وہ طوطا جس میں خان کی جان تھی


ایک طویل جد و جہد کے بعد خان کو تخت ملا۔ اسے طویل جدوجہد یوں کرنا پڑی کہ اس کے نامہ اعمال میں کچھ پردہ نشینوں کے نام نہیں آتے تھے۔ پھر اس کے نصیبے نے پلٹا کھایا، اس نے اللہ والوں کا دامن تھاما اور انہوں نے اسے نامراد نہیں کیا۔ اسے ایک تعویذ دیا گیا جس نے اس کے قوی دشمنوں کو زیر کیا اور ایک دن وہ تخت پر بادشاہ بن کر بیٹھا۔ اللہ والوں نے اسے خبردار کیا کہ ان کا تعویذ اس وقت تک اثر کرے گا جب تک خان ایسے لوگوں کو عہدے دے گا جن کا نام عین سے شروع ہوتا ہو۔ یوں اس حکومت کی داغ بیل پڑی جس نے تاریخ میں ع یاروں کی حکومت کے نام سے شہرت پائی۔

خان نے مختلف صوبوں کے والی اور اپنے وزیر مشیر مقرر کرنے شروع کیے۔ سب سے اہم صوبے کے لیے حاکم کا انتخاب بہت کڑا ثابت ہوا۔ ایک طرف اس کے وہ سردار تھے جنہوں نے اپنی تجوریوں کے منہ کھول کر اس کی جمعیت میں اضافہ کیا۔ لیکن دوسری طرف تعویذ تھا۔ ایک دن خان پریشان بیٹھا تھا کہ کسے صوبیدار بناؤں کہ اللہ والے ادھر سے گزرے۔ وہ متبسم ہوئے اور فرمایا ”ہر سردار کو باری باری بلاؤ۔ ایک ہاتھ میں اس کے نام کی پرچی تھامو اور دوسرے میں تعویذ۔ اگر نام عین سے شروع ہوتا ہو تو اس شخص کے بارے میں سوچنا۔ لیکن یاد رہے کہ وہ کوئی امیر کبیر شخص نہ ہو۔ ایک بے سر و سامان درویش ہو۔ اس نے ہاں کہہ دی تو پھر تم دبدبے سے حکومت کرو گے اور مال و دولت سے بے پروا وہ درویش تمہیں دغا نہیں دے گا۔ جب تک وہ صوبیدار رہے گا، تمہارے اقتدار کا سورج نصف النہار پر چمکے گا، تم ایک دیو بن کر سب مخالفین کے سینے پر مونگ دلو گے۔ لیکن یاد رہے کہ تمہاری جان اس طوطے میں ہو گی۔ وہ نہ رہا تو پھر سورج کو غروب ہونے میں دیر نہیں لگے گی“ ۔

محل کا دروازہ کھول دیا گیا۔ ایک ایک کر کے ملاقاتی آنے شروع ہوئے۔ پہلے سردار آئے۔ ایک کا نام عین سے شروع ہوتا دیکھ کر خان نے توقف کیا۔ اس سردار کی بہت خدمات تھیں۔ اس نے کئی برس نہایت دریا دلی سے نذرانے پیش کیے تھے اور خان کی بھوکی فوج کو لنگر کھلائے تھے اور ضرورت مندوں کو بیش قیمت ادویات مہیا کی تھیں۔ ایسے میں اچانک خان کو یاد آیا کہ اللہ والوں نے بے سر و سامان درویش کا انتخاب کرنے کا کہا تھا۔ خان نے سردار کو واپس کر دیا۔

کرتے کرتے شام ہو گئی لیکن وہ عین نہ آیا جس کا انتظار تھا۔ اندھیرا ہوا تو ایک مفلوک الحال شخص محل کے دروازے پر نمودار ہوا۔ اس نے ہاتھ میں ایک پرچی پکڑی ہوئی تھی، کپڑے بوسیدہ اور پسینے میں تربتر تھے۔ خان نے اسے بٹھایا اور اس کا نام پتہ پوچھا اور آنے کی غرض دریافت کی۔

”میرا نام عین بکروال ہے۔ میں اپنے لوگوں کا ایک عام سا نمائندہ ہوں جسے کوئی نہیں جانتا۔ میرے گھر میں بجلی نہیں ہے۔ میرا گزارا تو خیر ہو جاتا ہے مگر میرے پڑوسیوں کے بچوں کو چراغ کی روشنی میں پڑھنے میں بہت دقت ہوتی ہے۔ مجھے اپنے لیے کچھ نہیں چاہیے، میں تو گاؤں والوں کے لیے بجلی کے کنیکشن کی درخواست لے کر حاضر ہوا ہوں“ ۔ اس شخص نے نہایت خود داری سے کہا۔

خان خوشی سے اچھل پڑا۔ اس نے اپنے حاجب کو کہا ”مل گیا وہ شخص جس کا انتظار تھا۔ عین بکروال کو صوبیدار بنانے کا حکم لکھو“ ۔

وہ درویش ہکا بکا رہ گیا۔ وہ بجلی کا کھمبا مانگنے آیا تھا لیکن یہاں اسے پورا صوبہ مل گیا۔

کامل ساڑھے تین برس عین بکروال نامی اس درویش نے صوبے پر حکومت کی۔ وہ خود تو ایک کونے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کیا کرتا تھا مگر چند پراسرار لوگ پورا صوبہ اس خوش اسلوبی سے چلا رہے تھے کہ اس کے دور میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ شیر کا ہر چند ماہ تبادلہ کر دیا جاتا تھا اور نئے شیر کو بکریوں پر مامور کر دیا جاتا تھا۔ تبادلوں کے متعلق بتایا جاتا تھا کہ ہر چھوڑے بڑے جانور کی اس دربار میں شنوائی ہوتی تھی۔ صوبیدار کے گرد خدمت خلق کے جذبے سے معمور عزیز و اقربا موجود تھے جو ان جانوروں کو تقرری کے پروانے پکڑاتے تھے اور جب وہ خوش ہو کر نذرانہ دیتے تھے تو بصد اکراہ یہ سوچ کر قبول کر لیتے تھے کہ اسے عوام کی خدمت کے لیے استعمال کریں گے۔ بہرحال مورخ چاہے جو بھی کہے لیکن ان باتوں کو جدی پشتی حاسد امیروں کی پھیلائی ہوئی افواہ ہی سمجھیں کیونکہ درویشوں کو روپے پیسے سے بھلا کیا مطلب؟

پھر ایک دن ایسا ہوا کہ غنیم نے بڑی جمعیت فراہم کی اور ایک مہیب لشکر خان کے دارالحکومت اور دوسرا صوبے پر چڑھائی کے لیے روانہ کیا۔ محاصرے سے خان گھبرا گیا۔ اس کے سردار باغی ہونے لگے۔ خان نے سوچا کہ اگر میں کسی دوسرے شخص کو جس کا نام تک چ سے شروع ہوتا ہو، عین کی جگہ صوبیدار مقرر کر دوں تو وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت میری حمایت کرے گا۔ اس نے عین کو معزولی کا پروانہ بھیج دیا۔ اس نے یہ بھی نہ سمجھا کہ جب عین چلے جائیں تو چ بھی دغا دے جاتے ہیں۔

عین چاہتا تو بغاوت کر کے خودمختاری کا اعلان کر سکتا تھا یا دشمنوں سے مل سکتا تھا۔ مگر جیسا کہ اللہ والوں نے فرمایا تھا، اسے بھلا مال و دولت سے کیا غرض، اس کا خمیر تو مہر و وفا کی مٹی سے گندھا تھا۔ اس کے ایک اشارے پر کروڑوں اربوں جمع ہو سکتے تھے مگر اس نے نہیں کیے۔ بلکہ مال و دولت سے اسے ایسا نفور تھا کہ اس کے ارد گرد کوئی شخص مال جمع کر بھی رہا ہوتا تھا تو اسے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔ اس نے معزولی کے پروانے کو چوما، اس پر اپنے ہاتھ سے لکھا ”قبول ہے“ اور اپنی گدڑی اٹھا کر واپس اپنے گاؤں کو پلٹ گیا۔

مگر اللہ والوں کی پیش گوئی پوری ہوئی۔ دشمن کی چال میں آ کر خان نے خود اس طوطے کی گردن مروڑی جس میں اس کی جان تھی تو خان کے اقتدار کا سورج غروب ہو گیا۔ خان نے بہت کوشش کی مگر اب اسے نہ اللہ والے مل رہے تھے نہ عین غین کرنے والے۔ ہر کمال کو زوال ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar