بچوں کی تعلیم و تربیت: آج کے دور کی ضروریات
بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اکیلی ماں کچھ نہیں کر سکتی کیونکہ بچوں کی تربیت میں گھرکا ماحول ’گھر والوں کا رویہ‘ اردگرد کے لوگ ’اسکول‘ والدین کا آپسی تعلق ’والدین کا بچوں کے ساتھ رویہ‘ گھر کے بزرگوں کا کردار جیسے کئی عناصر بھی شامل ہوتے ہیں۔ لیکن چونکہ ہماری عادت ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری قبول نہیں کرتے اور سارا بوجھ دوسروں کے کندھے پر ڈال دیتے ہیں لہذا تربیت کا حساس معاملہ صرف ماں کے ساتھ منسوب کر دیا جاتا ہے۔
اب ایک خاتون چاہے وہ ملازمت پیشہ ہو یا گھریلو امور کی ماہر خاتون ہو اسی نے بچوں کو زندگی کے ہر امتحان کے لئے تیار کرنا ہے۔ ان کو بولنا ’چلنا‘ کھانا پینا حتٰی کہ سوچنا ’کھیلنا‘ پڑھنا ’لکھنا‘ آگے بڑھنا اور پھر زمانے کی اونچ نیچ بتانا سب ماں کی ذمہ داری میں آتا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ کوئی بھی موقع ہو چاہے تعلیمی سرگرمی ہو یا کوئی کھیل کا میدان ہر بار بچہ اپنی ماں کی طرف دیکھتا ہے۔ کیونکہ ایک ماں ہی ہے جو اپنے بچے کو سب سے بہتر جانتی ہے کہ اس کی کب اور کس طرح حوصلہ افزائی کرنی ہے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کرنا ہے۔
آپ میری بات سے اتفاق کریں گے کہ جن گھروں میں والد ذمہ دار و سمجھ دار ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنا کردار بخوبی ادا کرتے ہیں اور بچوں کے ساتھ اپنے تعلقات دوستانہ رکھتے ہیں انھیں زمانے کی اونچ نیچ سکھاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان بچوں کی شخصیت میں بلا کا اعتماد پایا جاتا ہے۔ کیونکہ ہمارے متوسط طبقے میں اکثر خواتین خاص طور پر ماؤں کی اپنے سسرال میں حیثیت ثانوی یا واجبی سی ہوتی ہے جہاں وہ اپنے فیصلے خود نہیں کر سکتی تو کیسے بچوں میں بروقت اور درست فیصلہ کرنے کا اعتماد پیدا کر سکتی ہیں یا ان کی شخصیت کو نکھار سکتی ہیں۔ ایسا صرف وہی عورت کر سکتی ہے جو خود پڑھی لکھی ہونے کے ساتھ ساتھ پر اعتماد ہو اور اس کا شوہر اس کو عزت و احترام دیتا ہو۔
اب وقت بہت بدل چکا ہے ہمیں آج کے بچوں کو اسی طرز پر تیار کرنا ہو گا تاکہ وہ آنے والے وقت میں اپنا آپ منوا سکیں۔ بچوں کو ان کے بچپن سے ہی کتابوں سے رغبت پیدا کرنی چاہیے ان کو سکھائیں کہ وہ نصابی کتابوں کے علاوہ بھی کتابیں پڑھیں۔ لائیبریری کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ اگر دوسری اشیاء کی خریداری کی جا سکتی ہے تو کتابوں کی خریداری بھی اسی کھلے دل کے ساتھ ممکن بنائی جائے۔ تاکہ بچوں کے سوچنے کا زاویہ اور دائرہ کار وسیع ہو سکے۔
جیسا کہ آج کا دور ٹیکنالوجی کا ہے بچوں کو ایسی وڈیوز اور دستاویزی فلمیں دکھائیں جو ان کے علم اور معلومات میں اضافہ کر سکیں۔ بچوں کی شخصیت نکھارنے اور ان میں اعتماد پیدا کرنے کے لئے ان کو غیر نصابی سرگرمیوں میں ضرور حصہ دلوائیں لیکن ان کی تربیت کا یہ حصہ بنائیں کہ ہار اور جیت کھیل کا حصہ ہیں۔ جیتنے والے کے لئے اٹھ کر دل سے تالیاں بجائیں دل میں نفرت اور کدورت کو جگہ نہ دیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہمت و حوصلہ ہارنے کی بجائے اپنی خامیوں کو تلاش کر کے ان میں بہتری لے کر آئیں۔ جب بچے مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں تو ان کی دلچسپی اور رجحان کا اندازہ ہوتا ہے تو ہم بطور والدین ان خاص صلاحیتوں پر کام کر کے ’ان میں نکھار لا کر بچوں کو کامیابی کا زینہ چڑھنے میں ان کی مدد کر سکتے ہیں۔
مقابلے کے اس دور میں بچوں پر معمولی سی توجہ ان کی شخصیت میں واضح تبدیلی لا سکتی ہے کیونکہ آج کے بچے بہت ذہین ہیں بس ان کو والدین کی طرف سے توجہ اور صحیح سمت میں تربیت و راہنمائی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے اہداف کی طرف قدم بہ قدم پیش قدمی کر سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو صحیح اور غلط ’سچ اور جھوٹ میں فرق سکھائیں۔ غلط بیانی‘ جھوٹ ’فریب‘ مکاری ’لڑائی اور جھگڑا نہیں بلکہ تحمل مزاجی‘ صبر ’استقامت‘ محبت و رغبت ’صلہ رحمی کی بچپن سے ہی تعلیم دیں۔ ان کو ڈرا دھمکا کر نہیں بلکہ پیار و محبت کے ساتھ دین اسلام کی روشنی میں سکھائیں۔ ان کو سلیقے سے پیغمبروں‘ نبیوں اور کامیاب لوگوں کی مثالیں دے کر اور خود عمل کر کے سمجھائیں۔ دوسروں کو عزت دینا اور ان کے حقوق کا خیال رکھنا بتائیں۔
جب ہم اپنے بچوں کی پہلے دن سے صحیح طرز پر تربیت کریں گے تو ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ بچہ بڑا ہو کر بے راہ روی کا شکار ہو۔ کسی عورت پر بری نظر ڈالے ’چوری و ڈاکا ڈالے یا کوئی اور جرم کرے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ کسی کے خون کا پیاسا ہو اور معمولی جائیداد اور کاغذ کے چند ٹکڑوں کے لئے اپنے ہی خون کا قتل عام کرے‘ اپنے بوڑھے ماں اور باپ کو در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑ دے ’اپنی ہی بہن کا حصہ بٹور جائے یا کسی بھی قسم کی زیادتی کرے۔ کیونکہ اس بچے کی رگوں میں آپ کا خون دوڑ رہا ہے اور وہ تربیت ہے جو آپ نے اس کی کی اور جیسا آپ نے اس کو بنانا چاہا۔
ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمارے بچے روبوٹ نہیں ہیں جو ویسا ہی کریں گے جیسا ہم چاہتے ہیں یا ویسا بنیں گے جیسا ہم ان کو بنانا چاہتے ہیں اپنے اندر لچک پیدا کریں ان کی بات اور احساسات کو سمجھیں ان کی سطح پر آ کر سوچیں کہ وہ کیا چاہ رہے ہیں۔ ان کی کی گئی غلطیوں پر سزا دینے کی بجائے ان کو پیار سے سمجھائیں کیونکہ ہم بحیثیت انسان اپنے تجربات سے سیکھتے ہیں اور غلطیاں ہماری بہت بڑی استاد ہوتی ہیں۔ لہذا بچوں کو جو وہ کرنا چاہتے ہیں کرنے دیں بس ان کے پیچھے کھڑے ہو جائیں تاکہ وہ غلط راہ کے راہی نہ بنیں۔
بچے کا دماغ ایک کورے کاغذ اور خالی سلیٹ کی طرح ہوتا ہے لہذا اس کی تربیت اس انداز سے کریں کہ وہ کورا کاغذ پھولوں سے بھر جائے اور جس کی خوشبو سے پورا زمانہ مہک اٹھے۔
وقت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کی بہتر پرورش کے لئے خود کو اور اپنی سوچ کو بدلیں اور وہ کام کریں جس سے ہمارا اور ہمارے بچوں کا مستقبل نہ صرف سنور جائے بلکہ محفوظ ہو جائے اور ہم ان کی اعلی تربیت کر کے سرخرو ہو سکیں۔


