شہباز کا آرڈر: نواز شریف کا ڈپلومیٹک پاسپورٹ کس نے روکا؟

نواز شریف ملک پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں اور اب بھی وہ مسلم نون لیگ کے قائد ہیں بلکہ لاکھوں پاکستانی عوام نواز شریف سے محبت رکھتی ہے۔ لیکن پچھلے ساڑھے تین سالوں سے خود ساختہ جلا وطن ہے۔ میری تحریر سے اختلاف کرنا آپ کا حق ہے لیکن حقیقت سے منہ نہیں پھیرا جا سکتا۔ کیونکہ آپ اور میں اچھی طرح جانتے ہیں کہ جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے۔ اس لیے ہر ذی شعور انسان فوری سمجھ اور سونگ لیتا ہے کہ درست سمت کیا ہے۔ بات جلا وطنی سے سٹارٹ کرتے ہیں۔ میاں نواز شریف پہلے بھی جلا وطن ہوئے تو تب بھی عوام کو یعنی اپنے ووٹرز کو بتایا کہ وہ علاج کروا رہے ہیں۔
پچھلے کئی سالوں سے علاج جاری ہے، بلکہ اگر آپ ہسٹری دیکھیں گے تو آپ کو بہت کچھ ملے گا۔ کہ سیاست دان ملک سے باہر جب جاتے ہیں تو کون سے ڈاکٹر ہیں جو سیاست دانوں کا علاج کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں میرے مطابق وہ نالائق ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ جو بار بار فیل ہو کر ڈاکٹر بنتے ہیں، ورنہ پوری دنیا میں ایک ہی طرح کے ڈاکٹر ہوتے ہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ملک میں کوئی ایسا مریض جس کو خطر ناک عارضہ لاحق ہو جس کو اسپیشل ٹریٹمنٹ کروانے کی ضرورت ہو اور وہ علاج اپنے ملک میں میسر نہ ہو، چند ایسی بیماریوں کی ٹریٹمنٹ کے لیے مریض کو ہجرت بھی کرنا پڑھتی ہے۔
اب ہم بات کرتے ہیں میاں نواز شریف کی جو کہ علاج کی غرض سے برطانیہ شفٹ ہوئے۔ بلکہ حسین نواز کے مطابق نواز شریف کو زہر بھی دیا گیا جس کا شور ہی نہیں بلکہ پاکستان کی سیاست ہل کر رہ گئی۔ بھونچال آ گیا تھا پاکستان میں، میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ بات میاں صاحب کی بیماری کی طرف نکل پڑھی۔ میں نے میاں صاحب کی دو رپورٹوں کا مطالعہ کیا بلکہ ڈاکٹر سے اپنی آسانی کے لیے اردو ترجمہ بھی کروایا تاکہ درست مطلب سمجھ آ سکے۔
جب میں مطالعہ کیا تو میری عقل دنگ رہ گئی کہ میاں نواز شریف کو اتنی بیماریاں اور اتنی دوائیاں کس کے کہنے پر دی جا رہیں ہیں؟ کون سا ڈاکٹر ہے جس کے کہنے سے یہ عمل جاری ہے؟ یہ معاملہ غور طلب ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میاں صاحب کو ان کے ڈاکٹرز نے روکا ہوا ہے ورنہ وہ تو کب کے پاکستان چلے جاتے۔ ڈاکٹرز نے متعدد بار یہ کہا ہے کہ آپ سفر نہیں کر سکتے۔ پہلے تو عمران خان کی حکومت نے ان کو آنے سے روک رکھا تھا یعنی اگر میں ایسے لکھوں کہ ان کو مقدمات کا سامنا بھی ہے۔ شاید اس لیے کہ سیاسی انتقام کی وجہ سے بھی برطانیہ قیام کرنا پڑھا۔
آپ شاید مجھ سے زیادہ واقف ہوں گے کہ ہمارے سینئر دوست جناب اظہر صاحب کئی بار کوشش کر چکے ہیں کہ میاں نواز شریف پاکستان جا رہے ہیں۔ لیکن پتہ نہیں میاں صاحب کو کون روک دیتا ہے؟ یہ تو اظہر صاحب ہی بتا سکتے ہیں۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ میاں شہباز شریف ہی ان کو روک دیتے ہیں۔ کہ نہیں میاں صاحب کو اپنا علاج مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ کہا جاتا تھا کہ میاں صاحب کا پاسپورٹ حکومت نہیں دے رہی، یعنی شیخ رشید نے ان کے پاسپورٹ کو بننے نہیں دیا گیا، یعنی شیخ رشید اس وقت کے وزیرداخلہ نے بھی نواز شریف کو روکا تھا؟ جی نہیں، پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو پاکستان جانے سے کوئی نہیں روک سکتا، ٹریول ڈاکومنٹس لے کر سفر کر سکتے ہیں، اپنے نائکوپ کارڈ پر سفر بھی کر سکتے ہیں، کیونکہ آپ پاکستانی شہری ہیں
پاکستان سے باہر جانے کے لیے پاسپورٹ ہونا ضروری ہے، جیسے آپ یہ خبریں سنتے تھے کہ میاں صاحب آ رہے ہیں۔ اب تو نون لیگ کی حکومت ہے اور چھوٹے میاں صاحب نے اپنے بھائی کے لیے ایگزیکٹو آرڈر دیا تھا کہ نواز شریف کو ڈپلومیٹ پاسپورٹ فوری جاری کیا جائے۔ لیکن آپ نے دیکھا وہ نارمل عام پاکستانی پاسپورٹ جاری کیا گیا، سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیوں اور کس نے ڈپلومیٹ پاسپورٹ بننے نہیں دیا۔ ان سب کا ماسٹر مائنڈ یعنی ایک ہی ڈاکٹر ہے۔ جس نے نواز شریف کو علاج کی غرض سے لندن بھیجا اور اب پاسپورٹ آرڈنری دیا۔ اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے آرڈر جس نے نہیں مانے وہ بھی وہی ڈاکٹر ہے۔ اس کا مطلب ان تمام کاموں کے پیچھے ڈاکٹر کا ہاتھ ہے۔ لیکن اس بار یہ ڈاکٹر مختلف بیماریوں سے لڑنے کے لیے مختلف نسخے آزما رہا ہے۔
شہباز شریف اس وقت ملک پاکستان کے وزیر اعظم ہیں اور ان کے آرڈر نہ ماننے والا ڈاکٹر کون ہے؟ جس نے ڈپلومیٹ کی بجائے نارمل پاسپورٹ جاری کرنے کے آرڈر دیے؟ کسی ملک کے وزیراعظم اس سے زیادہ کیا بے بس ہو گا جس کے آرڈر ہوں کہ نواز شریف کا ڈپلومیٹ پاسپورٹ فوری دیا جائے۔ ان کے آرڈر کو ہوا میں اڑانا کا مطلب وہ مضبوط وزیراعظم نہیں ہیں، کیا ان کا معالج بھی وہی ڈاکٹر تو نہیں؟ جس نے ان کو کمر درد سے نکال کر اعلی عہدے اور سارا دن کام کرنے کے قابل کر دیا۔
میں تو ایسے ڈاکٹر کو ضرور داد دوں گا۔ اللہ ایسا ڈاکٹر سب کو دے سکے۔ وزیر اعظم پاکستان جناب شہباز شریف کے آرڈر نہ ماننے والے ڈاکٹرز کا کھوج ضرور نکالیں۔ اگر آپ نے کھوج نہ نکالا تو سمجھ لیجیے ڈاکٹر کو آپ جانتے ہیں۔ کیونکہ اسی ڈاکٹر نے آپ کو بھی برطانیہ بھیجا تھا۔ ہمارے ملک میں ایسے ڈاکٹر کا ضرور کلینک ہونا چاہیے تاکہ عوام بھی ایسے ڈاکٹر سے مستفید ہو سکیں۔ اپنا علاج کروا سکیں، اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ یہ زندگی عارضی ہے اور عارضی زندگی میں اللہ ہمیں اپنے ملک پاکستان کے لیے اچھے ڈاکٹرز پیدا کریں تاکہ نئے ڈاکٹرز جدید طریقہ سے علاج کریں جس کی آج بڑی ضرورت ہے

