پاگل پن کے دکھاوے سے خوفزدہ کرنے کا نظریہ، جسے نکسن نے ویتنام میں آزمانے کی کوشش کی


رچرڈ نکسن
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی مسلح افواج کی قیادت کو اکتوبر 1969 میں ایک حیرت انگیز حکم ملا جو سویت یونین کے ساتھ ممکنہ تصادم کی تیاری کو تیز کرنے سے متعلق تھا۔

امریکہ کے B-52 بمبار طیارے جوہری ہتھیاروں سے لدے ہوئے تھے اور اُن میں سے 18 نے امریکی مغربی ساحل سے اڑان بھری، الاسکا کو عبور کیا اور واپسی سے پہلے سویت سرزمین کے قریب پرواز کی۔

اس جوہری انتباہ کا حکم خود امریکی صدر رچرڈ نکسن نے دیا تھا اور اسے خفیہ طور پر انجام دیا گیا تھا، حالانکہ یہ ناگزیر لگتا تھا کہ ماسکو اور اس کے اتحادی اس جرات مندانہ کارروائی کا نوٹس لیں گے۔

سرد جنگ کے درمیان اور ویتنام میں الجھے ہوئے نکسن کا ارادہ اپنے دشمنوں کو یہ باور کرانا تھا کہ وہ ضرورت سے زیادہ طاقت، حتیٰ کہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔

’میں اسے دیوانے کا نظریہ کہتا ہوں،‘ نکسن نے اپنے چیف آف سٹاف ایچ آر ہالڈمین کو سمجھایا۔ برسوں بعد اِس گفتگو کا انکشاف خود ایچ آر ہالڈمین نے کیا۔

بہت سے لوگوں نے حالیہ ہفتوں میں اس لمحے کو یاد کیا ہے، جب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے فروری میں یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد اپنی جوہری فورسز کو الرٹ پر رکھا تھا۔

لیکن ’دیوانے کا نظریہ‘ کیا ہے اور اس کو آزمانے کے کیا نتائج نکلے ہیں؟

’جوہری بٹن‘

ویتنام

نکسن نے 1969 میں امریکہ کے لیے سازگار شرائط پر ویتنام جنگ کو ختم کرنے کے مقصد کے ساتھ عہدہ سنبھالا تھا

ماہرین کے مطابق اس حکمت عملی کے آثار پانچ صدیوں پرانے نکلو میکیاویلی سے مل سکتے ہیں، جنھوں نے لکھا تھا کہ ’بعض اوقات پاگل پن کا دعویٰ کرنا بہت دانشمندانہ بات ہے۔‘

جدید دور میں یہ نظریہ سنہ 1959 میں نیوکلیئر حکمت عملی کے ماہر ڈینیل ایلسبرگ نے پیش کیا تھا۔ لیکن نکسن ہی وہ شخص تھے جنھوں نے اسے پاگلوں کے نظریہ کا نام دیا۔ کتاب The Ends of Power نکسن کے سابق چیف آف سٹاف ایچ آر ہالڈمین نے لکھی ہے۔ نکسن اور ان کے چیف آف سٹاف دونوں کو واٹر گیٹ سکینڈل سامنے آنے کے بعد اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا تھا۔

ہالڈمین نے بتایا کہ اس وقت کے صدر (نکسن) نے اُن سے یہ افواہ پھیلانے کے بارے میں بات کی تھی کہ ’وہ (نکسن) کمیونزم کے مخالفت میں ایک جنون میں مبتلا ہیں، اپنے غصے میں ناقابل برداشت ہیں اور ایٹمی بٹن پر اُن کا ہاتھ ہے۔‘

ہالڈمین کی تحریروں کے مطابق نکسن نے ہالڈمین سے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ لوگ اس بات پر یقین کریں کہ میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں جہاں میں جنگ جیتنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

وہ غلطیاں جو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لے گئیں

1971 کی جنگ: جب امریکہ نے انڈیا کو ڈرانے کے لیے اپنا جنگی بیڑہ بھیجا

چوری کی ایک ’چھوٹی سی واردات‘ جس کا خاتمہ امریکی صدر کے استعفے پر ہوا

جنوری 1969 میں ہنری کسنجر کے ساتھ اپنے قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر صدارت سنبھالنے کے بعد سے، نکسن کا مقصد شمالی ویت نام کی سوشلسٹ حکومت کے ساتھ واشنگٹن کے لیے سازگار شرائط پر جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کرنا تھا۔

ریاست پنسلوانیا میں سیاسیات اور بین الاقوامی امور کے پروفیسر روزین میک مینس کا کہنا ہے کہ ’[نکسن] کو شاید یقین تھا کہ اگر وہ سمجھیں ہیں کہ میں تھوڑا سا پاگل ہوں، تو وہ یقین کریں گے کہ میں جنگ کو ختم کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں، یہاں تک کہ جوہری ہتھیار بھی استعمال کر سکتا ہوں۔‘

