نون لیگ، پیپلز پارٹی اور خان صاحب


اس وقت سابق صدر زرداری واحد ایسے سیاستدان ہیں جو وکٹوں کے دونوں سائیڈ پر کھیل رہے ہیں۔ اور امپائر اگر ان کے ساتھ نہیں ہے تو بہر کیف غیر جانبدار بھی نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد پیپلز پارٹی کا ہے، مولانا فضل الرحمان ہمیشہ سے صدر زرداری کے قریب رہے ہیں۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سابق صدر زرداری جب چاہیں شہباز شریف صاحب کے پاؤں کے نیچے سے زمین مطلب ہے حکومت کھینچ سکتے ہیں۔ سابق صدر زرداری نے عمران خان صاحب کو حکومت سے فارغ کر کے یہ بڑا جاندار میسج دیا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کی نسبت دوسری سیاسی پارٹیوں اور سیاست دانوں کے ساتھ مل کر چلو گے تو مشکلات کچھ نہ کچھ کم ہوگی۔

اور اگر خان صاحب آپ نے گزرے ہوئے وقت میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ نہیں کی تو آنے والے وقت ایڈجسٹمنٹ کا سوچیں گے تو فائدے میں رہیں گے۔ اگلی حکومت اگر پنجاب میں نہیں تو مرکز کی حد پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا کولیشن بنتے ہوئے نظر آ رہا۔ موجودہ سیٹ اپ کے بعد اگر کوئی پارٹی سب سے زیادہ نقصان میں رہے گی تو وہ نون لیگ ہو گی، اور اس میں بھی اسپیشلی شہباز شریف صاحب ہوں گے۔ اگر عمران خان اپنی حکومت کی مدت پوری کر جاتے تو پنجاب میں نون لیگ کی ایک مضبوط حکومت کی توقع کی جا رہی تھی۔

لیکن شہباز شریف کی موجودہ حکمت عملی اور تھوڑے وقت کے لیے اقتدار کی ہوس نے آنے والے وقت میں مرکز میں عمران خان اور سابق صدر زرداری کی حکومت بنانے اور پنجاب میں تحریک انصاف کے لیے راستہ کافی حد تک صاف کر دیا ہے۔ اگرچہ سیاست میں کچھ حرف آخر نہیں ہوتا۔ 2013 میں زرداری اسٹیبلشمنٹ کے لئے ناپسندیدہ ترین تھے۔ 2018 میں نواز شریف تو اسی پوزیشن پر آج عمران خان کھڑے ہیں۔ اگر 2018 میں عمران خان، پیپلز پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر لیتے تو یقیناً اپنی پانچ سال کی مدت پوری کر سکتے تھے۔

اگر پانچ سیٹوں والی ق لیگ کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کی جا سکتی ہے، شیخ رشید کی ایک سیٹ کے ساتھ کی جا سکتی ہے تو زرداری کے ساتھ کرنے میں کیا حرج تھا۔ پنجاب میں تو مکمل حکومت عمران خان کی ہونی تھی اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی، یہ ایڈجسٹمنٹ صرف مرکز کی حد تک ہونی تھی۔ اور عمران خان کے لیے نون لیگ ناقابل برداشت تھی بنسبت پیپلز پارٹی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اپنی 55 سیٹوں کی بنیاد پر نون لیگ سے کیا کیا فوائد حاصل کرتی ہے۔

اس کا کچھ کچھ اندازہ تو ہونا شروع ہو گیا ہے۔ یقیناً پیپلز پارٹی وفاق سے سندھ کے وفاقی فنڈ حاصل کرے گی۔ اور مستقبل میں پنجاب میں بھی اپنا حصہ ایم این اے اور ایم پی ایز کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں حاصل کرنے کی کوشش کرے گی جو کہ بہر کیف مشکل ہی لگا رہا ہے۔ سیاست میں انا، ہٹ دھرمی اور ضد نہیں چلتی اور میرے نزدیک عمران خان کی جنگ انا کی جنگ تھی جو وہ بری طرح ہارے ہیں۔ حکومت تو گئی سو گئی اس کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ سے، آرمی چیف اور عدلیہ سے تعلقات بھی خراب ہوئے۔

خان صاحب نے جو یہ ڈیڑھ سال میں آنے والے الیکشن کی تیاری اور منصوبہ بندی کرنی تھی اس میں بھی بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ اور یہ سب کچھ صرف اور صرف خان صاحب کی انا، ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے ہوا ہے۔ ایک بات تو ابھی بھی صاف نظر آ رہی ہے کہ عمران خان ابھی بھی اسٹبلشمنٹ کے لئے اتنے ناپسند ترین نہیں ہوئے ورنہ ان پر آرٹیکل سکس کا اطلاق ضرور ہوتا۔ مقصد ان کو سبق سکھانا تھا جو سکھا دیا گیا ہے۔ اور عمران خان بھی ابھی اسٹیبلشمنٹ سے اتنے دور نہیں ہوئے جتنے نواز شریف صاحب ہوئے تھے ورنہ خان صاحب آج جلسے نہ کر رہے ہوتے بلکہ لانگ مارچ کر رہے ہوتے اور ان کے کارکنان دھرنے دے کر بیٹھے ہوتے۔

Facebook Comments HS