وبا کی آفت اور شیخ حرم کے غمزے

ابھی شب معراج گزری ہے اور شعبان کا مقدس مہینہ شروع ہی ہوا ہے اور ہم کورونا جیسی آفت سے جھونجھ رہے ہیں کہ کیسے دنیا کو اس آفت سے بچایا جائے، شب معراج، اس تاریخ انسانی کی ایک بھید بھری اور شاید سب سے پراسرار رات ہے کہ مادے اور روح کے بھید اللہ…

Read more

علیل جبری نظریہ، حرافہ اور میری مرضی

اور ریاست پاکستان میں طالبانی شدت پسندی کا نیا جدید اور ”قابل فخر“ ورژن دستیاب ہے جس کا نام ہے علیل جبری نظریہ۔ جی ہاں یہ اسی سوچ اور نظریے کا تسلسل ہے جو عورت کو اس پدرسری سماج میں محض ایک ملکیت، ایک جائیداد کے طور پہ دیکھتا ہے، اس کے نزدیک وہ مرد کی جاگیر، ناقص العقل، گھر میں پالے مویشی کی طرح اس کے کھونٹے کی گائے سے زیادہ نہیں۔ سو جونہی اس کے اختیار کی محض آواز کسی نعرے، کسی پلے کارڈ، کسی احتجاج کی صورت سامنے آتی ہے تو ظلم کے ایوانوں میں زلزلہ طاری ہوجاتا ہے، طوفان آجاتا ہے، کیا ظالم واقعی اتنا ہی خوفزدہ ہوتا ہے؟

Read more

سنگی کتابیں، ارنسٹ ہیمنگ وے ؔ، اور خاتون افسانہ نگار

قصہ دراصل یہ ہے کہ ہمیں ایک عدد کالم لکھنا تھا ایک کتاب ”سنگی کتابیں، کاغذی پیراہن“ پہ۔ یہ کتاب دراصل کنفیوشس کی تعلیمات کا ترجمہ ہے اور اسے ترجمے کے پیراہن میں ڈھالا ہے اپنے یونس خان ؔ بھائی نے۔ جی، جی وہی دھان پان سے نازک سے یونس بھائی، جن کو انڈیا کے…

Read more

سنجیدہ ہونے کے قطعاً کوئی ضرورت نہیں

بات کچھ یوں ہے کہ کچھ عرصے سے ایک عجیب سی کیفیت طاری تھی میرے کچھ مہربان قارئین نے گلہ بھی کیا کہ آپ کہاں غائب ہیں۔ کچھ لکھ کیوں نہیں رہیں۔ بتانے کو وجوہات بہت تھیں مگر حال یہ کہ بتانے کو بھی دل نہ چاہے کہ میں کس غبار میں ہوں۔ خیر مجھ…

Read more

کشمیری کیا چاہتے ہیں؟

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان۔ وہ عمر جب یہ احساس بھی بالغ نہیں تھا کہ یہ شہ رگ کہتے کسے ہیں اور آج جب کوئی یہ کہے کہ یہ ایک اَن دیکھی سرزمین سے کیسا درد کا رشتہ ہے تو میں کیسے بتاؤں کہ…

Read more

وار اکانومی کا ایک اور پھندہ ؟

کرنے کو لکھنے کو بہت سے ادھورے کام دہائی دے رہے ہیں مگر دل مانتا ہی نھیں۔ اک عجب ملال نے گھیر رکھا ہے غم و غصہ اجازت نہیں دیتے اور پابند سلاسل کرتے ہیں کہ بات صرف اسی موضوع پہ ہے، بات 370 اور 35 اے کی ہو۔ مگر پھر مزید بددلی چھا جاتی ہے کیا فائدہ۔ جب سے یہ مدعا تازہ ہوا ہے ہر طرف اتنی چیخ و پکار اور واویلا ہو چکا کہ یہ سب کچھ سب کو شاید ازبر ہو چکا ہو۔ ازبر ہو چکا تو بھی ہم نے کون سا تیر مار لیا۔

Read more

میں اداس ہوں مگر۔۔۔

حبس گرم موسم ہو اور اس پہ مستزاد ہر طرف اک دھند چھائی ہوئی ہو تو کوفت اداسی میں بدل جاتی ہے سو میں بہت اداس ہوں بیزار ہوں، ہر چیز ہر منظر دھند میں لپٹا ہے یا لپیٹ دیا گیا ہے۔ یہ بھی سمجھ نہیں آتی معاشرتی سماجی اور سیاسی سطح پہ ہم ایک…

