کیا انڈیا کی طبی صنعت میں ڈرون کا استعمال اس شعبے کی کایا پلٹ سکتا ہے؟


ڈرونز
انڈیا میں ڈرون ٹیکنالوجی کو طبی صنعت میں گیم چینجر سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اسے دور دراز علاقوں تک صحت کی دیکھ بھال کو قابل رسائی بنانے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انڈیا نے گذشتہ سال ڈرون سے متعلق قوانین میں نرمی لائی اور اس کے بعد سے کچھ آپریٹرز نے کامیاب آزمائشی پروازیں چلائیں۔

رواں ماہ کی ابتدا میں خون کے نمونے لے جانے والے ایک ڈرون نے ملک کی شمالی ریاست اتر پردیش کے میرت شہر سے اڑان بھری اور تقریباً 72 کلومیٹر (44 میل) کا فاصلہ طے کر کے انڈین دارالحکومت نئی دہلی کے نواحی علاقے نوئیڈا تک پہنچا۔

اسے اس سفر میں ایک گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت لگا اور وہ بھی اس لیے کہ راستے میں ایک جگہ اس کی بیٹری بدلنا تھی جبکہ بذریعہ سڑک اسی سفر میں دو گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگتا ہے۔

بغیر پائلٹ کے فضائی نظام کا استعمال کرتے ہوئے یہ کئی تجربوں میں سے ایک تھا جسے انڈیا میں ڈرون تیار کرنے والی کئی کمپنیاں تجرباتی طور پر چلا رہی ہیں تاکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ با آسانی طبی سہولیات، جانچ کے نمونے، یہاں تک کہ خون کے یونٹس بھی روانہ کیے جا سکیں۔

ڈرون لاجسٹک کمپنی سکائی ایئر موبیلیٹی نے اس ڈرون کو تیار کیا ہے جسے نوئیڈا تک سامان پہنچانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ انھوں نے نومبر سے لے کر اب تک ایک ہزار سے زیادہ پروازیں کی ہیں اور 3,500 کلوگرام سے زیادہ مختلف قسم کے سامان فراہم کیے ہیں، جس میں ای کامرس ڈیلیوری سے لے کر خون کے نمونوں کی فراہمی بھی شامل ہے۔

سکائی ایئر موبیلیٹی کے چیف ایگزیکٹو انکت کمار کہتے ہیں کہ ’ہم نے پروازوں سے جو اعدادوشمار جمع کیے، اس کی بنیاد پر ہم نے روایتی ذرائع استعمال کرنے میں لگنے والے وقت کو تقریباً 48 فیصد تک کم کر دیا۔‘

پولیس نے ڈرونز کا استعمال نگرانی کے لیے کیا ہے

پولیس نے ڈرون کا استعمال نگرانی کے لیے کیا ہے

اس ڈرون کمپنی نے دلی کے مضافاتی علاقے گڑگاؤں میں بھی ایک آزمائشی پرواز کی، جس میں انڈیا کی سب سے بڑی جانچ کرنے والی کمپنی ’ایس آر ایل ڈائیگنوسٹک‘ کے لیے ایسے ہی مختلف نوعیت کے سامان پہنچائے گئے۔

نمونے پہلے لیبارٹری کے ماہرین نے جمع کیے اور پھر ڈرون سے منسلک درجہ حرارت کو کنٹرول میں رکھنے والے کیریئر میں پیک کیے گئے۔ اس کے بعد اسے ایک پرائیویٹ ہسپتال سے لیب سینٹر لے جایا گیا، جہاں اسے لیب کے ماہرین نے وصول کیا۔

اس کام میں مجموعی طور پر سڑک کے ذریعے لگنے والے وقت کا تقریباً ایک تہائی وقت لگا۔

ایس ایل آر ڈائیگنوسٹک کے چیف ایگزیکٹو آنند کے کا کہنا ہے کہ ’اس عمل سے سیمپل پروسیسنگ کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی جس کے نتیجے میں لیب کا کام مؤثر انداز میں ہو گا، اس کے ساتھ ہی ان مریضوں کو فائدہ پہنچے گا جو اہم نتائج کی تیز تر فراہمی چاہتے ہیں۔‘

تاہم صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی صرف چند تجربات ہوئے ہیں جن سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ صحت کی دیکھ بھال میں ڈرون کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انڈیا کے مغربی شہر پونے میں قائم ’کے ای ایم ہسپتال‘ اور ریسرچ سینٹر میں بایئو ٹیکنالوجی اور صحت عامہ کی محقق روتوجا پاٹل کا کہنا ہے کہ ’مجموعی طور پر سب سے اہم سوال لاگت کا ہے۔ یہ ابھی تک صرف اس وجہ سے مؤثر نہیں کیونکہ یہ ابھی آزمائشی مرحلے میں ہے۔ اس سلسلے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔‘

روتوجا پاٹل نے پچھلے سال صحت عامہ کے ایک پروجیکٹ کی قیادت کی جس میں مغربی ریاست مہاراشٹر کے دیہی علاقوں میں کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز تک ضروری طبی اشیا پہنچانے کے لیے بیٹری سے چلنے والے ڈرون کا استعمال کیا گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس ٹیکنالوجی کی لاگت کو کم کرنے کے لیے اسے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ویکسین یا دوائیں جنھیں دو ڈگری سینٹی گریڈ سے آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ تک اور بعض اوقات منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک رکھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا، ایک بڑا چیلنج ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

دشوارگزار علاقے میں ڈرون کے ذریعے ویکیسن کی ڈیلیوری

سویڈن میں ڈرون طیارے نے ہارٹ اٹیک کے دوران ایک شخص کو بچا لیا

ڈرون نے ڈوبتے لڑکوں کو کیسے بچایا؟

انڈیا میں ڈرونز کا استعمال آفات سے نمٹنے اور بچاؤ کے کاموں کے لیے کیا جاتا ہے۔ اتر پردیش نے ہندوؤں کے مقدس کمبھ میلے کی نگرانی کے لیے بھی ڈرونز کا استعمال کیا۔

واضح رہے کہ کمبھ میلے کو دنیا کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع کہا جاتا ہے۔

ان ڈرونز کا استعمال کووڈ ویکسین کو شمال مشرقی انڈیا کے پہاڑی علاقوں کے دور دراز دیہاتوں تک پہنچانے کے لیے بھی کیا گیا۔

تاہم ڈرونز کا پرواز بھرنا اتنا آسان بھی نہیں رہا۔ ڈرونز کی پرواز میں بہت زیادہ قانونی پیچیدگیاں اور کاغذی کارروائياں ہیں جبکہ اس کے لیے لائسنس کی بھی ضرورت ہے۔

گذشتہ سال اگست میں انڈین حکومت نے قواعد و ضوابط میں نرمی اختیار کی اور تجارتی ڈرون چلانے کے لیے لائسنس کی مد میں ادا کی جانے والی فیس میں کمی بھی کی۔

حکومت نے ملک کی فضائی حدود کا نقشہ بھی تیار کیا ہے جسے تین زون میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان کی سبز، پیلے اور سرخ رنگ کے لحاظ سے نشاندہی کی گئی ہے، جس کا مطلب یہ واضح کرنا ہے کہ ڈرون آپریٹرز کہاں پرواز کر سکتے ہیں اور کہاں نہیں۔

سب سے اہم تبدیلی یہ لائی گئی ہے کہ گرین زون میں سطح سمندر سے زیادہ سے زیادہ 400 فٹ کی اونچائی تک ڈرون چلانے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں رہی۔

مائیکرو اور نینو ڈرونز کے لیے لائسنس کی قید ختم کر دی گئی ہے۔ نینو ڈرون بغیر پائلٹ کے فضائی نظام ہیں، جن کا وزن 250 گرام تک ہوتا ہے اور مائیکرو ڈرون کا وزن دو کلو گرام تک ہوتا ہے۔

انڈیا میں ہوا بازی کی وزارت کا کہنا ہے کہ ڈرون خدمات کی صنعت میں 300 ارب روپے (تین ارب 90 کروڑ امریکی ڈالر) سے زیادہ ترقی کی توقع ہے اور اگلے تین سال میں اس کی وجہ سے دس ہزار سے زیادہ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24054 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments