ادھر ادھر سے

گزشتہ دنوں میں نے اپنے فیس بک پیج پر ایک مختصر پوسٹ کی، لکھا تھا۔ وفاقی وزرا کو اپنی توانائیاں بھر پور توجہ کے ساتھ اپنی اپنی وزارت پر صرف کرنے کی ضرورت ہے، عمران خان کو گالیاں دینے سے عوام کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ عمران خان کو جوابات دینے کا کام وزیر اطلاعات پر چھوڑ دے۔ ورنہ آپ لوگوں میں اور عمران حکومت میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ سابقہ حکومت سابقہ حکومت کا رٹ اب ختم ہونا چاہیے۔ آپ لوگوں کو انتخابات میں کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ لینا ہو گا۔ اگر لعن طعن اور گالیوں پر کامیابی ملنے کا ارادہ ہے تو پھر فوری انتخابات کروائے۔ یا کارکردگی دکھائے۔ اس پوسٹ کو معروف کالم نگار اور سینئیر صحافی جناب فخر کاکا خیل نے اپنے وال پر دوبارہ شیئر کر کے اس پر یہ تبصرہ کیا۔
محترم شمس مومند صاحب نے یہ پوسٹ کی ہے اور اس وقت ملک کے تمام سنجیدہ صحافی اس بات پر متفق ہیں کہ تحریک انصاف پر لعن طعن سے کچھ نہیں ہو گا اس حکومت کو کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے۔ 2014 ء میں افغانستان کے اندر امریکی افواج نے ایک ریسرچ کی۔ اس ریسرچ میں معلوم ہوا کہ طالبان کے خلاف لڑتے لڑتے خود طالبان کی جنگی صلاحیت میں اضافہ ہو چکا ہے اور ایک لحاظ سے لڑتے لڑتے امریکی افواج اب طالبان کے برابر آ چکی ہیں۔ یہاں تک کہ ڈرون حملوں سے بچنے کے لیے باقاعدہ ایک گائیڈ بک تقسیم کی گئی۔ مطلب ان کے آپریشنز اور حکمت عملی سمیت ہتھیاروں کی ساخت اور صلاحیتوں کے بارے میں طالبان کو لڑتے لڑتے پتا لگ گیا۔ اس لیے افواج کا افغانستان میں ہونے سے فائدہ کوئی نہیں البتہ نقصان ضرور ہو رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک دشمن کے ساتھ طویل وقت تک لڑتے لڑتے آپ اس سطح پر آ جاتے ہیں جہاں آپ کا دشمن خود موجود ہوتا ہے۔
گویا دشمنی کے کلچر کے بھی اثرات ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف نے جو کلچر متعارف کروایا ہے وہ آہستہ آہستہ بیوروکریسی، صحافت اور سیاست میں سرایت کر چکا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کے مشاہدے میں یہ بات ہو گی یا نہیں لیکن میں نے دیکھا ہے کہ تحریک انصاف کے ناقدین یا مخالف بھی بالکل تحریک انصاف کا وتیرہ اپنا چکے ہیں۔ اچھے بھلے سیاستدان، صحافی اور بیوروکریٹ بات چیت اور طرزعمل میں تحریک انصاف کے نمائندے لگنے لگے ہیں۔
اگر آپ ان کے پس منظر سے واقف نہ ہوں تو آپ اسے تحریک انصاف کا رکن ہی سمجھیں گے۔ اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے اپنے قائدین کو ”ہیرو“ کی شکل میں ”فین“ بن کر پوجنا شروع کر دیا ہے۔ آپ کہیں یہ ٹھیک نہیں آگے سے کہتے ہیں ”عمران نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ اب واپس بحال کیا جاسکتا ہے اگر کیا جاسکتا ہے تو کیسے؟
فخر کاکاخیل کے اس تفصیلی اور دانشورانہ سوال کے جوب میں عرض یہ ہے کہ اس کو انڈو کرنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے کیونکہ مرض کا علاج اس وقت ممکن ہوتا ہے کہ جب اس کی تشخیص ہو جائے اور مریض بھی علاج کرنے کے لئے راضی ہو۔ یہاں پر ایک تو مریض ( زیادہ تر عوام ) خود کو مریض سمجھتے ہی نہیں جو لوگ یہ سمجھتے بھی ہیں کہ ہاں ان کو علاج ( علم آگہی اور شعور) کی ضرورت ہے تو وہ اپنی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کروانا چاہتے ہیں بقول شاعر کہ۔ میر کیا سادہ ہے بیمار ہوئے جس کے سبب، اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔ یعنی ہم مرض کی تشخیص اور اس کا علاج ڈاکٹر سے کرنے کی بجائے اس دور میں کسی مسیحا سے کرنے کے آرزو مند ہیں۔
تشخیص کے بعد دوسرا مرحلہ پوری توجہ اور پابندی کے ساتھ کسی ماہر ڈاکٹر سے علاج کا ہوتا ہے یہاں بد قسمتی سے ہر ڈاکٹر نیم حکیم خطرہ جان ہے یعنی ہمارے سیاسی رہنما ابھی تک ملک و قوم کو کامیابی کا رستہ ہی نہیں دکھا سکے۔ پوری قوم کو اپنی منزل مقصود کا یقین ہی نہیں دلا سکے۔ اس لئے ایسی صورتحال میں جب مریض کو اپنے ڈاکٹر پر اعتماد نہیں اور ڈاکٹر مریض کی تشخیص و علاج میں گومگو کے شکار ہیں۔ تو معاشرے کو سدھارنا بچوں کا کھیل نہیں۔ اس لئے ہمیں زیادہ خوش فہم ہونے کی ضرورت نہیں۔ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

