عید کی چھٹیوں میں شمالی علاقہ جات پاکستانی سیاحوں کی پسندیدہ منزل لیکن جائیں کہاں؟

محمد زبیر خان - صحافی


’ہمیں ایسٹر کی چھٹیاں ہوئیں تو پتا چلا کہ ناران کاغان جانے کے راستے کھل چکے ہیں تو ہم بچوں کے ہمراہ ناران پہنچ گئے تھے۔ وہاں پر بہت انجوائے کیا کیونکہ رش بھی زیادہ نہیں تھا۔‘

یہ کہنا ہے راولپنڈی کے حشام رضوان کا جنھوں نے حال ہی میں اپنے خاندان کے ہمراہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے سیاحتی مقام ناران کا تفریحی دورہ کیا تھا۔

صرف حشام رضوان ہی نہیں بلکہ ان جیسے کئی سیاحوں نے جب سنا کہ ناران اور کاغان کے راستے کھل چکے ہیں تو وہ وہاں پہنچ گئے اور ایسے ہی لوگوں میں ایبٹ آباد کے محمد صابر بھی شامل تھے۔

محمد صابر کہتے ہیں کہ ’جب پتا چلا کہ ناران وقت سے پہلے کھل گیا ہے تو میں نے اس موقعے کو عنیمت سمجھا اور اپنے خاندان کے ہمراہ ناران پہنچ گیا۔‘

’اس وقت سیاحوں کی بڑی تعداد موجود نہیں تھی، ہوٹلوں کے کرائے بھی بہت مناسب تھے۔ ایسے ہی کم کرائے پر جیپ لے کر جھیل سیف الملوک کی سیر بھی کی۔‘

ناران ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر سیٹھ مطیع الرحمن کہتے ہیں کہ ’معمول کے وقت اور عید سے پہلے ناران کے راستے کھلنے پر ہوٹل انڈسڑی کے لوگ خوش ہیں۔‘

صرف ناران ہی نہیں بلکہ سوات سے بھی اطلاعات ہیں کہ کئی سیاحتی مقامات کے راستے کھل چکے ہیں۔

کون کون سے سیاحتی مقامات کھلے ہیں؟

سیٹھ مطیع الرحمن کے مطابق ناران کے راستے عموماً اپریل کے آخری دنوں یا مئی کے پہلے ہفتے میں کھلتے ہیں جبکہ گلگت بلتستان کو ملانے والا بابو سر ٹاپ کا راستہ مئی کے دوسرے یا تیسرے ہفتے میں کھلتا ہے مگر اس سال ناران اور بٹہ کنڈی تک کا راستہ اپریل کے پہلے 10 دن ہی میں کھل گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بابو سر ٹاپ کا راستہ ابھی نہیں کھلا اور اس پر کام جاری ہے۔ ’لیکن جس طرح کام ہو رہا ہے، اس سے لگ رہا ہے کہ یہ راستہ بھی اپنے وقت سے پہلے یکم مئی تک کھل جائے گا اور گلگت بلتستان جانے والا راستہ بحال ہونے سے ناران اور وادی کاغان میں سیاحوں کی رونق اپنے عروج پر پہنچ جائے گئی۔‘

سوات کی مشہور زمانہ جھیلوں میں سہولتیں فراہم کرنے والے اوپن سکائی گلیمپس کے نور الہدی کے مطابق سوات کی تین مشہور زمانہ مہوڈھنڈ، سیف اللہ اور نصر اللہ کی جھیلوں کی طرف جانے والے راستے کھل چکے ہیں۔

یہ راستے بھی اپنے وقت سے کافی پہلے کھلے ہیں جبکہ گزشتہ برسوں میں یہ راستے جون کے پہلے ہفتے میں کھلتے تھے۔ نور الہدی کہتے ہیں کہ شاہی باغ جو کہ گذشتہ برسوں میں مئی کے ماہ میں کھلتا ہے اس سال اپریل ہی میں کھل چکا ہے۔

