استاد اور معاشرہ


استاد اور معاشرہ۔ ثاقب سلطان بلگن تعلیم کسی بھی قوم اور معاشرے کے لئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کا سبب بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مقصد صرف سکول، کالج اور یونیورسٹی وغیرہ سے کوئی ڈگری لینا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ تعمیر اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور اقدار کا خیال رکھ سکے۔

استاد کا کردار:

بنیادی طور پر تعلیم کا مرکز اور حقیقی بنیاد استاد ہوتا ہے۔ تعلیم ایک پیغمبرانہ پیشہ ہے۔ پہلے پہل معاشرے میں استاد کے بننے کا عمل اخلاقی معیار پر مبنی ہوا کرتا تھا۔ جدید تعلیم میں یہ تصور بلکہ مختلف ہو گیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ استاد کو ایک پروجیکٹ مانا جائے اس کی تنظیم ایک کارخانے کے اصول پر ہو، لیکن جیسا استاد ہم چاہتے ہیں اسے تیار کرتے وقت ہم نے اسے ویسی صلاحیتوں سے لیس نہیں کیا۔ اس کی شخصیت میں توازن پیدا کرنے اور اسے عام افراد سے مختلف بنانے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ اساتذہ تو اپنے طلبا و طالبات کے لیے آئیڈیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ صرف اساتذہ ہی ہیں جو طلباء کے لیے احترام اور انسانیت کا عملی نمونہ بن کر ان کے کردار اور شخصیت میں مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔

استاد کا احترام اور معاشرہ:
” میں استاد بنا کر بھیجا گیا ہوں“

یہ الفاظ دنیا کی اس عظیم ترین شخصیت کے ہیں جنہوں نے انسان کو انسانیت کی تعلیم دی اور انسان کو وحشی سے انسان بنایا۔ یہ عظیم ہستی یہ عظیم استاد نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ ہے۔ ان کے اس فرمان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام میں استاد اور تعلیم کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔

جاپان کی کہاوت ہے کہ استاد کی محفل میں گزرا ایک دن ہزار دن پڑھنے سے بہتر ہے۔ یہ سب افسانوی باتیں نہیں ہیں بلکہ باشعور اور زندہ قومیں اپنے استاد کو ایسے ہی عزت دیا کرتی ہیں۔

استاد ایک بہت بڑی ذمہ داری کا نام ہے ملک کی تعمیر و ترقی کی بنیاد اصل میں استاد ہی ہوتے ہیں لیکن ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ اسلام اور ترقی یافتہ ممالک میں جتنا احترام ایک استاد کو دیا گیا ہے اتنی ہی تذلیل استاد کی ہمارے معاشرے میں کی جاتی ہے۔

الیکشن ہو یا مردم شماری، پولیو ہو یا پھر احساس پروگرام کا سروے ہمیں تئیس کروڑ عوام میں سے صرف ایک استاد ہی نظر آتا ہے۔

ان ساری ڈیوٹیز میں ایسے ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو اپنے آپ کو پڑھا لکھا ظاہر کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن جب ان سے گفتگو کی جاتی تو ویسے ہی کلیجے میں ٹھنڈ پڑ جاتی ہے۔ وہ اپنے گھریلو مسائل کی وجہ بھی سامنے موجود استاد کو ہی گردانتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں استاد کو کبھی عزت نہیں دی گئی استاد کبھی سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی استاد کی ہسپتال میں ہتھکڑیاں لگی لاش نظر آتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان تعلیم کے شعبہ کو اپنی آخری ترجیحات میں رکھتا ہے یہ آپشن بھی وہ اس لئے رکھتا ہے کیونکہ اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک میں استاد کو عزت دینے کا نعرہ تو زوروشور سے لگایا جاتا ہے لیکن یہ سب کچھ بس نعروں تک ہی محدود ہے۔

دنیا میں جس قوم نے بھی ترقی کی اس نے ہمیشہ استاد کو اپنا محسن جانا اور اس کی عزت کی۔

ہم بھی بحیثیت قوم اگر ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر حال میں استاد کو وہ مقام دینا ہو گا جس کا وہ حق دار ہے اس کا وقار بلند کرنا ہو گا تاکہ ہمارا معاشرہ اچھے اساتذہ پیدا کر سکے تبھی ہم اچھے ڈاکٹرز، سیاست دان، انجینئر اور سب سے بڑھ کر اچھے شہری بن سکے گے۔

ثاقب سلطان بلگن
Latest posts by ثاقب سلطان بلگن (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments