سانپ بھی بچے اور لاٹھی بھی


ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک مرتبہ پھر زرداری پتہ اسٹبلشمنٹ کی اقتدار پر کمزور گرفت کو مضبوط کرنے میں دوبارہ سے جت گیا ہے، جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ نون اپنے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے اور اسٹبلشمنٹ کے سیاسی اقتدار میں اثر و نفوذ کو کم کرنے اور جمہوری اقتدار کی باگ ڈور منتخب نمائندوں کو دینے کی کوشش میں اسٹبلشمنٹ/زرداری گٹھ جوڑ کے جال میں پھڑپھڑاتی نظر آ رہی ہے، جس کی سادہ سی وجہ عمران نیازی کے ناکام تجربے کے نتیجے میں کمزور پڑ جانے والی اسٹبلشمنٹ کی دوبارہ سے اس کی اصل شکل میں بحالی دکھائی دیتا ہے۔

ملکی سلامتی کے نام پر عوام کی اسٹبلشمنٹ سے بیزاری سے چھٹکارا دلانے اور اسے ایک مرتبہ پھر سقوط ڈھاکہ کے بعد بیل آؤٹ کرنے کا کام بہت خوبصورتی سے پی پی اور جمعیت علمائے اسلام ف کرتی نظر آ رہی ہے۔

اسٹبلشمنٹ کی باعزت بحالی کی اس کوشش میں جہاں زرداری گٹھ جوڑ اپنی سابقہ وفاداری کو بحال کرنے میں نہ صرف کامیاب نظر آ رہے ہیں بلکہ وہ جاگیردارانہ اور سردارانہ سماج کی عوام دشمن قوتوں کو بھی مضبوط کر رہا ہے جس کی مثال پی پی کے جاگیردار ممبر قومی اسمبلی کو ناظم جوکھیو قتل کیس میں صفائی سے بچانا ہے، جو کہ کسی نہ کسی سطح پر اس ریاست میں بار حال ہمیشہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھی و مددگار رہے اور اب تک ہیں۔

اگر کمزور اسٹبلشمنٹ کے عمران نیازی ایسے غیر سیاسی اور عقل و فہم سے عاری تجربے کو دیکھا جائے تو اس تجربے کو کرنے کی ضرورت بنیادی طور پر عمران کی شکل میں اسٹبلشمنٹ کے پرانے گٹھ جوڑ ملا جاگیردار اور ملٹری الائنس کی وہ صفات عمران کی صورت میں پیدا کرنے کی سرتوڑ کوششیں کی گئیں، اس کوشش میں عمران نیازی ایسے غیر سیاسی کے اندر مذہبی تڑکا / اسٹبلشمنٹ وفاداری / مکمل نا اہلی اور سماجی بے راہ روی ڈال کر دراصل ان سیاسی جماعتوں سے چھٹکارا تھی جو کسی نہ کسی طور اسٹبلشمنٹ کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں یا پنجاب کی اکثریت کو اسٹبلشمنٹ کی گود میں کے جانے کی اہم رکاوٹ بن چکی تھیں، جن میں نوزائیدہ عوامی بیانیے کی جماعت مسلم لیگ نون تھی۔

سو مسلم لیگ نون کو قابو کرنے اور اسٹبلشمنٹ جاگیردار سردار گٹھ جوڑ کے لیے نہایت صفائی سے زرداری کے سیاسی گھوڑوں کی ڈھائی چال کا سہارا لے کر اسٹبلشمنٹ کو کمزوری کی طرف لے جانے والی جماعت (مسلم لیگ ن) گو جس کی پیدائش انہی کے گملوں میں کی گئی تھی سے چھٹکارا حاصل کرنا تھا، اس پورے سیاسی منظر نامے میں نظر آ رہا ہے کہ ملک کے آئینی عہدوں کو بڑی صفائی سے پی ہی کے حوالے کرنے کی کوشش کی جاری ہے جبکہ کارکردگی کے میدان میں مسلم لیگ نون کو چھوڑ دیا گیا ہے، جس کا لازمی نتیجہ پنجاب سے مسلم لیگ نون کو جہاں کمزور کرنا دکھائی دیتا ہے وہیں مسلم لیگ میں در آنے والے اسٹبلشمنٹ مخالف ڈنک کو نکالنا بھی نظر آ رہا ہے۔

موجودہ سیاست کی یہ سہ رخی لڑائی بڑے دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس میں اسٹبلشمنٹ مخالف بیانیے کے مسلم لیگ نون کے رہنماؤں شاہد خاقان عباسی اور جاوید لطیف ایسوں کو نواز شریف نے اس عارضی اقتدار سے دور رکھا ہے جبکہ پی پی کو آئینی عہدوں پر متمکن رکھنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ مستقبل کی اسٹبلشمنٹ کو بچایا بھی جا سکے اور سیاسی عمل میں اسٹبلشمنٹ اپنا بہتر سالہ اثر و نفوذ بھی جاری رکھ سکے، گویا سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وارث رضا

وارث رضا سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں لکھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے کہنہ مشق استاد سمجھے جاتے ہیں۔۔۔

waris-raza has 15 posts and counting.See all posts by waris-raza

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments