عمران آئین شکنی کے مرتکب ہوئے۔ قاسم سوری پر غداری کا مقدمہ بننا چاہیے: قانونی ماہرین کی رائے


ملک بھر کے آئینی و قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ عمران آئین شکنی کے مرتکب ہوئے۔ قاسم سوری نے غیر قانونی اقدام کیا۔ ان پر غداری کا مقدمہ بننا چاہیے۔ احسن بھون کا کہنا ہے کہ پارلیمانی نظام کے خلاف سازش ہوئی۔ اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ بادی النظر میں اسپیکر کی رولنگ خلاف آئین دکھائی دے رہی ہے۔ صلاح الدین احمد نے کہا کہ آئین و جمہوریت کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ راجہ خالد اور شائق عثمانی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ڈپٹی اسپیکر کی کارروائی یقیناً کالعدم قرار دے گی۔

رشید رضوی کا کہنا تھا کہ اقتدار کے لئے آئین سے کھیلا گیا۔ سلمان اکرام راجہ نے کہا کہ عدالت نے اقدام غیر قانونی قرار دیا تو تحلیل کا اقدام ریورس ہو جائے گا اور تحریک عدم اعتماد اپنی جگہ قائم رہے گی۔ خواجہ حارث نے کہا کہ اپوزیشن سپریم کورٹ میں بتائے کہ اجلاس کی کارروائی فکس تھی۔ حامد خان نے کہا کہ اقدام غداری کے زمرے میں آتا ہے۔
گزشتہ روز قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد بغیر ووٹنگ مسترد ہونے کے بعد اسمبلی تحلیل کیے جانے کے ردعمل میں سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون نے کہا ہے کہ عمران خان آئین شکنی کے مرتکب ہوئے۔ اسمبلی کی تحلیل کا کوئی قانونی آئینی جواز نہیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے غیر آئینی اقدام کیا۔ یہ پارلیمانی نظام کے خلاف سازش ہے۔ ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا اور انارکی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ چیف جسٹس معاملے پر فوری مداخلت کریں۔ جس طرح صورتحال پیدا کی گئی ہے ایسا تو یونین کی سطح پر نہیں ہوتا۔ پاک فوج بھی بڑا صبر کر کے بیٹھی ہوئی ہے۔ ہم سب نے ملک کو بچانا ہے۔ چیف جسٹس نے فوری ایکشن نہ لیا تو دیر ہو جائے گی۔

ماہر قانون اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ بادی النظر میں اسپیکر کی رولنگ خلاف آئین دکھائی دے رہی ہے۔ چیف جسٹس کیا ارادہ رکھتے ہیں مجھے علم نہیں۔ آرٹیکل 69 کہتا ہے کہ پارلیمان کی کارروائی میں عدالت مداخلت نہیں کرے گی۔ کوئی تحریک ایک دفعہ قرارداد بن جائے اور فلور آف دی ہاؤس پر آ جائے تو اس کو ووٹ کے ذریعے ہاؤس ہی ختم کر سکتا ہے تاہم ایسا نہیں ہونے دیا گیا تو اسپیکر کا یہ ایک غلط اور غیر آئینی اقدام تھا اگر سپریم کورٹ اس کو پناہ دیتی ہے تو پھر تاخیر ہو سکتی ہے ورنہ یہ زیادہ لمبا چلنے والا معاملہ نہیں ہے۔

ماہر قانون صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ یہ بہت ہی افسوسناک عمل ہے اس طریقے سے تو آئین اور جمہوریت کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ اسپیکر عوام کے منتخب نمائندوں کے اوپر حاوی نہیں ہو سکتا۔ اس کا ایک آئینی فرض ہے کہ وہ غیر جانبداری سے جو بھی موشن پاس ہو اس پر ووٹ کی گنتی کروائے اور نتائج کا اعلان کرے تاہم اسمبلی میں جو ہوا وہ واضح طور پر بدنیتی پر بھی مبنی ہے اور غیر آئینی اور اسپیکر کی حدود سے یہ تجاوز کرتا عمل ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل راجا خالد محمود خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ اس پر یقیناً کارروائی کرے گی اور پوری کارروائی کو کالعدم قرار دے گی۔ یہ کیس آرٹیکل 6 کے اندر آتا ہے۔ کارروائی نہیں ہوئی تو یہ ملک سے کے ساتھ کھلواڑ ہو گا۔ آئین مذاق بن کر رہ جائے گا اور اس کتاب کے مطابق نہیں لوگ اپنی خواہشات کے مطابق ملک چلانے کی کوشش کریں گے۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ملک کے ساتھ بدترین ہوا ہے۔ ایسا ہوا ہے کہ شاید کسی بھی ڈکٹیٹر کے دور میں توقع کی جا سکتی ہے لیکن کسی ڈیمو کریٹک گورنمنٹ میں ایسا پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوا اور دعا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ آئندہ بھی اس سے محفوظ رکھے اور ہم کسی اس طرح کے بحران سے گزریں جو اس وقت عمران خان کی وفاقی حکومت نے پاکستان کے آئین اور قانون کے ساتھ کھلواڑ کیا۔

جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہا کہ اسپیکر نے آئین کے خلاف اقدام کیا ہے۔ اپوزیشن کے پاس ایک ہی آپشن ہے کہ وہ سپریم کورٹ جائے اور سپریم کورٹ آئین کے تحت ہی فیصلہ دے گی۔ ماہر قانون رشید رضوی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی ٹیم میں جو قانونی امور کو سمجھنے والا تھا وہ تو استعفیٰ دے کر چلا گیا۔ یہ بڑا افسوسناک پہلو ہے ایک پارٹی اپنی حکومت کو بچانے کے لئے آئین کی دھجیاں بکھیر رہی ہے یہ اختیار سے تجاوز ہے۔ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونی ہے کوئی رولنگ دے نہیں سکتا تھا۔ اس پر ڈپٹی اسپیکر کے عمل کی بنیاد ہی غلط ہے اور اس کے اوپر تعمیر ہونے والی عمارت جو بھی کمزور ہے جو کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔ اقتدار کے لئے یہ آئین سے کھیل رہے ہیں یہ غلط روایت چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ آج تک یہ کسی فوجی ڈکٹیٹر نے بھی نہیں ایسا نہیں کیا تھا جو یہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں رشید اے رضوی نے کہا کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد ایاز صادق کا اجلاس کرنا  بھی درست نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے سو موٹو ایکشن لیا ہے اب انتظار کرنا چاہیے۔

ماہر قانون سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جو کچھ ہوا انتہائی افسوسناک ہوا۔ غیرآئینی و غیرقانونی ہوا۔ یہ ظاہر ہے ایک منصوبہ بندی تھی۔ آناً فانا ً بغیر کسی بحث کے بغیر کسی کو موقع دیے اسمبلی کا سیشن ختم کر دیا گیا۔ تحریک عدم اعتماد کو کالعدم قرار دیدیا گیا۔ میں انتہائی صدمے اور غصے کے عالم میں ہوں کہ کس طرح ہم نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ آئینی نظام کو مفلوج کر دیا گیا۔ اگر سپریم کورٹ یہ کہتی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کو غلط کالعدم قراردیا گیا اور سیشن کو غلط طریقے سے ختم کیا گیا تو پھر یہ تصور کیا جائے گا کہ وزیراعظم کے خلاف آج دن تک ابھی تحریک عدم اعتماد موجود ہے تو اس صورت میں پورا عمل وہیں چلا جائے گا جہاں اسمبلی تحلیل ہونے سے قبل تھا۔

وزیراعظم اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدرمملکت کو نہیں بھیج سکتے۔ اس سب کے نتیجے میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروائی جائے گی۔ ماہر قانون خواجہ حارث کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ تحریک عدم اعتماد آ جائے تو اس کو ہینڈل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے جو ووٹ کے ذریعے ہوتا ہے وہ ووٹ ہی فیصلہ کرے گا کہ اسے مسترد کرنا ہے یا قبول کرنا ہے اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ ایک صاحب نے کھڑے ہو کر تقریر کی جواز پیش کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کی درخواست کی اور فوری طور پر ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ پڑھنا شروع کر دی۔

دوسری جانب اپوزیشن ان سے پوچھتی رہی جبکہ وہ اسد قیصر صاحب کی لکھی ہوئی رولنگ پڑھتے رہے۔ اپوزیشن کو سپریم کورٹ میں ایک درخواست کے ذریعے یہ بتانا ہے کہ اجلاس کی آج کی کارروائی فکس تھی۔ اسپیکر نے اپنی رولنگ میں اپوزیشن کی رائے نہیں لی لہٰذا ایسی رولنگ کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں۔ ماہر قانون حامد خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تعین کرے گا ڈپٹی اسپیکر کا اقدام بغاوت میں آتا ہے یا نہیں۔ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے پاس تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔

اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کا کام صرف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانا تھا۔ جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں میزبان شہزاد اقبال کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے حامد خان نے کہا کہ آرٹیکل 5 کی بنیاد پر کوئی ایگزیکٹو یا نتیجہ خیز فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ آرٹیکل 5 صرف یہ کہتا ہے کہ ہر پاکستانی کو ریاست کے ساتھ وفادار ہونا چاہیے لیکن جب تک کسی شخص کا ریاست سے وفادار نہ ہونا عدالت یا قانونی پروسیڈنگ کے ذریعہ ثابت نہ ہو اسے غدار نہیں کہا جاسکتا۔

اس قسم کی ریزولوشن کا مطلب یہ تھا کہ جتنے لوگوں نے تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے وہ ریاست کے ساتھ وفادار نہیں ہیں۔ یہ آئین کی غلط تشریح ہے اور آئین کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ ریاست سے وفادار ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کا طے کرنے کا نہیں ہے۔ ان کے پاس ایسے کوئی اختیارات نہیں جو کسی شخص کو ریاست کا غدار قرار دے سکیں۔ اس لیے یہ غیرآئینی اور آئین سے ماوراء عمل ہے۔ اب معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔

سپریم کورٹ اس کے بارے میں کیا کہتی ہے۔ سپریم کورٹ کا جو فیصلہ ہو گا اس کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے کہ بغاوت کا کیس ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اس سے پہلے یہ بات کہنی قبل از وقت ہے کہ جو کچھ بھی آج ہوا ہے یہ ہائی ٹریژن کے زمرے میں آتے ہیں۔ ماہر قانون زاہد ابراہیم نے کہا کہ یہ یقیناً غیر آئینی عمل ہے۔ اسپیکر کے پاس کوئی جواز نہیں تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کا۔ اسمبلی میں تحریک قرار داد بننے کے بعد وزیر اعظم کے پاس یہ اختیارات نہیں ہوتے کہ وہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کے حکم صادر کرے یا تجویز دے۔ ماہر قانون عابد زبیری نے ایک گفتگو میں کہا کہ غیر آئینی و غیر قانونی اقدام کا فیصلہ تو سپریم کورٹ کا بنچ بن رہا ہے وہ کرے۔ آرٹیکل 69 کو مد نظر رکھتے ہوئے کورٹ یہ فیصلہ کرے گا کہ وہ پارلیمان کی اندرونی کارروائی میں مداخلت کر بھی سکتے ہیں یا نہیں یا اس کی تشریح دے سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS