شنگھائی میں لاک ڈاؤن کے دوران گھروں تک سامان پہنچانے والے بے گھر افراد کی کہانی


سخت لاک ڈاؤن کے دوران چین کے شہر شنگھائی کی ڈھائی کروڑ آبادی کی اکثریت گھروں پر خوراک اور دیگر اشیا پہنچانے والے ڈیلیوری رائڈرز پر مسلسل انحصار کر رہی ہے۔ تاہم یہ نظر نہ آنے والی 20 ہزار افراد پر مشتمل ورک فورس خود سر پر چھت اور تحفظ کی کمی کا شکار ہے۔ ایسے ہی دو ڈیلیوری رائڈرز نے اپنی کہانیاں بی بی سی کو سنائی ہیں۔


میں بہت مصروف ہوں۔ بہت سے لوگوں کو سامان کی ضرورت ہے۔ میں سارا دن لوگوں کو سامان پہنچاتا رہتا ہوں اور جب رات آتی ہے تو میں کسی ایسی جگہ کو تلاش کرتا ہوں جہاں میں سو سکوں۔

میں اپنے اپارٹمنٹ سے آٹھ اپریل کو نکلا تھا اور اب تک واپس نہیں جا سکا ہوں۔ شنگھائی کی حکومت کی جانب سے ڈیلیوری والوں کو اپنے رہائشی کمپاؤنڈز سے نکلنے اور واپس جانے کی اجازت ہے۔

تاہم کمپاؤنڈز کی انتظامیہ کی اپنی پالیسیاں بھی ہیں جن کے تحت زیادہ تر کمپاؤنڈز میں ڈیلیوری رائڈرز کو اپنے گھروں کو واپس آنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں ہوٹل تو ضرور ہیں لیکن اکثر ہوٹل ہمارے لیے کھلے نہیں ہوتے۔

میرے کمپاؤنڈ کے سامنے ٹینٹ لگے ہوئے ہیں۔ آپ کو معلوم ہی ہے کہ نیلے رنگ کے ٹینٹ جو کووڈ ٹیسٹنگ کے لیے لگائے گئے ہیں۔ جب میں سامان کی ڈیلیوری کے لیے نکلتا ہوں تو کمپاؤنڈ کے مینیجرز مجھ سے اپنے لیے سامان خریدنے کے سلسلے میں مدد مانگتے ہیں اور بدلے میں مجھے نیلے ٹینٹ میں رات کو سونے کی سہولت کی پیشکش کرتے ہیں۔ میں اپنا سارا سامان وہیں چھوڑ دیتا ہوں۔

لیکن ایک دن وہ ٹینٹ وہاں سے ہٹا دیا گیا اور میرا سارا سامان بھی غائب ہو گیا۔ مینیجرز کا کہنا تھا کہ اس میں ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ وہاں موجود سکیورٹی گارڈز کا بھی کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ سامان کہاں گیا۔

مجھے سونے کے لیے ایک نئی جگہ تلاش کرنا پڑی۔ اس موقع پر جو حل ہم ڈیلیوری رائڈرز کے ذہن میں سب سے پہلے آتا ہے وہ کسی پُل کے نیچے سونا ہے۔ وہاں آپ تیز ہوا اور بارش سے بچ سکتے ہیں۔ عام طور پر میں اتنا تھکا ہوا ہوتا ہوں کہ لیٹتے ہی سو جاتا ہوں۔

ایک روز میں موسم کا حال دیکھنا بھول گیا۔ اس روز شدید بارش ہوئی اور پُل کے نیچے پہلے ہی اتنے لوگ پہنچ چکے تھے کہ کوئی جگہ باقی نہیں رہی تھی۔

مجھے سونے کے لیے ایک ایسا کمرہ مل گیا جو اے ٹی ایم مشین کے لیے بنایا گیا تھا۔ وہ اچھی جگہ تھی جس میں کوئی دوسرا نہیں تھا۔ مجھے صرف یہ خدشہ تھا کہ کہیں پولیس نہ آ جائے اور مجھے وہاں سے نکال دے۔

دو راتیں وہاں گزارنے کے بعد ایک روز رات تقریباً دو بجے پولیس آ گئی اور مجھے وہاں سے نکال دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے بے گھر لوگوں کے لیے بنائی گئی رہائش گاہ میں جانا چاہیے۔ میں وہاں گیا لیکن وہ جگہ بند تھی، وہاں کوئی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ سکیورٹی گارڈ بھی نہیں تھے۔

شروع میں تو میں فوری طور پر تیار ہو جانے والے خشک نوڈلز کھا کر گزارا کرتا رہا۔ بعد میں ڈیلیوری رائڈرز کے ایک گروپ نے ایک ایسے ریستوران کا پتا لگا لیا جو خفیہ طور پر کھلا رہتا تھا اور ہم وہاں جا کر کھانا خرید لیتے تھے۔

پولیس کو معلوم ہوتا ہے لیکن وہ عام طور پر جان بوجھ کر آنکھیں بند رکھتی ہے۔ کچھ دکانوں کے پاس باہر بھی جگہ ہوتی ہے جہاں ہم چپکے سے اپنے موبائل فون چارج کر لیتے ہیں۔

یہ اطلاعات بھی تھیں کہ ایک ڈیلیوری رائڈر سڑک پر ایک حادثے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ یقیناً مجھے بھی تشویش تھی کہ کہیں میرے ساتھ بھی ایسا نہ ہو جائے، لیکن میں بہت احتیاط کرتا ہوں۔

میں ہمیشہ بہت آہستہ سفر کرتا ہوں۔ اگر کسی دور دراز علاقے میں مجھے حادثہ پیش آئے تو بہت مشکل ہو جائے گی۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایسے علاقوں میں اگر آپ کی سکوٹر خراب ہو جائے اور وہاں اسے ٹھیک کرنے کے لیے کوئی جگہ نہ ہو تو آپ اپنی نوکری جاری نہیں رکھ سکتے۔

اکثر لوگ یہ خبریں دیکھتے ہیں کہ ڈیلیوری رائڈرز ایک دن میں 10 ہزار یان تک کما سکتے ہیں۔ کئی لوگ مجھ سے بھی پوچھ چکے ہیں کہ ایک ڈیلیوری رائڈر کیسے بنا جاتا ہے۔ عام طور پر میرا مشورہ تو یہی ہوتا ہے کہ نہ بنو۔

شنگھائی میں ایک ڈیلیوری رائڈر کی حیثیت سے ہماری آمدنی کافی بہتر ہے۔ تاہم زیادہ تر ڈیلیوری رائڈر ایک دن میں چند سو یان ہی کما پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر کوئی اتنی سخت محنت اور حالات برداشت بھی نہیں کر سکتا۔

لیکن اگر ہم یہ کام نہ کرتے تو لاک ڈاؤن کے دوران ہماری آمدنی کچھ بھی نہ ہوتی۔ یہ حقیقت کافی ذہنی دباؤ کا باعث ہے۔

شنگھائی

میں آنہوئی صوبے میں سنہ 1999 میں پیدا ہوا۔ ہائی سکول سے پڑھائی مکمل کرنے کے بعد مجھے کسی اچھی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں مل سکا۔ میرے خاندان کے لیے ٹیوشن فیس بہت زیادہ تھی۔ میں نوجوان تھا اور مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے۔

میری والدہ نے کہا کہ میں شنگھائی میں اپنے کزن کے ساتھ کام کروں۔ اس طرح مجھے کم از کم ایسے حالات کا سامنا تو نہیں کرنا پڑے گا کہ سونے کی جگہ ہو نہ کھانا ہو۔

لہٰذا میں شنگھائی چلا آیا اور اپنے کزن کے ساتھ کمپیوٹر کی فروخت کا کام کرنے لگا۔ یہ کام دو سال تک جاری رہا۔ اس کے بعد کووڈ کی وبا کے باعث کاروبار ٹھپ ہو گیا تو میں کوئی دوسرا کام ڈھونڈنے لگا۔

اس وقت میرے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں تھی تو میں نے ایک دوسرے ڈیلیوری رائڈر کے ساتھ مل کر ایک جگہ کرائے پر لے لی۔

اس کی آمدنی بظاہر اچھی لگی تو میں نے بھی اس سے درخواست کی کہ بھائی ڈیلیوری رائڈر بننے میں میری مدد کرو۔ اس طرح تقریباً چھ مہینے قبل میں بھی ڈیلیوری رائڈر بن گیا۔

لوگوں نے مجھے کہا تھا کہ شنگھائی ایک جدید شہر ہے جو میرے آبائی قصبے سے بہتر ہے۔ تاہم اب میرے گھر والے تک مجھے کہتے ہیں کہ واپس آ جاؤ۔ انھیں بھی یہاں کے حالات کے بارے میں معلوم ہو چکا ہے۔

لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ میں یہاں بھوکا مر رہا ہوں۔ میں ایک دیہی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں اور جب میں بچہ تھا تو گائے کے باڑے میں بھی سوتا رہا ہوں۔ میں یہاں بھی گزارا کر لوں گا۔


میں ایک آرڈر پر ساڑھے چار یان کمایا کرتا تھا۔ لیکن اب میں یہ آرڈر نہیں لیتا۔ کوئی بھی نہیں لیتا کیونکہ یہ بہت کم ہے۔ آج کل میں چیٹ گروپس کے ذریعے اپنے صارفین سے نجی طور پر آرڈرز لیتا ہوں۔ اب میں ایک دن میں ہزار یان تک کما سکتا ہوں۔

شنگھائی

شنگھائی میں مختلف رہائشی کمپاؤنڈز میں رہنے والے خاندان مل کر کھانے پینے کی اشیا خریدتے ہیں۔

میں بڑے بڑے رہائشی کمپاؤنڈز کو دیکھتا ہوں جہاں لوگ گروپس میں کھانا خریدتے ہیں لیکن ایسے چھوٹے کمپاؤنڈز جہاں صرف چند درجن لوگ رہتے ہیں کمائی کے لیے مناسب نہیں ہیں۔

آج کل ڈیلیوری کے لیے صارفین کو ڈھونڈنا بہت مشکل کام ہے۔ سامان منگوانا بھی ایک مشکل کام ہے خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ گروپ کی شکل میں سامان کیسے آرڈر کیا جاتا ہے۔

ایسے آرڈرز جن میں خوراک کی مقدار کم ہے وہ اب نہیں پہنچائے جاتے۔ پھل والے اب ایک ایک پھل نہیں بیچتے۔ آپ کو زیادہ مقدار میں منگوانا پڑتا ہے۔

اگر کسی کو 20 یان مالیت کی سبزیاں منگوانی ہیں تو میں ان کی تلاش میں آدھا دن لگا دوں گا پھر بھی مجھے کچھ نہیں ملے گا۔ سبزیوں کے صرف بڑے بڑے پیکیج دستیاب ہیں جن میں ایک کی قیمت 100 یان ہے۔

اب ہمارے پاس کھانا ہے نہ پانی اور ہم سڑکوں پر سونے پر مجبور ہیں۔

میں ان ہی حالات سے دوچار کم از کم 40 ڈیلیوری رائڈرز کو جانتا ہوں۔ ایسے ڈیلیوری رائڈرز بھی ہیں جو بڑی کمپنیوں کے لیے کام کرتے ہیں جو انھیں ہوٹل میں کمرے مہیا کرتی ہیں۔

تاہم ہمارے جیسے بھی ہیں جو صارفین سے آن لائن آرڈر لیتے ہیں اور مقامی حکومت نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا ہے۔ ہمیں رہنے کے لیے جگہ دلوانے میں کوئی مدد نہیں کی گئی ہے۔

مجھے اپنے رہائشی کمپاؤنڈ میں واپس آنے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تم سارا دن کام کے بعد اپنے ساتھ وائرس بھی لا سکتے ہو۔

اگر میرا ٹیسٹ منفی آئے تب بھی میں گھر واپس نہیں جا سکتا۔ میں اپنا ٹیسٹ کروانے کے لیے ہر روز ہسپتال جاتا ہوں۔ سب ڈیلیوری رائڈرز اسی طرح خوف زدہ رہتے ہیں۔

اسی لیے میں رات میں سونے کے لیے کوئی جگہ ڈھونڈتا ہوں۔ میرے پیروں سے شدید بدبو آتی ہے جسے آپ دور ہی سے محسوس کر سکتے ہیں۔ جب لاک ڈاؤن ختم ہو گا تو میں بھی آخر کار کبھی نہ کبھی نہا ہی لوں گا۔

میرے خاندان والے مجھے واپس آنے کا کہہ رہے ہیں۔ لیکن میں یہاں سے کیسے نکلوں؟

میں انتظار کر رہا ہوں کہ لاک ڈاؤن ختم ہو۔ اس کے بعد میں یہاں سے نکلوں گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کتنی دیر یہاں ٹھہر سکتا ہوں۔

میرے لیے شنگھائی برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔ ایک مرتبہ یہاں سے جانے کے بعد میں کبھی واپس نہیں آؤں گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25297 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments