رمضان واپس آ رہا ہے، رمضان واپس نہیں آرہا

ادب اور صحافت قبرستان کے بعد شاید وہ واحد صنف ہے جو روز قبر کی طرح روز نیا مردہ و مدعا مانگتی ہے اور کورونا کے ہونے سے ادب کو ایک نیا مردہ، معذرت مدعا مل گیا ہے۔ کرونا چھا گیا ہے بھائی، نظم کورونا، غزل کورونا، کالم کورونا، افسانچہ کرونا۔ غرض مختلف اقسام کی ”کورونا کورونا“ کی آوازیں لگ رہی ہیں مگر ہو کچھ بھی نہیں رہا۔ کم ازکم پاکستان کی حد تک تو افواہوں اور سازشی تھیوریز کا وہ طوفان بدتمیزی ہے کہ الحفیظ الامان۔

Read more

وبا کی آفت اور شیخ حرم کے غمزے

ابھی شب معراج گزری ہے اور شعبان کا مقدس مہینہ شروع ہی ہوا ہے اور ہم کورونا جیسی آفت سے جھونجھ رہے ہیں کہ کیسے دنیا کو اس آفت سے بچایا جائے، شب معراج، اس تاریخ انسانی کی ایک بھید بھری اور شاید سب سے پراسرار رات ہے کہ مادے اور روح کے بھید اللہ…

Read more

علیل جبری نظریہ، حرافہ اور میری مرضی

اور ریاست پاکستان میں طالبانی شدت پسندی کا نیا جدید اور ”قابل فخر“ ورژن دستیاب ہے جس کا نام ہے علیل جبری نظریہ۔ جی ہاں یہ اسی سوچ اور نظریے کا تسلسل ہے جو عورت کو اس پدرسری سماج میں محض ایک ملکیت، ایک جائیداد کے طور پہ دیکھتا ہے، اس کے نزدیک وہ مرد کی جاگیر، ناقص العقل، گھر میں پالے مویشی کی طرح اس کے کھونٹے کی گائے سے زیادہ نہیں۔ سو جونہی اس کے اختیار کی محض آواز کسی نعرے، کسی پلے کارڈ، کسی احتجاج کی صورت سامنے آتی ہے تو ظلم کے ایوانوں میں زلزلہ طاری ہوجاتا ہے، طوفان آجاتا ہے، کیا ظالم واقعی اتنا ہی خوفزدہ ہوتا ہے؟

Read more

سنگی کتابیں، ارنسٹ ہیمنگ وے ؔ، اور خاتون افسانہ نگار

قصہ دراصل یہ ہے کہ ہمیں ایک عدد کالم لکھنا تھا ایک کتاب ”سنگی کتابیں، کاغذی پیراہن“ پہ۔ یہ کتاب دراصل کنفیوشس کی تعلیمات کا ترجمہ ہے اور اسے ترجمے کے پیراہن میں ڈھالا ہے اپنے یونس خان ؔ بھائی نے۔ جی، جی وہی دھان پان سے نازک سے یونس بھائی، جن کو انڈیا کے…

Read more

سنجیدہ ہونے کے قطعاً کوئی ضرورت نہیں

بات کچھ یوں ہے کہ کچھ عرصے سے ایک عجیب سی کیفیت طاری تھی میرے کچھ مہربان قارئین نے گلہ بھی کیا کہ آپ کہاں غائب ہیں۔ کچھ لکھ کیوں نہیں رہیں۔ بتانے کو وجوہات بہت تھیں مگر حال یہ کہ بتانے کو بھی دل نہ چاہے کہ میں کس غبار میں ہوں۔ خیر مجھ…

Read more

کشمیری کیا چاہتے ہیں؟

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان۔ وہ عمر جب یہ احساس بھی بالغ نہیں تھا کہ یہ شہ رگ کہتے کسے ہیں اور آج جب کوئی یہ کہے کہ یہ ایک اَن دیکھی سرزمین سے کیسا درد کا رشتہ ہے تو میں کیسے بتاؤں کہ…

Read more

وار اکانومی کا ایک اور پھندہ ؟

کرنے کو لکھنے کو بہت سے ادھورے کام دہائی دے رہے ہیں مگر دل مانتا ہی نھیں۔ اک عجب ملال نے گھیر رکھا ہے غم و غصہ اجازت نہیں دیتے اور پابند سلاسل کرتے ہیں کہ بات صرف اسی موضوع پہ ہے، بات 370 اور 35 اے کی ہو۔ مگر پھر مزید بددلی چھا جاتی ہے کیا فائدہ۔ جب سے یہ مدعا تازہ ہوا ہے ہر طرف اتنی چیخ و پکار اور واویلا ہو چکا کہ یہ سب کچھ سب کو شاید ازبر ہو چکا ہو۔ ازبر ہو چکا تو بھی ہم نے کون سا تیر مار لیا۔

Read more

میں اداس ہوں مگر۔۔۔

حبس گرم موسم ہو اور اس پہ مستزاد ہر طرف اک دھند چھائی ہوئی ہو تو کوفت اداسی میں بدل جاتی ہے سو میں بہت اداس ہوں بیزار ہوں، ہر چیز ہر منظر دھند میں لپٹا ہے یا لپیٹ دیا گیا ہے۔ یہ بھی سمجھ نہیں آتی معاشرتی سماجی اور سیاسی سطح پہ ہم ایک…

Read more

کنویں میں ٹراتے مینڈکوں سے کچھ سوال

تیزی سے اپنے اختتام کو بڑھتا یہ ماہ صیام جس کے سحر و افطار کی پرنور ساعتوں کی رونق ہی کچھ عجب ہے، ان ساعتوں کو جو خاموشی و سکوت سے سنیں تو وجدان پہ عجب پھڑپھڑاہٹیں دستک دیتی ہیں، کبھی کبھی الجھن بھی ہونے لگتی ہے کہ توبہ ہے جو ان ساعتوں میں کہ…

Read more

خبردار! یہاں سیاست صحت کے لیے مضر ہے

جی عنوان آپ کو چونکنے پہ مجبور کررہا ہے تو چلئے تاریخ کے دھندلکوں میں جھانک لیتے ہیں۔ یہ مملکت خداداد جس پہ ہر طبقہ خاص نے اپنی مرضی و نظریے کی ٹوپی رکھنے کی کوشش کی ہے یہ اور بات ہے کہ اس کے نصیب میں ہمیشہ ہنی ٹوپی ہی رہی۔ محمد علی جناح کی بے مثل سیاسی جدوجہد سے تشکیل پاتی یہ مملکت کسی عسکری محاز آرائی کا نتیجہ نہیں تھی یہ سیاست کا تحفہ خاص تھا۔ وہی محمد علی جناح کراچی کے سفر میں ایمبولینس میں بے یار و مددگار یوں پڑا تھا کہ بقول فاطمہ جناح مکھیاں اس کے چہرے پہ بھنبھناتی تھیں اور ان کو اڑانے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔

Read more