یوم نسواں، تبدیلی کا تخم

مجھے یاد ہے جب چھوٹی سی تھی دس گیارہ برس تک کی تو مہندی، چوڑیوں، گہنوں کا اتنا شوق تھا کہ بس۔ عید ہو یا کوئی تہوار ماں مجھے کسی کانچ کی گڑیا کی طرح بنا سنوار دیتی، ایک ایک چیز بالوں کے پھول پتے، گلے کے ہار، بندے انگوٹھیاں ماں کس چاؤ سے لے کر دیتی، ایک سے بڑھ کر ایک فیشن کا کپڑا خود سی کر پہناتی اور بس اس کے بعد میں ہوتی عید کے منے سے پرس میں جمع عیدی اور بازار، گھر واپس آتی اور پھر سیمنٹ کی الماری میں اونچائی پہ دھرے شیشے تک پہنچنے کے لیے اسٹول رکھا جاتا، میک اپ دوبارہ درست ہوتا، ماں چھیڑتی، گدگداتی مگر اس نے کبھی منع نہیں کیا تھا۔

اس کی قیمتی چیزوں پہ ہاتھ صاف کیا میں نے مگر ذرا سی بڑی ہوئی اردگرد کے ماحول کو دیکھا جہاں عورت اس کا سنگھار اس کا زیور اس کی کمزوری ٹھہرتے تھے۔ دو رخا معاشرہ ایک طرف عورت کو انہی رنگوں میں سجا دیکھنا چاہتا اور دوسری جانب انہیں اس کی کمزوری بھی گردانتا، جانے حساس دل پہ کیسی چوٹ پڑی، نظروں کی غلیظ ہوس کیسے روح کو پامال کر گئی۔ یک لخت ہر چیز سے جی اُوب گیا بہت سادہ رہنا شروع کردیا، میں نے اپنے جیب خرچ سے خود چادر خریدی، باپ کے ساتھ جا کر بال سیٹ کروانے سے انکار کر کے لمبے پراندے پہنے تو ماں نے مجھے غصے سے ماسی کہا، کپڑوں کے رنگ بھی بس سفید ہوتے یا سیاہ، مہندی چوڑی سب چھوڑ دی، جانے یہ رد عمل تھا کہ یہ زیور میری کمزوری نہیں یا مجھے کوئی اس آرایش کے باعث تحقیر کی نظر سے نہ دیکھے۔

Read more

جنگ کے جنون سے بیزار ہیں ہم

سوشل میڈیا دیکھ لیجیے یا پھر ٹی وی کا بٹن ان کرلیجیے۔ اس وقت جو سودا سب سے مہنگا بک رہا ہے وہ جنگی جنون کا ہے۔ کیا اس جنگی جنون میں دو ایٹمی طاقتوں کے عوام کو جان بوجھ کر مبتلا کیا جارہا ہے؟ یہ سوال غور طلب ضرور ہے۔ دونوں طرف کے عوام جو ایک طویل سرحد کے ساتھ جڑے ہیں۔ یہ طویل سرحد صرف جغرافیے کی نہیں ثقافت کلچر، نفسیات، رسومات، زبان و چٹخارے کے ذائقے کے اشتراک سے لے کر کون کون سی سانجھ ہے جس میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ مشترک نہیں۔ رنگ ایک ہم بہت سوں کے، اب و جد ایک، سرحد پار علاقوں میں اکثر آدھا خاندان ادھر آدھا ادھر، خونی رشتے ہیں جو تقسیم ہوے پڑے ہیں، کیا ان تمام اشتراکات کے بعد یہ جنگی جنون ہمارے ذی ہوش ہونے پہ بہت بڑا سوال کھڑا نہیں کرتا؟

Read more

اولاد کی پیدائش اور کہنی کی چوٹ

قریبی عزیزہ کے گھر ولادت با سعادت ہوئی تھی نومولود کو دیکھنے جانا تھا سو اپنی بیٹی کے ہمراہ گئی، وہ ننھے منے کھلونے جیسے بچے کے ساتھ مصروف ہوگئی، مما دیکھیں اس کے ننھے منے ہاتھ، اس کے پاؤں کتنے پیارے ہیں، بالکل روئی جیسے۔ وہاں دیگر خواتین بھی آئی بیٹھی تھیں سب بچے کو دیکھتیں پیار کرتیں دعائیں اور تحائف یا نقدی تھماتی اور اس کے بعد گفتگو گھوم پھر کے ایک ہی مرغوب موضوع پہ آ ٹھرتی کہ بچہ نارمل ہوا یا بڑا آپریشن کروایا، زچہ نے کتنی دیر دردیں برداشت کیں، کتنے دن سے تکلیف تھی، بڑا آپریشن ہوا تو کتنے ٹانکے لگے، نارمل ڈلیوری گر خوش قسمتی سے ہوگئی تو بڑے اشتیاق سے اس قابل ماہر ڈاکٹر کا پوچھا گیا۔

جہاں ڈاکٹروں کی ڈھٹائی کا ذکر ہوا جنھوں نے ظالمانہ قصائیوں جیسے رویے اختیار کر لیے ہیں۔ بزرگ خواتین نے جہاں ان ’موئی ڈاکٹرنیوں‘ کو کوسا جو اپنے پیسے، لمبی فیسیں اور ہسپتالوں کے بل بنانے کے چکر میں ہر مریضہ کو کاٹ پھاڑ دیتی ہیں اور آپریشن کرنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرلیتی ہیں وہیں آج کی ان نازک اندام لڑکیوں کو کوسا گیا جو ڈائیٹنگ کر کر کے اپنا بیڑہ غرق کر چکی ہیں نہ کام کی نا کاج کی۔ اور جب کوئی کام نہیں کرنا تو آپریشن ہی کروائیں گی کم بخت۔

Read more

انصاف کی بدبو دیتی لاش

یتیمی کہنے کو تو ایک لفظ ہے مگر صاحبو دراصل یہ ایک کیفیت ہے اور یہ کیفیت جب دل کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو پھر یہ قبر تک جان نہیں چھوڑتی یہ حزن آپ کی ذات کا حصہ بن جاتا ہے مختلف شکلیں اور روپ دھارتا ہے مگر پیچھے وہی ظالم کیفیت کارفرما ہوتی ہے۔

بہت سے زخم ادھڑے پڑے ہیں، ساری فلم انکھوں کے آگے پھر سے چل رہی ہے جب یتیمی نے مرے دروازے پہ دستک دی تھی، وہ لاہور سے ماموں کی شادی میں شرکت کی مہینوں سے چلتی تیاریوں کے بعد ہماری گاڑی فیصل آباد کے لیے روانہ ہوئی جس میں زندگی کرتا کھیلتا مسکراتا پورا خاندان سوار تھا اور پھر کھڑلیانوالہ کے پاس بدترین ایکسیڈنٹ جس میں میری ماں کو بدترین چوٹیں آئیں۔ تب ہاں تب یتیمی ہمارے دروازے پہ ہلکی سی دستک دے رہی تھی۔

Read more

ادبی منظر نامہ 2018

ایک ایسا وقت جب یہ شور وغوغا بلند ہوکہ ادب پھل پھول نہیں رہا ، اُردو ادب اپنی موت مر رہا ہے ۔ کتاب کلچر کو نیٹ کی دنیا نے بُری طرح نگل لیا ہے۔ دنیا جو ایک بالکل نئی کروٹ لے چکی ان گزشتہ دو دودہائیوں میں ، نئے انداز اور رویے ہمارےدروازوں پر دستک دے رہے ہیں بلکہ دستک دے کر ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ وہاں ان سوالوں کو اور آج کے ادب کو دیکھنے اور اس پہ بات کرنے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ اس بات پر غور کرنے کی اور ان مفروضوکو غلط ثابت کرنے کی کہ کیا واقعی اردو زبان زوال پزیر ہے۔

کیا اردو ادب تخلیق نہیں ہو رہا ، ایسا ادب جو بین الاقوامی ادب کا مقابلہ کر سکے۔ کیا کتاب کلچر ہمارے بیچ سےغائب ہو چکا ہے؟ کتاب کی جگہ واقعی نیٹ اور سوشل میڈیا لے چکا ؟

Read more