پروفیسر روزین میک مینس ’دیوانے کے نظریہ‘ پر کتاب لکھ رہی ہیں۔

لیکن اگر یہ شرط تھی، تو نتیجہ اس سے مختلف تھا جو نکسن ڈھونڈ رہے تھے۔

میک مینس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ سویت یونین اور ان کے شمالی ویتنامی اتحادیوں کو یہ احساس نہیں تھا کہ نکسن پاگل پن کی علامتیں ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا یا انھیں یقین نہیں تھا کہ وہ واقعی پاگل تھا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ شاید ایسا اس لیے ہوا کیونکہ سویت یونین کے ساتھ دیگر بات چیت کے عمل میں نکسن عقل سے کام لے رہے تھے، جس کی وجہ سے ویتنام کے لیے ان کی حکمت عملی کم قابل اعتماد ہو سکتی تھی۔

دو دھاری

خروشیف اور نکسن

سابق سوویت رہنما نکیتا خروشیف اور نکسن

نکسن کا رویہ کتنا اصلی تھا یا جعلی، یہ جاننا مشکل ہے۔

امریکی سرکاری دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت وائٹ ہاؤس نے شمالی ویت نام کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر غور کیا تھا اور خود نکسن نے برسوں بعد کہا تھا کہ اس نے جنگ میں بڑے پیمانے پر اضافے سے بچنے کے لیے اسے مسترد کر دیا۔

امریکی ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی (DIA) کے سابق تجزیہ کار میک مینس کہتے ہیں ’اگر لیڈر محدود طریقے سے یہ بتانے کے قابل ہو کہ وہ پاگل ہے، تو کبھی کبھی وہ کامیاب بھی ہو سکتا ہے۔‘

’لیکن اگر وہ سوچتے ہیں کہ وہ مکمل طور پر پاگل ہے، رابطے سے باہر ہے، یا دنیا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، تو اس کے لیے کامیاب ہونا مشکل ہو جائے گا کیونکہ لوگ مستقبل کے بارے میں زیادہ فکر کرنے والے ہیں۔ اگر آپ کے پاس انتہائی پاگل پن کی شہرت ہے تو امن کا وعدہ کرنا بہت مشکل ہے۔‘

درحقیقت، ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دیوانے کا نظریہ اکثر غیر موثر ہوتا ہے: کئی دوسرے سابق رہنما جن میں سویت نکیتا خروشیف، لیبیا کے معمر قذافی یا عراق کے صدام حسین بھی شامل ہیں، جنھوں نے پاگل پن کی حد تک مخالف ہونے کا دکھاوا کیا لیکن وہ مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کر سکے۔

اس کے بجائے، اس نے نازی رہنما ایڈولف ہٹلر کا حوالہ کسی ایسے شخص کے طور پر پیش کیا جس نے 1938 میں چیکوسلواکیہ پر قبضہ کرنے تک اپنے پاگل پن کے بین الاقوامی تاثر کی ساکھ کا فائدہ اٹھایا اور اسے ایک انتہائی دیوانے یا جنونی کے طور پر دیکھا گیا جو دنیا پر تسلط چاہتا تھا۔

ابھی حال ہی میں، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017 میں شمالی کوریا کے ساتھ دیوانے کی تھیوری کو استعمال کرنے کے شبہ کو جنم دیا، جب انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر اس ملک نے امریکہ کو دھمکی دی تو وہ ’آگ اور غصے‘ سے جواب دیں گے۔

اس کے بعد، ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ذاتی طور پر ملاقات کی، جو 70 سال میں امریکہ اور شمالی کوریا کے رہنماؤں میں پہلی ملاقات تھی، لیکن شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ ہوتا رہا۔

ولادمیر پوتین

اب مختلف تجزیہ کاروں نے یوکرین پر حملہ کرنے میں پوتن کے رویے کا موازنہ ماضی میں نکسن یا خروشیف کے رویے سے کیا ہے۔

میک مینس کا کہنا ہے جب بھی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا، نکسن اور خروشیف دونوں نے سنجیدہ فیصلے کیے اس بات سے قطع نظر کہ انھوں نے پاگل پن کا دکھاوا کرنے کی کتنی ہی کوشش کی ہو۔

جہاں تک پوتن کا تعلق ہے وہ پہلے ہی ایسا کام (یوکرین پر حملہ) کر چکے ہیں جسے بہت سے لوگ ایک بہت بڑی سٹریٹجک غلطی کے طور پر دیکھیں گے۔

میکس مینس مزید کہتے ہیں کہ ’شاید یہ اصلی پاگل پن کے زمرے میں آئے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24055 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments