انڈیا کی مسلم خواتین: ’جب ظلم بڑھے گا تو آوازیں اٹھیں گی اور خواتین کا آگے آنا لازمی ہے‘

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی


انڈیا کی انتخابی سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی کی زوال پذیری پر انڈیا کے کئی حلقوں میں بحث ہوتی رہی ہے لیکن اس بحث کے باوجود ملک کی پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں میں گذشتہ ایک عشرے میں مسلمانوں کی نمائندگی میں مسلسل کمی ہی آ رہی ہے۔

حکمراں بی جے پی تو پہلے ہی مرکز اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں گنے چنے مسلمانوں کو ہی امیدوار بناتی آئی ہے لیکن مسلمانوں کے خلاف ملک میں نفرت کی ایک لہر کے بعد اپوزیشن جماعتیں بھی اب انھیں ٹکٹ دینے اور اہم عہدوں پر مامور کرنے سے گریز کرنے لگی ہیں۔

انڈیا میں مسلمانوں کی جو روایتی سیاسی قیادت تھی وہ یا تو اپنا وقت پورا کر چکی ہے یا پھر اپنی افادیت کھو چکی ہے لیکن اس شدید دباؤ کے ماحول میں گذشتہ چند برس میں ملک میں نوجوان، تعلیم یافتہ، باشعور اور جمہوری اقداروں میں یقین رکھنے والے مسلمانوں کی ایک نئی قیادت ابھری ہے جن میں ایک بہت بڑی تعداد خواتین کی ہے۔

شہریت کے ترمیمی قانون سی اے اے کے خلاف ملک گیر تحریک میں آزاد انڈیا کی تاریخ میں پہلی بار لاکھوں مسلم خواتین نے نہ صرف حصہ لیا بلکہ اس کی قیادت کی اور جلسے جلوسوں اور مظاہروں کو منظم کیا۔ نوجوان خواتین سی اے اے مخالف تحریک تک محدود نہیں رہیں اور اب وہ انتخابی سیاست، جنسی مساوات، مساوی حقوق، انسانی حقوق اور ملک کے جمہوری آئین کے تحفظ پر بات کر رہی ہیں۔

چند ہفتے قبل کرناٹک میں حجاب پر پابندی کے حکومت کے فیصلے پر ہائی کورٹ کی توثیق کے بعد اوڑیپی شہر میں ایک نیوز کانفرنس ہوئی۔ اس نیوز کانفرنس سے ایک نوعمر طالبہ عالیہ اسدی نے خطاب کیا تھا۔ 17 برس کی عالیہ کے لیے نیوز کانفرنس کا یہ پہلا تجربہ تھا مگر انھوں نے سبھی مشکل سوالوں کے جواب انتہائی پراعتماد اور پختگی کے ساتھ دیے۔ عالیہ کو انڈیا کی مسلم خواتین میں بڑھتے ہوئے اعتماد اور ایک ابھرتی ہوئی قیادت کی عکاس قرار دیا جا سکتا ہے۔

ملک کے مختلف علاقوں میں جہاں مسلم خواتین بڑی تعداد میں انتخابی سیاست اور سماجی قیادت کے میدانوں میں ابھر رہی ہیں وہیں انھیں کئی طرح کی مخالفت کا بھی سامنا ہے۔ ان میں کئی کے خلاف فسادات بھڑکانے، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے جیسے مقدمات دائر کیے گئے اور کئی کو جیل بھی جانا پڑا ہے۔

تھیٹر اور فلم آرٹسٹ سے سماجی کارکن کا سفر طے کرنے والی صدف جعفر اترپردیش کے معروف مجاہد آزادی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ شہریت مخالف قانون کی تحریک کے دوران انھوں نے لکھنؤ میں دھرنوں اور مظاہروں کی قیادت کی اور اس تحریک کے دوران وہ جیل بھی گئیں اور سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد ہی انھیں ضمانت پر رہائی ملی۔

وہ کہتی ہیں ’جب ہمارے مردوں کو اٹھایا جا رہا ہے، راستے سے اٹھایا جا رہا ہے، دوا لینے جا رہے ہیں وہاں سے اٹھایا جا رہا ہے، ان پر ظلم کیا جا رہا ہے۔ جھوٹے مقدمے بنائے جا رہے ہیں تو عورتیں کریں تو کیا کریں۔ اگر وہ سڑک پر نہیں آئیں تو کیا کریں؟

’اگر آپ کا کلاس فیلو آپ کو کلاس میں جانے سے روکے، آپ کا حجاب نوچنے لگے، چیخنے لگے تو آپ کیا کریں گے؟ ہم نے تو طے نہیں کیا تھا کہ ہمیں لیڈر شپ چاہیے۔۔۔جب ظلم بڑھے گا تو آوازیں اٹھیں گی اور خواتین کا آگے آنا لازمی ہے۔‘

عشرت جہاں

عشرت جہاں

عشرت جہاں دلی کے شمال مشرقی علاقے سے میونپسل کونسلر منتخب ہوئی تھیں۔ انھیں سی اے اے مخالف تحریک کے دوران جب دلی کے فسادات بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کیا تو ان کی شادی ہونے والی تھی۔ وہ حال میں ضمانت پر رہا ہوئی ہیں۔

عشرت کا کہنا ہے ’لڑکیاں صرف سیاست اور سماجی شعبے میں ہی نہیں ہر میدان میں آگے آ رہی ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ہم سو نہیں رہے ہیں ہم بیدار ہیں۔‘

نائش حسین کا تعلق لکھنؤ سے ہے۔ وہ ایک طویل عرصے سے اترپردیش اور ملک کی دیگر ریاستوں میں خواتین کے مساوی حقوق کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔ ان کی تنظیم خواتین میں ان کے حقوق اور آئین کے تئیں بیداری پیدا کرنے کے لیے کام کرتی ہیں۔

نائش حسن کہتی ہیں کہ پورے ملک میں مسلم خواتین کے باہر نکلنے کا اثر یہ ہوا کہ دائیں بازو کی تنظیموں کو اندازہ ہو گیا کہ اس معاملے میں ہاتھ ڈالنے کے خطرے بہت ہیں۔

’ہر وہ جگہ جہاں عورت کے انسانی اور جمہوری حقوق کو کچلا گیا وہاں عورتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ خواتین کے ذریعے چلائی گئی ہر تحریک حقوق انسانی اور جمہوریت کے دائرے میں رہی۔ انھوں نے جب بھی قیادت سنبھالی اس سے جمہوریت، ملک اور مردوں کو فائدہ ملا ہے۔‘

ہاشمی بانو

یہ بھی پڑھیے

شاہین باغ پر فیصلہ: جیت کس کی ہوئی؟

شاہین باغ کی ’دادی بلقیس‘ مودی کے ساتھ دنیا کے 100 بااثر افراد میں شامل

انڈیا میں مسلمان خواتین کی انٹرنیٹ پر ’نیلامی‘

ہاشمی بانو اترپردیش کے شہر لکھنؤ کی ایک نوجوان کارپوریٹ وکیل ہیں۔ ان کی اپنی زندگی جدد وجہد سے بھرپور رہی ہے۔ وہ شہر کی ایک کچی بستی میں پیدا ہوئی۔ ان کے گھر والے کم عمری میں ان کی شادی کر دینا چاہتے تھے مگر انھوں نے اس کے خلاف آواز بلند کی اور نوعمری میں ایک مقامی این جی او کی مدد سے اپنی تعلیم جاری رکھی اور آج وہ ایک بڑے کارپوریٹ ہاؤس کی وکیل ہیں۔

ان کے خیال میں ملک کے حالات اور لڑکیوں میں بڑھتے ہوئے تعلیم کے رحجان کے سبب لڑکیوں میں گہری سیاسی اور معاشرتی آگہی پیدا ہوئی ہے۔

’برسوں سے جو دبانے کی کوشش ہو رہی تھی اب لڑکیاں اور خواتین اس سے نکل کر باہر آ رہی ہیں۔ کہیں نہ کہیں سے شروعات تو ہونی تھی۔ آج لڑکیاں بہت بیدار ہیں۔ جب سی اے اے اور این آر سی کی بات آئی تو خواتین کو ابتدائی طور پر یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ لڑ کس کے لیے رہی ہیں لیکن جب ہر طرف شاہین باغ بننے شروع ہوئے تو انھیں پتا چلا کہ وہ ایک ایسے حق کے لیے لڑ رہی ہیں جو انڈیا کا آئین انھیں دیتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں اپنے وقار کے لیے اپنی زندگی میں آگے بڑھنے اور اپنی شناخت بنائے رکھنے کے لیے ایک موثر لیڈرشپ کی ضرورت ہے۔‘

شہریت کے ترمیمی قانون سی اے اے کے خلاف ملک گیر تحریک میں آزاد انڈیا کی تاریخ میں پہلی بار لاکھوں مسلم خواتین نے نہ صرف حصہ لیا بلکہ اس کی قیادت کی اور جلسے جلوسوں اور مظاہروں کو منظم کیا۔ نوجوان خواتین کی یہ قیادت سی اے اے مخالف تحریک تک محدود نہیں رہی اب وہ انتخابی سیاست، جنسی مساوات، مساوی حقوق، انسانی حقوق اور ملک کے جمہوری آئین کے تحفظ کے لیے برسر پیکار ہے۔

کیا مسلم خواتین کی یہ نئی قیادت انڈیا کے مسلمانوں کی جانب سے اپنے وجود، اپنے حقوق اور اپنی شناخت کروانے کا مظہر اور مسلمانوں میں خواتین کو قیادت دینے کے بدلتے ہوئے رحجان کی عکاس ہے؟

اس بارے میں معروف تجزیہ کار ہرتوش سنگھ بل کہتے ہیں ’مسلمانوں کی روایتی قیادت کمپرومائزڈ تھی۔ ان کے ساتھ کیسے ڈیل کرنا ہے، انھیں کیسے سنبھالنا ہے یہ حکومت کو پتہ تھا۔ اس لیے خواتین کی لیڈر شپ جو فطری طور پر ابھر کر آئی اور جو ایکٹوزم کے پس منظر سے اٹھی ہے اور ہر معاملے میں ملوث ہو رہی ہے وہ حکومت کے لیے ایک مسئلہ بن گئی ہے۔ حکومت کے پاس جو نارمل ہتھکنڈے اور حربے ہیں وہ ان کے خلاف استعمال نہیں کیے جا سکتے اسی لیے حکومت کی پریشانی اور بھی بڑھ گئی ہے۔‘

تاہم ہرتوش کا یہ بھی کہنا ہے کہ خواتین کی قیادت کا جمہوری سیاست میں تغیر آسان نہیں ہو گا۔ حکومت ان کو پہلے ہی جیل میں ڈال رہی ہے تو یہ کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘آج ملک کے حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ مسلم لیڈرشپ کو بہت کم جگہوں پر غیر مسلم برادریوں کی حمایت مل پا رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے ہے اس قیادت کی اہمیت یہ ہے کہ وہ مسلم برادری کے اندر آواز دے گی اور کمیونٹی کے اندر سے خود کو منظم کر پائے گی۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24047 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments