مارگریٹ تھیچر نے کہا تھا کہ قیمتیں عوام کا حال بتا دیتی ہیں
ذیشان ہاشم نے اپنی کتاب ”غربت اور غلامی خاتمہ کیسے ہو“ میں پاکستان کے دیرینہ معاشی معاملات پر سیر حاصل بحث کی ہے وہ ایک جگہ رقم طراز ہے کہ ”پاکستان میں 20 کروڑ عوام جغرافیائی طور پر منتشر ہے۔ بڑے شہر چھوٹے شہر دیہات قصبے، گاؤں اور علیحدہ علیحدہ گھروں کی صورت میں یہ مقیم ہے۔ ان کی ضروریات اور خواہشات بھی وقت کے ساتھ ساتھ لچکدار ہیں ان کے معاشی فیصلوں میں بھی تنوع، ارتقا، تبدیلی اور انفرادیت ہے۔ ایک فرد اگر ایک گھر کا سربراہ ہے یا خود اپنی ذات کا مینیجر ہے تب بھی اسے خود بھی نہیں پتا کہ ایک مخصوص عرصے کے بعد اس کی ضروریات و خواہشات کی کیا نوعیت ہو گی“
تحریک عدم اعتماد کو ایک سپیکر کی رولنگ سے ختم کردینے جیسے غیر آئینی اقدام کے نتیجہ میں بھی مستقل فراغت کو روکا نہیں جا سکتا ہے اس لئے یہ تو طے ہے کہ انتخابات کا انعقاد فوری طور پر ہو جائے یا اس میں ایک دو ماہ کی مزید تاخیر ہو مگر نئی حکومت کو ایک ایسے معاشرے میں معیشت کی ان بنیادوں کو ازسرنو استوار کرنا ہو گا جہاں پر معاشی معاملات میں جگہ جگہ پر مختلف مسائل کا سامنا کرنا ایک حقیقت ہے۔
لیکن اس سب سے قبل اس بات کا جائزہ لینا از حد اہمیت کا حامل ہے کہ آخر کیا وجہ بنی ہے کہ جس کے سبب سے اتنی چاؤ سے لائی گئی حکومت کے سر سے ”شفقت“ کا ہاتھ اٹھا لیا گیا اور غیر جانبداری کا رویہ اختیار کر لیا گیا جو کہ بالکل درست فیصلہ اور فتح شکست کی بجائے صرف پاکستان کی فتح ہے۔ اس ”شفقت“ سے محرومی اور جو تبدیلی کو تبدیل کرنے میں رکاوٹ بننے کے خواہش مند تھے ان کی اپنے عہدے سے تبدیلی کہ وہ مداخلت نہ کر سکے کی صرف ایک ہی وجہ ذہن میں آتی ہے کہ ملک کی روز بروز گرتی معیشت میں مقتدر حلقوں جہاں پر خود بھی اعلی فورم پر ریٹائرمنٹوں کے سبب سے تبدیلی آ چکی تھی میں یہ احساس پختہ کر دیا کہ اگر ملک کے معاشی معاملات اسی نہج پر آگے بڑھتے چلے گئے تو ایسی صورت میں خاکم بہ دہن وطن عزیز کو کسی بڑے حادثے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس لئے ایسے کسی حادثے سے بچنے کے لیے سیاسی معاملات میں الجھنے سے بچا جائے۔ معاشی بدحالی جس سے عوام بدحال ہو رہے ہیں اس کو ثابت کرنے کے لیے کسی لمبی چوڑی بحث کرنے کی جگہ صرف 2013 سے لے کر 2017 اور 2018 تک روزمرہ ضروریات کی اشیا کی قیمتوں کا چارٹ بنا لیا جائے اور پھر 2018 سے لے کر اب تک کی قیمتیں سامنے رکھ لی جائے۔ ذرائع آمدن کو دیکھ لیا جائے تو صاف محسوس ہو گا کہ عوام ان چار برسوں میں زبردست طور پر مہنگائی سے متاثر ہوئے جبکہ اس سے قبل ایسی مہنگائی کا سامنا 70 سالوں میں نہیں کیا گیا تھا۔
سابقہ سوویت یونین کے سربراہ گورباچوف انگلینڈ کی خوشحالی دیکھ کر اس بات پر بہت حیران تھے کہ برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کو کیسے علم ہوتا ہے کہ تمام برطانوی شہری اچھی خوراک استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہی سوال مارگریٹ تھیچر سے پوچھا تو مارگریٹ تھیچر نے وہ جواب دیا جو ہر حکمران کے لیے عوام کے معیار زندگی کو سمجھنے کے لیے ایک زبردست راستہ ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں کچھ نہیں جانتی بلکہ قیمتیں سب بتا دیتی ہیں۔
اس وقت بھی قیمتیں سب بیان کر رہی ہیں اور اس کے بعد بھی سب بیان کریں گی۔ اسی طرح قومی سلامتی سے جڑے اخراجات بھی بہت بری طرح اس معاشی بدحالی سے متاثر ہوئے جو کہ ہر جگہ پر ناقابل برداشت ہو چکے تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آگے کا کیا راستہ اختیار کیا جائے کہ کم ازکم ہماری کرنسی بنگلہ دیش کے مقابلے میں تو توانا ہو سکے۔ تو خیال اس خیال کی جانب مڑ جاتا ہے کہ جس کو نواز شریف نے پیش کیا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اکٹھے بیٹھ جائے اور پاکستان کی معاشی ترقی کی غرض سے کم از کم پچیس سالہ منصوبہ مشترکہ طور پر تیار کر لے کہ جو حکومت بھلے ہی آئے اور جائے مگر ان رہنما اصولوں کے مطابق ہی ملکی معاشی فیصلے کیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ معیشت کبھی نہیں پنپ سکتی جب تک کہ مضبوط سیاسی نظام جو ہر قسم کی غیر آئینی مداخلت سے پاک ہو قائم نہ ہو جائے اور اس کے لیے دوسرا ستون امن و امان کی بہترین صورتحال ہیں۔ عمومی جرائم کی بیخ کنی سے لے کر دہشت گرد اور دہشت گرد عناصر کی حمایت میں چلتی زبانوں کو کنٹرول کرنا کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک معاملہ میں بھی کسی نے صرف اپنی مرضی برتی تو وہ ستون گر پڑے گا اور عمارت دھڑام سے گر پڑے گی۔ مضبوط معیشت کا خواب بکھر جائے گا۔

