہت سی چھوٹی چھوٹی سرخیاں ہیں۔ ایلف شفق کے ناولز کی ایک خصوصیت سامنے ابھر کر آتی ہے وہ ہیں مضبوط نسوانی کردار جو کہانی میں کسی مفعول یا بھرتی کے کردار نہیں ہوتے بلکہ وہ کہانی کے فاعل ہوتے ہیں، وہ ”عشق کے چالیس دستور“ کی ایلا ہو یا

Read more

دو سانحات اور برڈباکس

فلم ’برڈ باکس‘ دیکھ کر میں ششدر ہوں کہ کیسے کوئی شاہکار بیک وقت بہت سی صورت احوال پہ منطبق ہوتا چلا جاتا ہے یا شاید میرے لاشعور پہ فلم نے گہرا اثر چھوڑا ہے کہ میں دو مختلف سانحات یا دو مختلف صورت احوال پہ ایک سے سوال کھڑے کر رہی ہوں۔ یہ ایک ناول بیسڈ فلم ہے جسے دنیا بھر میں سراہا گیا۔

آئیے ان دو سانحات پہ بات کرتے ہیں۔ پہلا سانحہ تو موٹر وے پہ ہونے والی معزز خاتون کے ساتھ جنسی تشدد کا ہے جی ہاں ہم اسے جنسی تشدد اور بدفعلی ہی کہیں گے۔ کسی کے گندے مذموم فعل کی سزا آپ ایک معزز عورت کو کیسے دے سکتے ہیں کہ وہ بے آبرو ہو گئی؟ کسی کا بد فعل اس کو مجرم ٹھہراتا ہے اور ٹھرانا چاہیے اور اپ مجھے اپنا ’برڈ باکس‘ تھامے رکھنے دیجیے۔ سانحہ در سانحہ یہ ہے کہ ملزم تو ہماری لائق فائق پولیس سے پکڑے نہ گئے۔

Read more

خالد حسینی کا ناول: اے تھاوزنڈ سپلینڈڈ سنز

آج زیر مطالعہ ناول کانام ہے ’‘ A Thousand Splendid Suns ”جس کے مصنف ہیں خالد حسینی۔ یہ وہی خالد حسینی ہیں جو اس سے پہلے دی ’‘ کائٹ رنر“ جیسا معروف ناول دے چکے ہیں۔ ان کا تعلق افغانستان سے ہے۔ خالد حسینی ایک ڈاکٹر ہیں جو اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ شمالی کیلفورنیا میں رہتے ہیں وہ 1965ء میں کابل میں پیدا ہوئے ان کے والد ایک ڈپلو میٹ تھے اور ماں فارسی اور تاریخ پڑھاتی

Read more

سلویا پلاتھ کے ناول ’دی بیل جار‘ کا ایک جائزہ

آئیے آپ کو ایک اور ناول سے متعارف کروایا جائے۔ ناول کا نام ہے ”دی بیل جار“ جسے سلویا پلاتھ ؔنے لکھا۔ پہلی بار یہ ناول 1963 میں وکٹوریا لوکاس ؔکے فرضی یا قلمی نام سے چھپا۔ میرے سامنے اس کتاب کا پچاسواں اینی ورسری ایڈیشن ہے۔ سلویا پلاتھ کا تعلق نیو انگلینڈ امریکہ کی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن ؔسے تھا اور یہ اس کا واحد اکلوتا ناول ہے۔ اس کے بعد محض اکتیس برس کی عمر میں اس نے خود کشی کر لی تھی۔ یہ ناول ایک سوانحی ناول ہے اور یہ کچھ حد تک اس کی اپنی زندگی پہ اساس کرتا ہے جب کہ اس ناول کا شمار ماڈرن کلاسکس میں ہوتا ہے۔

Read more

ایلف شفق کا ناول: دس منٹ اڑتیس سیکنڈز، اس عجیب دنیا میں

ایلف شفق ؔ ایک ایوارڈ یافتہ برٹش ٹرکش ناولسٹ ہیں اور ترکی میں سب زیادہ پڑھے جانے والی خاتون لکھاری ہیں ان کا کام پچاس زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ایلف ؔ کا ناول، ’‘ دس منٹ اڑتیس سیکنڈز، اس عجیب دنیا میں ”، ایک حیرت انگیز ناول ہے۔ اس کی قرات کے بعد آپ خود کو مجبور پاتے ہیں کہ اس پہ بات کی جائے۔ یہ ناول سن دو ہزار انیس عیسوی کے بکر پرائز کے لئے شارٹ

Read more

فیصل آباد کرونا کا گڑھ بن چکا ہے

اب یہ کہنا مشکل ہے کہ چین نے انڈیا کو ٹوپی پہنائی یا انڈیا نے چین کو، بات یہ ہے کہ سیاست کچھ اور چیز ہے اور دھندا کچھ اور چڑیا کا نام ہے۔ انڈیا میں بائیکاٹ چائنہ کی مہم چلی اور چائنہ نے وہی ٹوپی بنانی شروع کردی اب یہ تاجروں اور سیاسی بازی گروں کی ملی بھگت ہی ہے کہ وہ ٹوپی انڈین سروں پہ سجی ہوئی ہے۔ اب یہ ایکسپورٹ امپورٹ کے دھندے ہیں یا سیاست ہے اس کا فیصلہ کون کرے؟ کہنے کو تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ فی زمانہ سیاست ہی بہت بڑا دھندا ہے چلیے ہم سیاست نہیں کہتے نظریہ، سوچ، خیال کہہ لیتے ہیں تو سوچ اور نظریہ تو ہمارے معصوم سے وزیر اعظم کا بھی بہت اچھا ہے یہ اور بات ہے کہ اس کی ناک کے نیچے بہت کچھ ہو جاتا ہے اور اسے خبر ہی نہیں ہوتی اسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون کس کو ٹوپی پہنا گیا یا پھر ہو سکتا ہے کہ نظریہ ہی سیاست کی نذر ہو گیا ہویا پھر دھندا ہی سب سے بڑا دھرم ہو۔

Read more

رمضان واپس آ رہا ہے، رمضان واپس نہیں آرہا

ادب اور صحافت قبرستان کے بعد شاید وہ واحد صنف ہے جو روز قبر کی طرح روز نیا مردہ و مدعا مانگتی ہے اور کورونا کے ہونے سے ادب کو ایک نیا مردہ، معذرت مدعا مل گیا ہے۔ کرونا چھا گیا ہے بھائی، نظم کورونا، غزل کورونا، کالم کورونا، افسانچہ کرونا۔ غرض مختلف اقسام کی ”کورونا کورونا“ کی آوازیں لگ رہی ہیں مگر ہو کچھ بھی نہیں رہا۔ کم ازکم پاکستان کی حد تک تو افواہوں اور سازشی تھیوریز کا وہ طوفان بدتمیزی ہے کہ الحفیظ الامان۔

Read more

وبا کی آفت اور شیخ حرم کے غمزے

ابھی شب معراج گزری ہے اور شعبان کا مقدس مہینہ شروع ہی ہوا ہے اور ہم کورونا جیسی آفت سے جھونجھ رہے ہیں کہ کیسے دنیا کو اس آفت سے بچایا جائے، شب معراج، اس تاریخ انسانی کی ایک بھید بھری اور شاید سب سے پراسرار رات ہے کہ مادے اور روح کے بھید اللہ کے بندے پہ کیسے منکشف ہوئے۔ آپ اعتراض اٹھا سکتے ہیں کہ یہ تو یک طرفہ بیانیہ ہے، ماننے والوں کا ایمان والوں کا بیانیہ

Read more

علیل جبری نظریہ، حرافہ اور میری مرضی

اور ریاست پاکستان میں طالبانی شدت پسندی کا نیا جدید اور ”قابل فخر“ ورژن دستیاب ہے جس کا نام ہے علیل جبری نظریہ۔ جی ہاں یہ اسی سوچ اور نظریے کا تسلسل ہے جو عورت کو اس پدرسری سماج میں محض ایک ملکیت، ایک جائیداد کے طور پہ دیکھتا ہے، اس کے نزدیک وہ مرد کی جاگیر، ناقص العقل، گھر میں پالے مویشی کی طرح اس کے کھونٹے کی گائے سے زیادہ نہیں۔ سو جونہی اس کے اختیار کی محض آواز کسی نعرے، کسی پلے کارڈ، کسی احتجاج کی صورت سامنے آتی ہے تو ظلم کے ایوانوں میں زلزلہ طاری ہوجاتا ہے، طوفان آجاتا ہے، کیا ظالم واقعی اتنا ہی خوفزدہ ہوتا ہے؟

Read more

سنگی کتابیں، ارنسٹ ہیمنگ وے ؔ، اور خاتون افسانہ نگار

قصہ دراصل یہ ہے کہ ہمیں ایک عدد کالم لکھنا تھا ایک کتاب ”سنگی کتابیں، کاغذی پیراہن“ پہ۔ یہ کتاب دراصل کنفیوشس کی تعلیمات کا ترجمہ ہے اور اسے ترجمے کے پیراہن میں ڈھالا ہے اپنے یونس خان ؔ بھائی نے۔ جی، جی وہی دھان پان سے نازک سے یونس بھائی، جن کو انڈیا کے معروف و معتبر ادیب مشرف عالم ذوقی ؔنے پاکستانی ارنسٹ ہیمنگ وے ؔ کہا ہے اور صحیح طور یہ نام دیا ہے۔ مگر ہمارا یہ

Read more

سنجیدہ ہونے کے قطعاً کوئی ضرورت نہیں

بات کچھ یوں ہے کہ کچھ عرصے سے ایک عجیب سی کیفیت طاری تھی میرے کچھ مہربان قارئین نے گلہ بھی کیا کہ آپ کہاں غائب ہیں۔ کچھ لکھ کیوں نہیں رہیں۔ بتانے کو وجوہات بہت تھیں مگر حال یہ کہ بتانے کو بھی دل نہ چاہے کہ میں کس غبار میں ہوں۔ خیر مجھ پہ یہ عالم آتے جاتے رہتے ہیں آپ اسے عرف عام میں سستی اور الکساہٹ کہہ لیجیے۔ ایسا نہیں تھا کہ خیال بانجھ تھے۔ بہت

Read more

کشمیری کیا چاہتے ہیں؟

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان۔ وہ عمر جب یہ احساس بھی بالغ نہیں تھا کہ یہ شہ رگ کہتے کسے ہیں اور آج جب کوئی یہ کہے کہ یہ ایک اَن دیکھی سرزمین سے کیسا درد کا رشتہ ہے تو میں کیسے بتاؤں کہ میں اسی نسل کی نمایندہ ہوں جو اپنی ماؤں سے کشمیر کے گیت سنتے اس عمر کو آن پہنچے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ کبھی

Read more

وار اکانومی کا ایک اور پھندہ ؟

کرنے کو لکھنے کو بہت سے ادھورے کام دہائی دے رہے ہیں مگر دل مانتا ہی نھیں۔ اک عجب ملال نے گھیر رکھا ہے غم و غصہ اجازت نہیں دیتے اور پابند سلاسل کرتے ہیں کہ بات صرف اسی موضوع پہ ہے، بات 370 اور 35 اے کی ہو۔ مگر پھر مزید بددلی چھا جاتی ہے کیا فائدہ۔ جب سے یہ مدعا تازہ ہوا ہے ہر طرف اتنی چیخ و پکار اور واویلا ہو چکا کہ یہ سب کچھ سب کو شاید ازبر ہو چکا ہو۔ ازبر ہو چکا تو بھی ہم نے کون سا تیر مار لیا۔

Read more

میں اداس ہوں مگر۔۔۔

حبس گرم موسم ہو اور اس پہ مستزاد ہر طرف اک دھند چھائی ہوئی ہو تو کوفت اداسی میں بدل جاتی ہے سو میں بہت اداس ہوں بیزار ہوں، ہر چیز ہر منظر دھند میں لپٹا ہے یا لپیٹ دیا گیا ہے۔ یہ بھی سمجھ نہیں آتی معاشرتی سماجی اور سیاسی سطح پہ ہم ایک دھند زدہ ماحول کا شکار ہیں اور یہ ایک اداس کردینے والی بات ہے۔ مگر رکیے، سیاسی۔ ۔ ۔اس لفظ پہ آکر میرا قلم کچھ

Read more

کنویں میں ٹراتے مینڈکوں سے کچھ سوال

تیزی سے اپنے اختتام کو بڑھتا یہ ماہ صیام جس کے سحر و افطار کی پرنور ساعتوں کی رونق ہی کچھ عجب ہے، ان ساعتوں کو جو خاموشی و سکوت سے سنیں تو وجدان پہ عجب پھڑپھڑاہٹیں دستک دیتی ہیں، کبھی کبھی الجھن بھی ہونے لگتی ہے کہ توبہ ہے جو ان ساعتوں میں کہ جس کے لیے فرمایا گیا ”اور جب رات رخصت ہونے لگتی ہے اور صبح سانس لیتی ہے“ تو جی چاہنے لگتا ہے کسی سکوت لمحے

Read more

خبردار! یہاں سیاست صحت کے لیے مضر ہے

جی عنوان آپ کو چونکنے پہ مجبور کررہا ہے تو چلئے تاریخ کے دھندلکوں میں جھانک لیتے ہیں۔ یہ مملکت خداداد جس پہ ہر طبقہ خاص نے اپنی مرضی و نظریے کی ٹوپی رکھنے کی کوشش کی ہے یہ اور بات ہے کہ اس کے نصیب میں ہمیشہ ہنی ٹوپی ہی رہی۔ محمد علی جناح کی بے مثل سیاسی جدوجہد سے تشکیل پاتی یہ مملکت کسی عسکری محاز آرائی کا نتیجہ نہیں تھی یہ سیاست کا تحفہ خاص تھا۔ وہی محمد علی جناح کراچی کے سفر میں ایمبولینس میں بے یار و مددگار یوں پڑا تھا کہ بقول فاطمہ جناح مکھیاں اس کے چہرے پہ بھنبھناتی تھیں اور ان کو اڑانے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔

Read more

یوم نسواں، تبدیلی کا تخم

مجھے یاد ہے جب چھوٹی سی تھی دس گیارہ برس تک کی تو مہندی، چوڑیوں، گہنوں کا اتنا شوق تھا کہ بس۔ عید ہو یا کوئی تہوار ماں مجھے کسی کانچ کی گڑیا کی طرح بنا سنوار دیتی، ایک ایک چیز بالوں کے پھول پتے، گلے کے ہار، بندے انگوٹھیاں ماں کس چاؤ سے لے کر دیتی، ایک سے بڑھ کر ایک فیشن کا کپڑا خود سی کر پہناتی اور بس اس کے بعد میں ہوتی عید کے منے سے پرس میں جمع عیدی اور بازار، گھر واپس آتی اور پھر سیمنٹ کی الماری میں اونچائی پہ دھرے شیشے تک پہنچنے کے لیے اسٹول رکھا جاتا، میک اپ دوبارہ درست ہوتا، ماں چھیڑتی، گدگداتی مگر اس نے کبھی منع نہیں کیا تھا۔

اس کی قیمتی چیزوں پہ ہاتھ صاف کیا میں نے مگر ذرا سی بڑی ہوئی اردگرد کے ماحول کو دیکھا جہاں عورت اس کا سنگھار اس کا زیور اس کی کمزوری ٹھہرتے تھے۔ دو رخا معاشرہ ایک طرف عورت کو انہی رنگوں میں سجا دیکھنا چاہتا اور دوسری جانب انہیں اس کی کمزوری بھی گردانتا، جانے حساس دل پہ کیسی چوٹ پڑی، نظروں کی غلیظ ہوس کیسے روح کو پامال کر گئی۔ یک لخت ہر چیز سے جی اُوب گیا بہت سادہ رہنا شروع کردیا، میں نے اپنے جیب خرچ سے خود چادر خریدی، باپ کے ساتھ جا کر بال سیٹ کروانے سے انکار کر کے لمبے پراندے پہنے تو ماں نے مجھے غصے سے ماسی کہا، کپڑوں کے رنگ بھی بس سفید ہوتے یا سیاہ، مہندی چوڑی سب چھوڑ دی، جانے یہ رد عمل تھا کہ یہ زیور میری کمزوری نہیں یا مجھے کوئی اس آرایش کے باعث تحقیر کی نظر سے نہ دیکھے۔

Read more

جنگ کے جنون سے بیزار ہیں ہم

سوشل میڈیا دیکھ لیجیے یا پھر ٹی وی کا بٹن ان کرلیجیے۔ اس وقت جو سودا سب سے مہنگا بک رہا ہے وہ جنگی جنون کا ہے۔ کیا اس جنگی جنون میں دو ایٹمی طاقتوں کے عوام کو جان بوجھ کر مبتلا کیا جارہا ہے؟ یہ سوال غور طلب ضرور ہے۔ دونوں طرف کے عوام جو ایک طویل سرحد کے ساتھ جڑے ہیں۔ یہ طویل سرحد صرف جغرافیے کی نہیں ثقافت کلچر، نفسیات، رسومات، زبان و چٹخارے کے ذائقے کے اشتراک سے لے کر کون کون سی سانجھ ہے جس میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ مشترک نہیں۔ رنگ ایک ہم بہت سوں کے، اب و جد ایک، سرحد پار علاقوں میں اکثر آدھا خاندان ادھر آدھا ادھر، خونی رشتے ہیں جو تقسیم ہوے پڑے ہیں، کیا ان تمام اشتراکات کے بعد یہ جنگی جنون ہمارے ذی ہوش ہونے پہ بہت بڑا سوال کھڑا نہیں کرتا؟

Read more

اولاد کی پیدائش اور کہنی کی چوٹ

قریبی عزیزہ کے گھر ولادت با سعادت ہوئی تھی نومولود کو دیکھنے جانا تھا سو اپنی بیٹی کے ہمراہ گئی، وہ ننھے منے کھلونے جیسے بچے کے ساتھ مصروف ہوگئی، مما دیکھیں اس کے ننھے منے ہاتھ، اس کے پاؤں کتنے پیارے ہیں، بالکل روئی جیسے۔ وہاں دیگر خواتین بھی آئی بیٹھی تھیں سب بچے کو دیکھتیں پیار کرتیں دعائیں اور تحائف یا نقدی تھماتی اور اس کے بعد گفتگو گھوم پھر کے ایک ہی مرغوب موضوع پہ آ ٹھرتی کہ بچہ نارمل ہوا یا بڑا آپریشن کروایا، زچہ نے کتنی دیر دردیں برداشت کیں، کتنے دن سے تکلیف تھی، بڑا آپریشن ہوا تو کتنے ٹانکے لگے، نارمل ڈلیوری گر خوش قسمتی سے ہوگئی تو بڑے اشتیاق سے اس قابل ماہر ڈاکٹر کا پوچھا گیا۔

جہاں ڈاکٹروں کی ڈھٹائی کا ذکر ہوا جنھوں نے ظالمانہ قصائیوں جیسے رویے اختیار کر لیے ہیں۔ بزرگ خواتین نے جہاں ان ’موئی ڈاکٹرنیوں‘ کو کوسا جو اپنے پیسے، لمبی فیسیں اور ہسپتالوں کے بل بنانے کے چکر میں ہر مریضہ کو کاٹ پھاڑ دیتی ہیں اور آپریشن کرنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرلیتی ہیں وہیں آج کی ان نازک اندام لڑکیوں کو کوسا گیا جو ڈائیٹنگ کر کر کے اپنا بیڑہ غرق کر چکی ہیں نہ کام کی نا کاج کی۔ اور جب کوئی کام نہیں کرنا تو آپریشن ہی کروائیں گی کم بخت۔

Read more

انصاف کی بدبو دیتی لاش

یتیمی کہنے کو تو ایک لفظ ہے مگر صاحبو دراصل یہ ایک کیفیت ہے اور یہ کیفیت جب دل کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو پھر یہ قبر تک جان نہیں چھوڑتی یہ حزن آپ کی ذات کا حصہ بن جاتا ہے مختلف شکلیں اور روپ دھارتا ہے مگر پیچھے وہی ظالم کیفیت کارفرما ہوتی ہے۔

بہت سے زخم ادھڑے پڑے ہیں، ساری فلم انکھوں کے آگے پھر سے چل رہی ہے جب یتیمی نے مرے دروازے پہ دستک دی تھی، وہ لاہور سے ماموں کی شادی میں شرکت کی مہینوں سے چلتی تیاریوں کے بعد ہماری گاڑی فیصل آباد کے لیے روانہ ہوئی جس میں زندگی کرتا کھیلتا مسکراتا پورا خاندان سوار تھا اور پھر کھڑلیانوالہ کے پاس بدترین ایکسیڈنٹ جس میں میری ماں کو بدترین چوٹیں آئیں۔ تب ہاں تب یتیمی ہمارے دروازے پہ ہلکی سی دستک دے رہی تھی۔

Read more

ادبی منظر نامہ 2018

ایک ایسا وقت جب یہ شور وغوغا بلند ہوکہ ادب پھل پھول نہیں رہا ، اُردو ادب اپنی موت مر رہا ہے ۔ کتاب کلچر کو نیٹ کی دنیا نے بُری طرح نگل لیا ہے۔ دنیا جو ایک بالکل نئی کروٹ لے چکی ان گزشتہ دو دودہائیوں میں ، نئے انداز اور رویے ہمارےدروازوں پر دستک دے رہے ہیں بلکہ دستک دے کر ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ وہاں ان سوالوں کو اور آج کے ادب کو دیکھنے اور اس پہ بات کرنے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ اس بات پر غور کرنے کی اور ان مفروضوکو غلط ثابت کرنے کی کہ کیا واقعی اردو زبان زوال پزیر ہے۔

کیا اردو ادب تخلیق نہیں ہو رہا ، ایسا ادب جو بین الاقوامی ادب کا مقابلہ کر سکے۔ کیا کتاب کلچر ہمارے بیچ سےغائب ہو چکا ہے؟ کتاب کی جگہ واقعی نیٹ اور سوشل میڈیا لے چکا ؟

Read more