موہن جو دڑو کی اشکالی زبان
سندھ کی تاریخ صدیوں پہ محیط ہے۔ دنیا میں کہیں بھی تاریخ اور تہذیب کے حوالے سے جب بھی کوئی بات کی جاتی ہے تو سندھ کی قدامت کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے۔ موہن جو دڑو دنیا کی قدیم ترین تہذیب کا وہ شاہکار ہے جہاں ترقی یافتہ قوم کی علامتیں موجود ہیں۔
اس عظیم تہذیب پر محققین نے کافی عرصے سے کام جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے موہن جو دڑو کی حقیقت جاننے کے لیے نہ فقط نتائج اخذ کیے بلکہ الگ الگ نظریات بھی پیش کیے۔ ماہرین آثار قدیمہ اور لسانیات اپنی تحقیق میں مختلف مذاہب اور بیرونی تہذیبوں سے موہن جو دڑو کی تحریر کو قرار دے چکے ہیں۔ پرانا نظریہ جو محققین نے اخذ کیا وہ یہ ہے کہ پندرہویں صدی قبل مسیح سے پہلے یہاں اندھیرا تھا جو کہ رگ وید کی بنیاد پر کہا جاتا تھا۔
ایک سو سال قبل 1921 ع میں موہن جو دڑو کی کھدائی کے بعد محققین کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ موہن جو دڑو کی تہذیب کے حوالے سے ماہرین نے اپنی رائے دی کہ وہ 1800 اور 2500 سال قبل مسیح کے درمیان کا عرصہ ہے۔ یہ اپنی معاصر تہذیبوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تہذیب یافتہ مانی گئی۔ ماہرین کی رائے کے مطابق موہن جو دڑو کے باشندے تاجر پیشہ تھے۔ یہاں سماجی، ثقافتی اور اقتصادی سلسلے چلتے تھے جس کے شواہد بھی ملے ہیں۔
ان کے پاس ایک زبان بھی موجود تھی جو بولی اور لکھی جاتی تھی۔ یہ زبان بڑی صفائی اور خوبصورتی سے مٹی، پتھروں اور دیواروں پر لکھی جاتی تھی۔ اس عظیم تہذیبی سرمایہ کی جب ایک صدی قبل سندھ کے انگریز حکمرانوں نے تحقیق کی شروعات کی تھی اور کافی حد تک اچھے نتائج اخذ کر لیے تھے، قیام پاکستان کے بعد بھی اس تحقیق کو انگریزوں کی طرز سے آگے بڑھنا چاہیے تھا جو ہو نہ سکا۔
موہن جو دڑو کی تحریر پہ ماہرین نے مختلف آراء قائم کی۔ انہوں نے اس قدیم تحریر کو سنسکرت، آریائی اور سمیری زبانوں کے خاندانوں سے جوڑا۔ کسی نے مذہبی اور دھرمی روپ دیا اور کسی نے دیوتاؤں اور سلطنتوں کے دور سے اندازہ لگایا۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ایک عالم مولانا ابو حلال ندوی نے اس زبان کو عربی کے رسم الخط سے ملا دیا ہے اور کہا کہ موہن جو دڑو کے نقوش عربی زبان کے حروف سے بنائے یا لئے گئے ہیں۔ ہر محقق اور ماہر نے جتنی بھی کوشش کی مگر اس کو اصل نتیجہ نہیں مل سکا۔ سندھ کی نامور محققہ اور ماہر لسانیات ڈاکٹر فہمیدہ حسین نے اپنی تحقیق میں بیان کیا ہے کہ: ”زبانوں کے گروہ ہوتے ہیں، خاندان ہوتے ہیں۔ ہر زبان کے گروہ کا دوسری زبان کے گروہ سے تعلق ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر زبان کی کچھ آوازیں دوسری زبان کی آوازوں سے مماثلت رکھتی ہیں، ملتی ہیں۔“
موہن جو دڑو کی زبان کا گروہ اور اس کی آواز کا تعین ہی نہیں ہوسکا ہے تو حقیقت تک رسائی حاصل کرنا کافی دشوار ہے۔ کچھ ماہرین نے اپنی تحقیق میں نتیجہ دیا ہے کہ موہن جو دڑو کی زبان سندھ کی سرزمین کی اپنی زبان ہے اور سندھی زبان اس کا بدلا ہوا روپ ہے۔ مگر اس نظریے کے مخالفین نے یہ سوالات اٹھائے کہ وہ اس بات کو اس لیے تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ یہاں اگر کوئی تحریر رائج تھی تو پھر یہاں اشکال اور نشانات کیوں ملے ہیں؟
اس بات کو تقویت تب ملی جب 1957 ع میں کوٹ ڈی جی اور چانیھو جو دڑو کے آثار بھی سندھ کے مختلف مقامات سے دریافت ہوئے۔ موہن جو دڑو کی زبان کو پڑھنے کے حوالے سے ایک لمبے عرصے سے دنیا بھر کے آثار قدیمہ اور لسانیات کے ماہرین کی ٹیمیں یہاں آتی رہی ہیں لیکن کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ اس کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ محققین اپنی کھوج کے لیے بنیادی اصول مرتب نہ کر سکے۔ گو کہ موہن جو دڑو کی تحریر کے بارے میں کئی زاویے واضح کیے ہیں۔ اس میں ایک اختلاف اس کی ممکنہ مکتب زبان کا ہے کہ آیا یہ زبان انڈوسمیرین تھی یا پروٹو انڈک؟
ویڈل پہلے۔ ماہر تھے جنہوں نے موہن جو دڑو اور سمیری تہذیبوں سے ملنے والے آثار کی مماثلت کا نظریہ دیا تھا۔ انہوں نے اپنے مقالے میں اس زبان کو ویڈون اور اس کے بزرگان کے ناموں سے منسوب کیا تھا۔
جدید انداز سے بھی موہن جو دڑو کی زبان کو پڑھنے کے لئے تجربات کیے گئے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ کمپیوٹر پہ موہن جو دڑو کی زبان کو تلاش کر چکے ہیں اور زبانوں کے علم سے پڑھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ماسکو کے روسی ماہرین نے کمپیوٹر کی مدد سے پوری دنیا کی زبانوں کی کھوج لگائی ہے اس تحقیق کے دوران پانچ سو سے زائد تحریروں کو زیر غور لایا گیا مگر چند اشکال اور نقوش کی یکسانیت میں ہی مل سکی ہے۔ اس تجربے سے یہ فائدہ ہوا کہ آئندہ ہونے والی ریسرچ میں آسانی ہوگی۔
ماہرین نے دوران تحقیق تمام مہروں کو چار بڑے درجوں میں تقسیم کیا: جانوروں، انسانوں، درختوں اور پرندوں کی اشکال میں۔ ان اشکال کا کئی طرح سے مطالعہ کیا گیا۔ مثلاً یہ کہ ان میں بنیادی خطوط کس طرح لکھے گئے تھے اور وہ کس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان نقوش کی ابتدا اور اختتام کس طرح ہوتی ہے اور لکھنے میں اگر کوئی تبدیلی ہے تو کس اصول سے ہے۔ ان کو ایک مشکل یہ پیش آئی کہ اس کی کوئی تفصیلی اور بڑی تحریر دستیاب نہیں تھی، زیادہ سے زیادہ دو سطروں پہ مشتمل ہے جس پر پہلا یہ اختلاف آیا کہ دائیں سے بائیں کی جانب لکھی ہوئی ہے یا اس کے برعکس۔
کچھ۔ نقوش صرف مہروں پر لکھے گئے ہیں جن کے بارے میں قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وہ صرف نام ہو سکتے ہیں۔ کچھ نقوش ظروف پہ کنندہ ہیں۔ بہرحال ان تمام حقائق سے جو امکانات پائے جاتے ہیں وہ کمپیوٹر کو مہیا کیے گئے تھے جس سے اس زبان پڑھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ برصغیر میں اس کو قبل آریائی زبان تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اس پر بھی تحقیق جاری ہے کہ یہ قدیم دراوڑی نسل کی زبان ہے۔ ایک نتیجہ یہ بھی نکالا گیا کہ موہن جو دڑو کی اشکالی تحریر، تامل اشکالی تحریر سے مشابہت رکھتی ہے۔ مگر پھر وادیٔ سندھ کا تاریخی، تمدنی اور تہذیبی حوالے سے جائزہ لیا گیا تو چند ایک دو اشاروں اور گمان کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
فرانسیسی ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر فرینکفرٹ اسٹنٹ، افغانستان میں انیس سو اسی کی دہائی میں جب آثار قدیمہ کی کھدائی کے بعد دریافت ہونے والے آثار، مہروں اور دیگر اشیاء کی تحقیق کرنے کے بعد انہوں نے عجائب گھر میں اپنے لیکچر میں کہا تھا پاکستان میں موہن جو دڑو دنیا کی سب سے بڑی تہذیب ہے۔ انہوں نے جغرافیائی نقطہ نگاہ سے موہن جو دڑو کی تہذیب کو افغانستان اور روسی حدود تک پھیلی ہوئی قرار دیا تھا۔
وادیٔ سندھ کی اس قدیم تہذیب کی تحریر کو کھوجنے کے لئے دنیا کے بڑے بڑے محققین اب جدید انداز سے دیکھ رہے ہیں، امید ہے اس کام میں وہ اچھے نتائج نکالیں گے۔