Read more

کنویں میں ٹراتے مینڈکوں سے کچھ سوال

تیزی سے اپنے اختتام کو بڑھتا یہ ماہ صیام جس کے سحر و افطار کی پرنور ساعتوں کی رونق ہی کچھ عجب ہے، ان ساعتوں کو جو خاموشی و سکوت سے سنیں تو وجدان پہ عجب پھڑپھڑاہٹیں دستک دیتی ہیں، کبھی کبھی الجھن بھی ہونے لگتی ہے کہ توبہ ہے جو ان ساعتوں میں کہ…

Read more

خبردار! یہاں سیاست صحت کے لیے مضر ہے

جی عنوان آپ کو چونکنے پہ مجبور کررہا ہے تو چلئے تاریخ کے دھندلکوں میں جھانک لیتے ہیں۔ یہ مملکت خداداد جس پہ ہر طبقہ خاص نے اپنی مرضی و نظریے کی ٹوپی رکھنے کی کوشش کی ہے یہ اور بات ہے کہ اس کے نصیب میں ہمیشہ ہنی ٹوپی ہی رہی۔ محمد علی جناح کی بے مثل سیاسی جدوجہد سے تشکیل پاتی یہ مملکت کسی عسکری محاز آرائی کا نتیجہ نہیں تھی یہ سیاست کا تحفہ خاص تھا۔ وہی محمد علی جناح کراچی کے سفر میں ایمبولینس میں بے یار و مددگار یوں پڑا تھا کہ بقول فاطمہ جناح مکھیاں اس کے چہرے پہ بھنبھناتی تھیں اور ان کو اڑانے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔

Read more

یوم نسواں، تبدیلی کا تخم

مجھے یاد ہے جب چھوٹی سی تھی دس گیارہ برس تک کی تو مہندی، چوڑیوں، گہنوں کا اتنا شوق تھا کہ بس۔ عید ہو یا کوئی تہوار ماں مجھے کسی کانچ کی گڑیا کی طرح بنا سنوار دیتی، ایک ایک چیز بالوں کے پھول پتے، گلے کے ہار، بندے انگوٹھیاں ماں کس چاؤ سے لے کر دیتی، ایک سے بڑھ کر ایک فیشن کا کپڑا خود سی کر پہناتی اور بس اس کے بعد میں ہوتی عید کے منے سے پرس میں جمع عیدی اور بازار، گھر واپس آتی اور پھر سیمنٹ کی الماری میں اونچائی پہ دھرے شیشے تک پہنچنے کے لیے اسٹول رکھا جاتا، میک اپ دوبارہ درست ہوتا، ماں چھیڑتی، گدگداتی مگر اس نے کبھی منع نہیں کیا تھا۔

اس کی قیمتی چیزوں پہ ہاتھ صاف کیا میں نے مگر ذرا سی بڑی ہوئی اردگرد کے ماحول کو دیکھا جہاں عورت اس کا سنگھار اس کا زیور اس کی کمزوری ٹھہرتے تھے۔ دو رخا معاشرہ ایک طرف عورت کو انہی رنگوں میں سجا دیکھنا چاہتا اور دوسری جانب انہیں اس کی کمزوری بھی گردانتا، جانے حساس دل پہ کیسی چوٹ پڑی، نظروں کی غلیظ ہوس کیسے روح کو پامال کر گئی۔ یک لخت ہر چیز سے جی اُوب گیا بہت سادہ رہنا شروع کردیا، میں نے اپنے جیب خرچ سے خود چادر خریدی، باپ کے ساتھ جا کر بال سیٹ کروانے سے انکار کر کے لمبے پراندے پہنے تو ماں نے مجھے غصے سے ماسی کہا، کپڑوں کے رنگ بھی بس سفید ہوتے یا سیاہ، مہندی چوڑی سب چھوڑ دی، جانے یہ رد عمل تھا کہ یہ زیور میری کمزوری نہیں یا مجھے کوئی اس آرایش کے باعث تحقیر کی نظر سے نہ دیکھے۔

Read more