ناول ”کرول گھاٹی“ میری نظر میں

غافر شہزاد نے ”کرول گھاٹی“ میں ایسا انداز متعارف کروایا ہے جو ناول کے عمومی انداز سے قطعی طور پر مختلف ہے۔ اس انداز سے اردو ناول کا قاری ابھی تک واقف نہیں ہے۔ اس لیے غافر شہزاد نے بلاواسطہ اور بالواسطہ دونوں طرح سے ناول کے مختلف تناظر کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ قاری کی دلچسپی اور جڑت برقرار رہے اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔
وہ ناول یا فن پارہ جو عمومی انداز سے ہٹ کر ہو اس کی پرکھ مروج اصولوں کے تحت نہیں کی جا سکتی بلکہ وہ اپنی پرکھ کے اصول اپنے ساتھ لاتا ہے۔ ”کرول گھاٹی“ بھی ایک ایسا ہی ناول ہے۔ اس کے متن سے اس کی پرکھ کے اصول تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
ناول کا بنیادی نقط کرول گھاٹی کے مقام پر ہونے والا ڈکیتی اور ریپ کا واقعہ ہے۔ اس واقعے کو غافر شہزاد نے میڈیا کی رپورٹس کے ذریعے اس طرح پیش کیا ہے کہ اس سے ناول کی ایک نئی جہت دریافت ہوئی ہے۔
ناول میں باقاعدہ طور پر پلاٹ نہیں ہے لیکن لیکن غافر شہزاد نے کرول گھاٹی کے واقعے کا اس نوع کے دیگر واقعات کے ساتھ ایک ربط قائم کیا ہے جس سے اس واقعہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ اس واقعے پر ناول کی ساری عمارت استوار ہے۔ غافر شہزاد نے کرول گھاٹی کے واقعے کو ایک مخصوص تناظر اور مخصوص تیکنیک کے ذریعے دکھایا ہے۔ جس کے متعلق منصور آفاق کہتے ہیں کہ انھوں نے یہ تیکنیک بریخت کے ڈراموں سے مستعار لی ہے۔ (منصور آفاق، ”آغازیہ“ مشمولہ کرول گھاٹی ص 6 )
کرول گھاٹی ”میں غافر شہزاد نے میڈیا کا عفریت پورے معاشرے پر مسلط دکھایا ہے انھوں نے میڈیا کی طاقت کے غلط استعمال اور اس کے بلیک میلنگ کے طریقہ کار کو منکشف کرنے کے ساتھ اس کے منفی کردار کے اثرات کو بھی اجاگر کیا ہے۔ جو معاشرے کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
میڈیا میں یہ رواج فروغ پا گیا ہے کہ واقعہ کی حقیقت کو پیش کرنے سے قبل اس کی نئے سرے سے واقعہ سازی کی جاتی ہے تاکہ چینل کی ریٹنگ بڑھ سکے۔ اس واقعہ سازی کے پورے عمل کے دوران واقعہ ساز کو اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ وہ جس انداز سے واقعہ کی حقیقت کو توڑ موڑ کر پیش کرنے جا رہا ہے اس کا اثر ناظرین پر کیا ہو گا؟ یا اس سے کسی کی شخصیت تو مجروح نہیں ہو رگی اسے تو بس زیادہ سے زیادہ سنسنی پھیلانی ہے تاکہ چینل کی ریٹنگ بڑھتی رہے۔ واقعہ ساز کو حقیقت سے کچھ سروکار نہیں :
”ان کا مقصد حقیقت تک رسائی نہیں ہوتا بلکہ حقیقت کو ویسے دکھانا ہوتا ہے جیسے یہ چاہ رہے ہوتے ہیں یا پھر جیسے ان کو دکھانے کا حکم ملتا ہے۔ یہ ویسا
ہی منظر نامہ تشکیل دینے لگ پڑتے ہیں۔ حقیقت تک پہنچانے کے بجائے ناظرین کو گم راہ کرتے پیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سنسنی پھیل سکے۔ زیادہ سے زیادہ دیر تک ناظرین ان کے چینل سے چپکے رہیں ”۔ (کرول گھاٹی ص 83 )
ویسے بھی اب سچائی اٹل اور زمان و مکان سے ماورا نہیں رہی۔ زمان یا مکان کے بدلتے ہی سچائی ایک نئے سچ میں ڈھل جاتی ہے۔ جس سے میڈیا ناظرین کو گمراہ کرتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ واقعہ کی سچائی خبر ساز واقعہ ساز کو پیش کرتا ہے جو اسے مختلف زاویوں سے دیکھتا ہے اور اسے از سر نو ترتیب دیتا ہے جس سے وہ اصل سچائی سے مختلف ہو جاتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اصل سچائی کا محض سایہ بن جاتی ہے اور عوام تک پہنچتے مزید کئی سایوں میں تحلیل ہو جاتی ہے :
”گویا ایک سچائی کی شکل وہ تھی جسے خبر ساز موقعے کی مطابقت سے بناتا ہے اور واقعہ ساز کو پیش کرتا ہے۔ ان کی مہیا کردہ تفصیلات کی مدد سے واقعہ ساز نے اسٹوری کے خد و خال ایک خاص تناظر میں بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یوں سچائی پرت در پرت اپنی شکلیں تبدیل کرتی ہوئی عوام تک پہنچتی ہے۔ گویا کوئی ایک حتمی سچ نہ ہو بلکہ ایک سچ کے مختلف سائے ہوں جو اپنے اندر الگ الگ پہچان رکھتے ہوں ”۔ (کرول گھاٹی ص 22 )
میڈیا سچائی کے سایوں یا خود ساختہ سچائی کے ذریعے بلیک میلنگ کے عمل کو آ گے بڑھاتا ہے۔ اس کے پیچھے کاروباری ذہن ہوتے ہیں جو عالمی منڈیوں میں بیٹھ کر منصوبہ بندی کرتے ہیں جس کے ذریعے سیاسی، سماجی اور معاشی سطح پر رونما ہونے والے مختلف واقعات کو مخصوص زاویے اور تناظر میں دکھاتے ہیں جس سے ان کی اپنی مرضی کا فارمیٹ تیار ہو جاتا جو ان کی مرضی کا تاثر ابھارتا ہے جس کے ذریعے وہ پورے معاشرے کو یرغمال بناتے۔ غافر شہزاد نے ”کرول گھاٹی“ میں بڑے موثر پیرائے میں سچ کو فکشنائی ہوتے دکھایا ہے۔ اور وہ سارا لائحہ عمل اجاگر کیا ہے جو صحافتی رپورٹس کو تخلیقی بنا دیتا ہے۔ انھوں نے واقعہ ساز کو ناول نگار کی طرح سوچتا اور عمل کرتا دکھایا ہے :
”گویا صحافت بھی ایک تخلیقی عمل میں ڈھل چکی تھی واقعہ ساز نے ناول کی تیکنیک پر اپنے پروگرام کو ترتیب دینے کے لیے سوچ بچار شروع کی ہوئی تھی اور وہ اپنی پہلے سے تیار کردہ کہانی میں امکانات کا فیصلہ کر رہا تھا کہ کہاں ٹکراؤ ہونا ہے، کہاں کرداروں نے مل کر کہانی کو آگے بڑھانا ہے اور اس پروگرام میں تخلیقی سطح پر کیا کیا اضافے ہوں گے“ ۔ (کرول گھاٹی ص 15,16 )
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو غافر شہزاد نے پاکستانی معاشرے میں پنپنے والی بے حسی، خود غرضی، پیشہ ورانہ غفلت کے ساتھ صحافت، کابینہ، انتظامیہ اور عدلیہ پر کئی سوال اٹھائے ہیں۔ پھر ان سوالوں کا تجزیہ منٹو کے ذریعے کر کے ناول کے بیانیے کو بہت زیادہ تقویت دی ہے۔
ایک بات واضح کرنا چاہوں گا کہ کرول گھاٹی کا مواد عصری معروضیت پر مشتمل ہے لیکن غافر شہزاد نے اسے موضوعیت میں بدلتے ہوئے پورا انصاف کیا ہے۔ انھوں نے پورے ناول میں کہیں پر بھی حقائق کو مسخ نہیں کیا۔ چونکہ ناول کے موضوع کی جڑت صحافت سے ہے۔ اس کے زبان و بیان کے انتخاب میں صحافتی مناسبت کا خیال رکھنے کے ساتھ فنی سنجیدگی کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ اسے محض صحافتی رپورٹس کی طرح ترتیب نہیں دیا بلکہ اس میں اپنے منفرد اسلوب کے ذریعے تخلیقی جان ڈالی ہے۔

