سیاسی سرکس اور عام آدمی


پاکستان اس وقت انتہائی نازک مراحل سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ ایک مہینے سے ملکی سیاسی صورتحال عدم استحکام کا شکار ہے۔ ایک طرف سو کالڈ جمہوری تحریک سرگرم العمل ہے تو دوسری طرف ساڑھے تین سال تحت پر بیٹھنے والے عوامی سمندر کا سماں پیدا کر رہے ہیں۔ اس دوران کوشش کرتا رہا کہ اپنے خیالات ایک تحریر کی صورت میں قلم بند کر سکوں مگر امتحانات اور نجی مصروفیات نے یہ موقع نہ دیا۔

خیر ملک میں پچھلے ہفتے پارلیمان کی طاقت اور جمہوری نظام نے ایک ایسے شخص کو اتار دیا جو 2018 سے اب تک محض اچھے وقت کے آنے کی امید دلاتا رہا۔ ان کی رخصت اس قدر ڈرامائی ہوئی کہ بی بی سی کے مطابق ان کو لینے سنیچر کی شب ہیلی کاپٹر تشریف لایا۔ پھر قیدیوں کو لے جانے والی گاڑی بھی وزیراعظم یونیورسٹی کے باہر کھڑی کر دی گئی۔ ایسے میں پھر ایک شعر یاد آتا ہے کہ

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

اگرچہ خان صاحب مشکل میں تھے مگر صورتحال شاید اس نہج پر نہ پہنچتی اگر آئین پاکستان جس کا خلف لیا تھا، اس کی پاسداری یقینی بنا لیتے۔ علاوہ ازیں اپوزیشن نے مخلوط حکومت کا قیام عمل میں لایا اور شریفوں کے گھر ایک دفعہ پھر اقتدار کی ڈھولی جا پہنچی۔

لوگ مجھ سے اکثر دریافت کرتے ہیں کہ آپ کیا سمجھتے ہیں اس صورتحال کے بعد ملکی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ تاہم میرا ووٹ ہمیشہ کے لیے غریب کے ساتھ ہے کہ جس کا اپنا ووٹ، ”ووٹ کو عزت دو“ کے گانے پر پارلیمان کے چوبارے پر رقص کرتا رہا۔ اس سارے سیاسی سرکس میں نقصان محض غریب کا ہو گا۔ پچھلے دور حکومت میں مہنگائی کا بھونچال دیکھتی ہماری قوم نئے دور کے پہلے دن ہی چینی کی قیمت میں اضافہ کروا بیٹھی۔ اب اس پر حکومت اور سڑکوں اور بنی گالہ میں موجود اپوزیشن سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو غریب کا خیال نہ کبھی تھا اور نہ کبھی ہو گا۔ ریاست ان کے لیے تجربہ گاہ اور ذاتی مفادات کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کل کے چینی چور آج کے بھائی نہ ہوتے۔ اگر سڑک پر پڑے بھوکے غریب کا خیال ہوتا تو رات کی تاریکیوں میں سیاستدان اپنا اقتدار بچانے اور سنوارنے میں مصروف نہ دکھائی دیتے۔

پاکستان بطور معاشرہ انتہائی پست سطح پر موجود ہے۔ سیاسی شعور اس قدر کم پڑھ چکا ہے کہ ایک ووٹ کی قیمت نالی، کھمبا، بجلی، اور نوکری متعین ہے۔ کلائنٹل ازم عروج پر ہے۔ ایسی صورتحال میں اگر ملک میں انتخابات ہو بھی جائیں تو کیا جمہوریت کو کوئی فائدہ ہو گا؟ اوپر سے جمہوریت پسند ہمارا ایکڈیمیہ جو ہر بات سے واقف ہے مگر تعداد میں اس قدر کمی ہونے کی وجہ سے نہ صرف اپنی زبان کھو چکا ہے بلکہ معاشرے میں اس کا وجود ڈھونڈنا مشکل ٹھہر چکا ہے۔ جامعات آج بھی بوسیدہ تعلیمی نظام لیے صبح صادق تا طلوع آفتاب خانہ پوری کرتی رہتی ہیں۔

ہمیشہ سے ایک صحافی طبقے کو غیور سمجھا جاتا رہا مگر اس سارے بحران میں چند صحافیوں نے جیسے حقیقت کو پس پردہ چھپانے کی کوشش کی ہے آج ان سے بھی دل افسردہ ہے۔ جو ہمارے دوست ایک صحافی پر تشدد کے نتیجے میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر طاقتور حلقوں کو للکار سکتے ہیں آج جمہوری نظام میں خلل پڑتے دیکھ کر شادیانے بجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو کھل کر بیان کرنے کے بجائے ان کی غیرجانبداری کے ترانے گنگناتے رہے۔

لیکن غریب مرتا رہا۔ اسلام آباد کے انڈسٹریل ایریا میں کسی مل کے باہر لگے ہجوم کو افطاری کے لئے بھاگتے دیکھو تو دل میں کرب سا اٹھتا ہے۔ مگر مافیا نے بھی عوام الناس کو خیرات اور صدقات دکھا کر اپنے احسانات تلے دبوچ لیا ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز میں سیویک ایکٹیویز کے باب پر سیمینار میں تحریک انصاف کی حکومتی ایم این اے تشریف لائی تو کہنے لگی کہ ہمارے ایک رکن سیٹھ صاحب نے اپنی فیکٹریوں میں مزدوروں کے لیے ساڑھے چھ ہزار روپے خیراتی فنڈ ان کی سیلری میں شامل کر رکھا ہے مگر انہوں نے ان مزدوروں کی ماہانہ تنخواہ سرکار کی جانب سے منتخب کردہ 21500 کے بجائے 15000 رکھی ہوئی ہے۔ کمال ترکیب ہے اس سے ان کی چوہدراہٹ بھی قائم رہ گئی اور نقصان بھی نہ ہوا۔

خان صاحب کی حکومت گئی تو انہیں بھی یاد آئی کہ لوگ بھی ہیں۔ ان کو کال دو وہ سڑکوں پر تشریف لے آئیں مگر کبھی اپنا محاصبہ بھی کر لیں۔ دور اقتدار میں وہ بھی عوام کو بھول چکے تھے۔ کبھی کہتے تھے وزیراعظم بلیک میل نہیں ہو سکتا تو کبھی معذور افراد پر آنسو گیس چلوا دیتے تھے۔ اپنا حق مانگنے والے مسنگ پرسنز ہو جاتے تھے یا شمالی علاقہ جات کا سفر طے کرتے تھے۔ اداروں کی آزادی کو سلب کرتے تھے اور اپنی مرضی سے ریوڑیاں بانٹتے تھے۔ آج وہی ادارے ان کے گلے پڑے تو رات کی تاریکی میں عدالتیں لگنے پر اعتراض اٹھاتے ہیں۔ اب بڑے بڑے جلسے کرتے ہیں مگر نام پھر بھی نہیں لیتے۔ شاید انہیں ابھی بھی چور دروازے کی امید دکھائی دیے رہی ہے۔

دوسری جانب موجودہ متحدہ حکومت ہے کہ جو اسی پر خوش ہے کہ ہم نے جمہوری پراسس کے ذریعے اپنا وزیراعظم منتخب کروا لیا۔

مگر یقین کریں ان میں سے کسی کو غریب کی فکر نہیں ہے۔ ورنہ خان صاحب کبھی اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر سولین ڈکٹیٹر نہ بنتے اور اپوزیشن جمہوری اقدار کی آڑ میں عوامی مینڈیٹ کو پامال نہ کرتی۔ اور جمہوریت کی فتح تو اس وقت تک ہو ہی نہیں سکتی جب تک جمہور کی قدر نہیں ہوگی۔ وہ ہم نے صحافی ناظم جوکھیو قتل کیس میں دیکھ لیا۔ باقی اللہ پاک اس ملک۔ کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

Facebook Comments HS