تعلیمی سفر میں اساتذہ کی فیڈ بیک کی اہمیت
کسی بھی چیز یا شخص کے بارے میں رائے دینا جتنا آسان کام ہے اتنا ہی مشکل کام اس کی وضاحت کرنا ہے۔ کیوں کہ جب وضاحت دی جاتی ہے تو اس کے حسن و قبح، دونوں کو مدلل اور شائستہ انداز میں یہ بتا یا جاتا ہے کہ اس میں کون سی چیز بہت اچھی ہے، کون سی چیز ایسی تھی
جس کا ہونا ضروری تھا اور ایسی کون سی صورتیں ہیں کہ جن میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔ اگر صرف یہ کہہ دیا جائے کہ ’یہ بہت اچھا ہے‘ یا ’یہ بہت برا ہے‘ یا ’یہ بس صحیح ہے‘ تو کیا بات بن جائے گی؟ یقیناً نہیں۔ رائے یا فیڈ بیک (feedback) دینا ہر معاملے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر تعلیمی میدان کی بات کی جائے تو اس رائے پر ایک طالب علم کے پورے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے۔ اگر ایک طالب علم کا نتیجہ اس کو یہ کہتے ہوئے دیا جائے کہ تم پاس ہو گئے تو اتنا کافی ہو گا؟ یا پھر اس بارے میں بات کی جائے کہ کیا خوبی تھی، کیا کمی تھی، کیا بہتری کی گنجائش ہے، وغیرہ، وغیرہ۔
فیڈ بیک دینا بہت اہم مگر حساس کام ہے۔ اساتذہ کی مثبت رائے طلبہ کو صحیح سمت میں ڈال سکتی ہے اور اگر یہی رائے منفی انداز میں دی جائے تو انھیں توڑ کر اندر سے کھوکھلا بھی کر سکتی ہے۔ اس لیے اساتذہ کو چاہیے کہ طلبہ یا ان کے والدین کے سامنے بہ جائے کمزور پہلوؤں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور کاپی یا امتحانی پرچے پر صحیح یا غلط کی علامات لگانے کے ان کی اچھی صلاحیتوں پر بات کریں اور ان صلاحیتوں کو مزید نکھارتے ہوئے نسبتاً کم زور پہلوؤں کو کیسے بہتر کر سکتے ہیں، ان پر توجہ مرکوز کی جائے۔
فیڈ بیک دینا اساتذہ پر فرض اور طلبہ کی ضرورت ہے۔ ضروری نہیں کہ طلبہ ہر شعبے میں کمزور ہوں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ جب بھی طلبہ یا ان کے والدین سے بات کریں تو مثبت چیزوں سے گفتگو کا آغاز کریں۔ صاف تعمیم (sweeping generalisation ) یعنی ’بہت اچھا طالب علم ہے‘ ، ’قابل بچی ہے‘ ، ’پورے نمبر لیے ہیں‘ جیسے کلمات سے گریز کرتے ہوئے یہ بتائیں کہ وہ کیوں ’اچھا بچہ‘ ہے، کون سی چیزیں اسے ’قابل‘ بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور وہ کون سے اقدامات تھے جن سے اس کے ’پورے نمبر‘ آئے۔
یہ اس لیے ضروری ہے کہ طالب علم کو اپنی صلاحیتوں کا ادراک ہو اور وہ مزید بہتر کارکردگی دکھا سکے۔ اس کی مثال یوں دے سکتے ہیں کہ فلاں سوال کے جواب میں مطلوبہ تمام تفاصیل ترتیب سے درج کی ہیں، اس لیے پورے نمبر حاصل کیے۔ دوسری مثال یہ ہو سکتی ہے : پچھلے ہفتے تقریری مقابلے میں انتہائی مدلل انداز میں اپنا پیغام حاضرین تک پہنچا کر خوب داد وصول کی۔
طلبہ اکثر غلطیاں کرتے ہیں اور غلطیاں سیکھنے کے عمل کا ضروری حصہ ہیں۔ غلطیاں نہیں کریں گے تو سیکھیں گے کیسے؟ تاہم! غلطیوں پر صرف غلط کا نشان لگانے یا ’غلط لکھا ہے‘ یا ’جواب غلط ہے‘ کہنے یا لکھنے کی بہ جائے یہ واضح کیا جائے کہ وہ کیوں غلط ہے۔ مزید یہ کہ طلبہ کو
سوچنے اور فیصلہ کرنے کی درست سمت کا تعین کروانا انتہائی ضروری ہے تاکہ سیکھنے کے عمل میں آسانی سے آگے بڑھنے میں مدد ملے۔ مثلاً: طلبہ نظام تنفس کے عمل کو بیان کرنے میں اگر پھیپھڑوں کے کردار کو درست انداز میں نہیں لکھ سکے ہیں تو اساتذہ ان کی راہنمائی کر سکتے ہیں کہ پھیپھڑوں کا کیا کردار ہے، انھیں ضبط تحریر میں لانا کیوں ضروری ہے اور کیسے لا سکتے ہیں۔
اساتذہ جب طلبہ کے بارے میں کوئی فیصلہ صادر کرتے ہیں تو وہ بچوں کے اذہان پر نقش ہوجاتا ہے اور اگر فیصلہ مثبت نہ ہو تو طلبہ کی روحوں کو گھائل کر دیتا ہے۔ نتیجتا تعلم کا عمل بری طرح متاثر ہوتا ہے اور اکثر طلبہ مستقبل میں اچھے شہری کی خصوصیات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا اساتذہ کو چاہیے کہ طلبہ اور ان کے والدین کے سامنے دوستانہ ماحول میں سیکھنے کے عمل پر مثبت انداز میں بات چیت کریں۔ اس گفتگو کا محور طلبہ کے سیکھنے کا عمل یا کارکردگی ہونا چاہیے نہ کہ ایک طالب علم کی شخصیت۔ اگر اساتذہ تعلم کے عمل کو چھوڑ کر طالب علم کی شخصیت پر تنقید کریں گے تو اس کا طالب علم کی شخصیت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ یاد رکھیں کہ طلبہ کی تعلیم میں خراب کارکردگی صرف ان کی اپنی وجہ سے نہیں بلکہ اساتذہ بھی برابر کے قصور وار ہو سکتے ہیں۔
اساتذہ کو یہ بھی چاہیے کہ وہ طلبہ کو اپنی کارکردگی اور اساتذہ کے فیڈ بیک پر سوالات کرنے اور مختلف امور پر غور و خوض کرنے کے مواقع اور حوصلہ افزائی بھی فرمائیں، تاکہ اچھی کارکردگی نہ دکھانے کے باوجود بھی طلبہ کا اعتماد متزلزل نہ ہو۔ نتیجتا وہ اپنی بہتری کے لیے خود سے منصوبہ بندی کرنے اور دوبارہ کھڑے ہونے کے قابل ہو جائیں۔
اگر طلبہ کی کارکردگی کسی ٹیسٹ یا مضمون میں مطلوبہ توقع کے برعکس ہے تو اساتذہ کو چاہیے کہ ایسے طلبہ کے ساتھ باقاعدہ شیڈول کے مطابق مسلسل رابطہ جاری رکھیں تاکہ طلبہ کے تعلیمی سفر میں مطلوبہ اہداف کا حصول اچھے اور مسلسل انداز میں ممکن ہو سکے۔ صرف ایک بار بتانے سے شاید مثبت نتائج حاصل نہ ہو سکیں جو کہ اساتذہ اپنے طلبہ سے توقع کرتے ہیں۔ اس لیے سیکھنے کے اس سفر میں طلبہ کی مسلسل راہنمائی انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ عموماً طلبہ خراب کارکردگی پر ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو تنہا سمجھنے لگتے ہیں۔ اس تناؤ سے طلبہ کو نکالنے کے لیے اساتذہ کا طلبہ کے ساتھ مسلسل رابطہ کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
فیڈ بیک نہ دینا یا بہت دیر سے فیڈ بیک دینا دونوں ہی بے سود ہیں۔ مثلاً: کسی حریف سے بیت بازی کا مقابلہ جیتنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ طلبہ کو فیڈ بیک کی ضرورت نہیں ہے۔ بہتری کی گنجائش ہر جگہ ہوتی ہے اس لیے طلبہ کو ان کی کارکردگی کے بارے میں مخلص رائے دینا ازحد ضروری ہے۔ اسی طرح اگر کسی ہوم ورک کو اساتذہ چیک ہی نہ کریں یا چیک کر کے صرف دستخط کرنے سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچے گا۔ لہٰذا بروقت فیڈ بیک دینا اور مثبت انداز میں طلبہ کو تجاویز دینا طلبہ اور معاشرے دونوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔
آگ لہجے کی دل جلاتی ہے
لفظ آتش فشاں نہیں ہوتے


