اسمبلی کی تحلیل اور اگلے الیکشن کا آئینی بحران


عمران خان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جس میں اپوزیشن، اتحادی جماعتیں اور حکومتی پارٹی کے کچھ ارکان نے ایک اتحاد بنا لیا اور تحریک عدم اعتماد کا کامیاب ہونا ٹھہر گیا۔

مگر خان صاحب کو یہ چیز پسند نا آئی اور انہوں نے جلسے کرنے شروع کر دیے اور آخر میں ایک لیٹر جس کی حقیقت خدا جانے کیا ہے اسے استعمال کر کے تحریک عدم اعتماد ہی مسترد کروا دی جس سے ایک ایسا آئینی بحران کھڑا ہو گیا جو حل ہوتے دکھائی نہیں دے رہا۔ اور یہ تمام آئینی بحران وزیر اعظم کی نا تجربہ کاری، آئین سے لا علمی اور ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے پیدا کیا گیا۔ قومی اسمبلی تحلیل کر دی گئی اور بنا سوچے سمجھے نئے الیکشن کا اعلان کر دیا گیا۔ اور یہ بھی نا سوچا کہ آیا آئینی ادارے الیکشن کے لیے تیار بھی ہیں یا نہیں؟

اسی ضمن میں ڈان اخبار میں ایک کالم بھی لکھا گیا جس میں ساری چیزیں بیان کی گئیں جس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ الیکشن کمیشن نوے دن میں الیکشن کروانے کے لیے تیار نہیں ہے مگر الیکشن کمیشن نے اس مفروضے کی تردید کر دی۔

مگر آثار سے لگ رہا ہے کہ باتیں اس میں تقریباً ٹھیک ہی کی گئی ہیں اگر آئینی تقاضوں پہ دیکھا جائے تو اسمبلی تحلیل ہونے کے نوے دن کے اندر اندر الیکشن کمیشن کو نئے الیکشن کروانے ہوتے ہیں اور اس کے لیے پہلے بھرپور تیاری کرنی ہوتی ہے۔ ابھی سندھ میں مردم شماری کا مسئلہ ہے، حلقوں کی ڈی لیمیٹیشن کا مسئلہ ہے جسے کرنے کے بعد اس پہ اعتراضات دائر کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد نئی ووٹر لسٹیں تیار ہونا ہوتی ہیں جو کہ پھر اعتراضات دور کرنے کے بعد حتمی شکل اختیار کرتی ہیں۔

پھر ای وی ایم مشینوں کے ذریعے الیکشن کروانے کا قانون پاس ہو چکا ہے مگر اس کی تیاری ہی کوئی نہیں ہے اور ابھی تو یہ بھی نہیں پتہ کہ مشینیں کہاں سے خریدنی ہیں اور کیسی خریدنی ہیں؟ اور اس کے پیسے کہاں سے آنے ہیں؟ اگر یہ سارا کچھ نظر انداز کر دیا جائے اور پرانی حلقہ بندیوں اور پرانی ووٹر لسٹوں پہ ہی الیکشن کروا دیے جائیں تو عدالتیں جن پہ پہلے ہی مقدمات کا بہت بڑا بوجھ ہے اس میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

اب عملی طور پہ قومی اسمبلی کا وجود نہیں ہے تو عبوری حکومت کیسے آئین میں ردو بدل کر سکتی ہے؟ آئین تو اس معاملے میں روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے نوے دن کے اندر اندر الیکشن لازمی ہوں۔ اب جبکہ تیاری ہی نہیں ہو گی تو اسمبلی کی غیر موجودگی میں آئین میں کوئی ترمیم کیسے کی جا سکتی ہے؟ یہ سوال کھڑا ہو جاتا ہے کہ نوے دن میں الیکشن کیسے ہوں گے؟

اب سپریم کورٹ پہ بھاری ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ وہ اس آئینی بحران کو کیسے دور کرے؟ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کو بروقت کرنا پڑے گا تاکہ ملک کا نظام چلے ورنہ ان حالات میں ملک فری فال کی پوزیشن میں کتنی دیر چل سکتا ہے؟ اکانومی کا پہلے ہی برا حال ہے ڈالر روزانہ تاریخ کی بلند ترین سطح کا نیا ریکارڈ حاصل کر رہا ہے۔ سٹاک مارکیٹ مندی کا شکار ہے۔ ایک بے یقینی کی صورت حال بن گئی ہے۔ اب اگر سپریم کورٹ اسمبلیاں بحال کرتی ہے تو وزیر اعظم کے سر پہ عدم اعتماد کی تلوار دوبارہ لٹک جائے گی۔

اور عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں خان صاحب نے قوم کو جس طرح چارج کیا ہوا ہے سڑکوں پہ نکال دیں گے اور نئی آنے والی حکومت کے لیے کار سرکار چلانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ اور پھر ان حالات میں غیر جمہوری قوتوں کا راستہ صاف ہو جائے گا ظاہر ہے جب جمہوری حکومتیں اپنی نا اہلی کی وجہ سے ناکام ہو جائیں اور ملکی معاملات چلانے کے قابل نا رہیں تو پھر غیر جمہوری طاقتوں کو راستہ ملتا ہے پھر کاہے گا رونا۔

حکومت تو نا اہل ہے ہی مگر اپوزیشن تو اس اس سے بھی چار ہاتھ آگے ہے۔ انہیں ملک میں تیسری طاقت بالکل پسند نہیں ہے اور نا ہی وہ اسے قبول کرنے کو تیار ہیں۔ اس حکومت کو گرانے میں اگر حکومت کا اپنا قصور ہے تو اس میں بلا مبالغہ اپوزیشن کی پاور تھرسٹ بھی شامل ہے۔ ان کا سوچنا ہے کہ شام ڈھلنے سے پہلے ہی یہ تیسری پارٹی کہیں گم ہو جائے اور سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے۔ افسوس کی بات ہے کہ وطن عزیز میں نام نہاد جمہوری پارٹیوں میں جمہوری روایات کا فقدان ہے۔

ووٹ کو طاقت دو کا نعرہ لگاتے لگاتے خود اسی طرف نکل گئے جس کا الزام اپوزیشن حکومت پہ لگاتی رہی۔ اب صرف سپریم کورٹ سے یہ امید ہے کہ حکومت کی طرف سے پیدا کردہ اس سارے خود ساختہ آئینی بحران کا بہتر اور دیر پا حل نکالیں اور ملک کو کسی سمت میں لگائیں۔ ورنہ آئین سے بے بہرہ لوگ اس سارے آئینی بحران کے بعد بھی بہت مطمئن ہیں مصداق اس شعر کے

لگا کر آگ شہر میں یہ بادشاہ نے کہا
اٹھا ہے آج دل میں تماشے کا شوق بہت

جھکا کے سر سبھی شاہ پرست بول اٹھے
حضور کا شوق سلامت رہے شہر اور بہت

Facebook Comments HS