نور الہدی کے مطابق راستے کھل جانے کے بعد ان علاقوں میں مہمان سیاح جا رہے ہیں۔

’کچھ دن پہلے تک تو وہاں پر موجود ہٹس وغیرہ شروع نہیں ہوئیں تھیں۔ جس وجہ سے رات رکنے اور کھانے پینے کا انتظام نہیں تھا مگر اب ہٹس بھی کھل چکی ہیں اور مہمانوں کے لیے تمام انتظامات موجود ہیں۔‘

نور الہدیٰ کہتے ہیں کہ اس وقت شاہی باغ میں تو ہوٹلوں کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے جبکہ ہوڈھنڈ، سیف اللہ اور نصر اللہ کی جھیلوں پر ہوٹلوں اور کیمپوں کی تزئین و آرائش کا کام مکمل ہونے کے بعد جیپوں نے بھی آنا جانا شروع کر دیا ہے۔

عید الفطر پر سیاحتی مقامات پر رش کا امکان

لاہور کے چوہدری جہانگیر ہر سال وادی کاغان اور ناران ضرور جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عموماً وادی کاغان کے راستے اپریل کے آخر یا مئی میں کھلتے ہیں مگر ’اس سال ہمیں پتا چلا کہ راستے پہلے کھل چکے ہیں جبکہ کئی ہوٹلوں نے بھی کام شروع کر دیا ہے تو ہم نے عید الفطر کی چھٹیاں ناران میں گزارنے کے لیے بکنگ کروا لی ہے۔‘

’خلاف توقع یہ بکنک سستی ہوئی ہے۔ اب ہم عید کے دوسرے روز لاہور سے ناران کی طرف روانہ ہوں گے، جہاں پر دو دن گزارنے کے بعد عید کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد واپس لاہور آجائیں گے۔‘

کئی لوگوں نے عید کی چھٹیوں میں سوات جانے کا بھی پروگرام بنا رکھا ہے۔

سوات ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر زاہد خان کہتے ہیں کہ ’سوات کے ہوٹلوں میں عید کے لیے ایڈوانس بکنگ ہو رہی ہے۔ لوگ رابطے کر رہے ہیں، جس سے امکان نظر آ رہا ہے کہ عید کی چھٹیوں میں سیاح بڑی تعداد میں سوات آنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔‘

زاہد خان کہتے ہیں کہ سوات میں بڑی تعداد میں ہوٹل تعمیر ہوئے ہیں تو یہاں آنے والے سیاحوں کو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ سوات کے ہوٹلوں میں بہت گنجائش ہے۔

’رش ہونے کی صورت میں بھی لوگوں کو جگہ دستیاب ہو جائے گی۔ اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہو تو ہم اپنے مہمانوں کا یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے موجود ہوں گے۔‘

’دوسری بات یہ کہ ہم نے حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر مختلف ہوٹلوں کی کیٹگری کے حساب سے نرخ مقرر کر دیے ہیں۔ کوئی بھی مہمان کسی بھی ہوٹل کو ہرگز طے شدہ نرخ سے زیادہ ادا نہ کرے۔ زیادہ نرخ مانگنے والے کو جرمانے کیے جائیں گے۔‘

زاہد خان کہتے ہیں کہ ’رمضان کے ماہ میں تو مہمان بہت کم آئے ہیں جبکہ ہمارے پاس مارچ کے ماہ میں مہمانوں کی آمد کافی زیادہ تھی مگر سردیوں کے سیزن میں تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود سانحہ مری کی وجہ سے لوگوں نے سوات کا رخ بھی انتہائی کم کیا۔‘

اوپن سکائی گلیمپس کے نور الہدی کہتے ہیں کہ ’عید سے قبل اور عید کے بعد کی ایڈوانس بکنگ ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ بھی متوقع سیاح معلومات حاصل کر رہے ہیں اور لگتا ہے کہ عید کی چھٹیوں میں سیاحتی سیزن شروع ہو جائے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں ’پہاڑی خداؤں کے تخت‘ تک پہنچنا آسان نہیں

سون سکیسر: ’اتنی حسین جھیلیں لیکن بندہ نہ بندے کی ذات‘

اسلام آباد میں ایک دن میں کیا کیا دیکھا جا سکتا ہے

سیٹھ مطیع الرحمن کہتے ہیں کہ وادی کاغان میں 500 سے زائد ہوٹل ہیں جبکہ ناران میں اس وقت کوئی 50 کے قریب ہوٹل چل رہے ہیں۔

’اس وقت بھی ناران میں کافی تعداد میں سیاح موجود ہیں جبکہ ابھی تک کافی تعداد میں عید کے لیے بھی بکنگ شروع ہو چکی ہے۔ میرا خیال ہے کہ جو ہوٹل کھلے ہوئے ہیں ان کی 30 فیصد بکنگ ہو چکی ہے جبکہ باقی عید کے قریب قریب کھل جائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں توقع ہے کہ گذشتہ برسوں میں کووڈ کی وجہ سے جو پابندیاں لگی تھیں، وہ اس سال نہیں ہوں گی اور وقت سے پہلے سیاحتی سیزن شروع ہونے سے ہوٹل انڈسڑی کو کافی سہارا مل سکے گا۔‘

زاہد خان بھی توقع کرتے ہیں کہ اس سال کے سیاحتی سیزن میں ان کے نقصانات کا کچھ ازالہ ممکن ہو سکے گا۔

وقت سے پہلے راستے کھلنے کی وجہ

محکمہ موسمیات اسلام آباد کے مطابق سردیوں کے گزر جانے والے حالیہ سیزن میں پاکستان میں مجموعی طور پر اوسط سے کم برفباری پڑی۔ پاکستان میں عموماً سردیوں میں اوسط برفباری تقریباً 42 انچ ہوتی ہے جبکہ اس سال 31 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی۔

صرف مری اور گلیات میں برفباری اوسط سے زیادہ ریکارڈ ہوئی، وہ بھی صرف ایک مرتبہ کی برفباری کے دوران۔

سیٹھ مطیع الرحمن کہتے ہیں کہ اس سال برفباری بہت کم ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اتنی کم برفباری میں نے اپنی زندگی میں سنہ 2013 میں دیکھی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں میں ناران کے بند راستوں کو کھولنے کے لیے کام شروع کیا جاتا تھا تو برفباری زیادہ ہونے کی بنا پر ان کو کھولنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔

’اس سال پہلے تو اس طرح راستے بند ہی نہیں ہوئے اور اسی وجہ سے جب ان کو کھولنا شروع کیا گیا تو اتنی زیادہ مشکلات نہیں آئی اور راستے ایک دم ہی کھل گئے۔‘

نور الہدی شاہین بھی کہتے ہیں کہ اس سال برفباری بہت کم ہوئی۔

’مہوڈھنڈ، سیف اللہ اور نصر اللہ کی جھیلوں میں گزشتہ برسوں میں ان دنوں کے دوران برف ہی برف ہوتی ہے۔ وہاں پر جھیل کا پانی نظر نہیں آتا مگر اب وہاں پر برف بہت کم ہے اور جھیل کا پانی نظر آ رہا ہے۔‘

زاہد خان کہتے ہیں کہ راستے جلد کھلنے کی وجہ مارچ اور اپریل کے شروع کے دنوں میں معمول سے زیادہ پڑنے والی گرمی بھی ہے۔

’بہت زیادہ گرمی کی وجہ سے بھی برف جلدی پگھل گئی تھی جس سے راستے بھی کھل گئے۔‘

سیٹھ مطیع الرحمن کہتے ہیں کہ ہمارے علاقوں میں سیاح قدرت کے نظارے، گلیشیئر اور برفباری دیکھنے آتے ہیں۔

’اب اگر برف باری ہی کم ہو گئی جیسا کہ ہم اس سال دیکھ رہے ہیں تو ہمارے علاقے اور سوات کی خوبصورتی پر فرق پڑے گا۔ اس سال تو چلو گلیشیئر اور برفباری موجود ہے مگر کم برفباری والا سلسلہ مزید برسوں میں بھی ہوا تو ہمارے علاقے بہت متاثر ہوں گے۔‘

’اس سال تو قبل از وقت راستے کھل جانے پر سب خوش ہیں مگر امید کرتے ہیں کہ آئندہ برسوں میں اوسط برف ہی پڑے گئی اور راستے قبل از وقت نہیں کھلیں گے۔ یہ ہمارے علاقوں کی بقا اور تحفّظ کے لیے ضروری ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24071 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments