نظامِ عدل میں بہتری: وقت کی ضرورت



دوسری جنگ عظیم میں جب جرمن نازی لندن پہ بموں کی برسات کر ہے تھے اور برطانیہ کے اس وقت کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل کو جنگ کی تباہ کاریوں پہ بریفنگ دی جا رہی تھی تو اس نے پوچھا تھا کہ

”Are the courts functioning.“

کیا ہماری عدالتیں (اپنا) کام کر رہی ہیں۔ اور جب اسے بتایا گیا کہ ہمارے ججز پوری ایمانداری اور تندہی سے لوگوں کو انصاف فراہم کر رہے ہیں تو اس نے کہا تھا کہ

”Thank God. If the courts are working, nothing can go wrong.“
خدا کا شکر ہے، اگر عدالتیں (اپنا) کام کر رہی ہیں تو کچھ برا نہیں ہو گا۔
انصاف ہونا اور انصاف ہوتا ہوا نظر آنا دو الگ الگ کیفیتیں ہیں!

اگست 1923میں انگلینڈ میں دو موٹر سائیکل ایک دوسرے سے ٹکرائے اور اس وقت موٹر سائیکل کے ساتھ سائیڈ کار بھی ہوتی تھی جس میں اضافی سواری بیٹھا کرتی تھی۔ ایک موٹر سائیکل پہ مسٹر میکارتھی سوار تھا اور دوسری موٹر سائیکل پہ مسٹر وٹ ورتھ اور اس کی بیوی۔

حادثے کے نتیجے میں مسٹر وٹ ورتھ اور اس کی بیوی زخمی ہو گئے۔
مسٹر مکارتھی کے خلاف کیس ہوا، معاملہ عدالت میں چلا گیا اور پیشی کی تاریخ مقرر ہو گئی۔

مسٹر وٹ ورتھ نے مقدمہ لڑنے اور نقصان کے ازالے کے لیے M/s Langham, Son and Douglas نامی لا فرم خدمات حاصل کیں!

مقدمہ کی کارروائی کا آغاز سسیکس میں King ’s Bench of Judges کی عدالت میں ہوا۔

اتفاق سے عدالت کا کلرک لینگہیم استغاثہ کی لا فرم میں حصہ دار تھا۔ سماعت کے روز لینگہیم چھٹی پہ تھا اور اس کا چھوٹا بھائی ڈپٹی کلرک کے طور پہ عدالت کی معاونت کر رہا تھا، حسن اتفاق کہ وہ بھی اس لا فرم میں پارٹنر تھا۔ فریقین کے دلائل سنے گئے اور سماعت کے بعد جیسے ہی ججز اپنے چیمبر میں گئے تو ڈپٹی کلرک بھی ساتھ اندر چلا گیا۔ (شاید یہ اس کا روزمرہ کا معمول ہو) ۔ تھوڑی دیر بعد ججز واپس عدالت میں آئے اور فیصلہ سناتے ہوئے مسٹر میکارتھی کو گناہگار قرار دیتے ہوئے اس جرمانہ کر دیا۔

مسٹر میکارتھی نے اس فیصلے کے خلاف اعلی عدالت میں اپیل کردی۔ اپیل کی ایک گراؤنڈ یہ تھی کہ ڈپٹی کلرک جو کہ استغاثہ کے وکیل کی لا فرم میں پارٹنر ہے، کا ججز کے ساتھ ان کے چیمبر میں جانا جب کہ انہوں نے ابھی فیصلہ سنایا بھی نہیں، فیصلے پہ اثرانداز ہونے کے مترادف ہے! King ’s Bench of Judges کی عدالت میں دوران سماعت سسیکس کی عدالت کے ججز کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ڈپٹی کلرک مقدمہ کے فیصلہ کے روز ججز کے چیمبر میں ضرور گیا تھا مگر وہ لا فرم میں حصہ دار ہونے کی وجہ دانستہ خاموش رہا کہ کہیں فیصلے پہ اثر انداز ہونے کا تاثر نہ پیدا ہو!

لہذا اس کی ججز کے چیمبر میں محض موجودگی فیصلے یا سزا کو کالعدم قرار دینے کے لیے کافی نہیں اور اسے زیادہ سے زیادہ بے قاعدگی کہا جائے گا!

اس پہ ججز کے بینچ کے سربراہ لارڈ ہیوٹ نے وہ تاریخی جملہ کہا جس کی گونج انصاف کی عدالتوں میں آج سو سال بعد بھی سنائی دتی ہے اور اسے بار بار دہرایا جاتا ہے۔ اور یہ تاریخی فقرہ آج سو سال بعد بھی متعدد فیصلوں کی بنیاد بن رہا ہے۔

لارڈ ہیوٹ نے سسیکس کے ججز کے وکیل کے تمام دلائل کو درست مانا جن میں ڈپٹی کا ججز چیمبر میں رائے نہ دینا، لا فرم میں حصہ دار ہونے کی وجہ سے دانستہ خاموش رہنا، وغیرہ شامل تھے، لیکن یہ تاریخی کلمات کہہ کے سزا کو کالعدم قرار دیا کہ

”It is not merely of some importance but is of fundamental importance that justice should not only be done, but should manifestly and undoubtedly be seen to be done“ .

یعنی یہ بات محض تھوڑی اہمیت کی حامل نہیں بلکہ بنیادی اہمیت کی حامل ہے کہ محض انصاف کا کرنا ہی کافی نہیں بلکہ بظاہر اور بلاشک و شبہ ایسا ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

اس نے مزید کہا کہ

”Nothing is to be done which creates even a suspicion that there has been an improper interference with the course of justice.“

یعنی ایسا کوئی بھی عمل جس سے اس بات کا شائبہ تک بھی ہو کہ انصاف کے راستے میں غیر معقول مداخلت کی گئی ہے، نہیں ہونا چاہیے!

یہ ہوتا ہے انصاف اور ایسا ہوتا ہے عدالت کا معیار! مہذب دنیا میں اس فیصلے کی روشنی میں آج بھی فیصلے اس انداز میں کیے جاتے ہیں کہ جانبداری کا شائبہ تک نہیں ہوتا!

ہمارے یہاں عدلیہ کے بعض فیصلوں کا معیار ایسا ہے کہ فیصلے میں منصف کی ذاتی پسند ناپسند واضح نظر آتی ہے۔

ہمارے معزز ججز کو انصاف کی فراہمی کا ایسا نظام وضع کرنا ہو گا کہ ہمارے نظام عدل سے نہ صرف ہمارے لوگ مطمئن ہوں بلکہ عالمی برادری میں ہماری توقیر اور عزت ہو!

جب تک مصلحت کوشی سے کام لیا جاتا رہے گا اور مجرم کی حیثیت دیکھ کے انصاف کیا جاتا رہے گا عالمی برادری میں ہماری عدلیہ کی کوئی قدر ہوگی، نہ ہمارے معزز ججز کی اور ملک کی!

Facebook Comments HS

One thought on “نظامِ عدل میں بہتری: وقت کی ضرورت

  • 01/05/2022 at 3:54 صبح
    Permalink

    زبردست….

Comments are closed.