عمران خان کے دکھ


سابق وزیراعظم عمران خان جو بڑے تضحیک آمیز انداز میں اقتدار سے نکال باہر کیے گئے۔ آج کل وہ شدید غصے اور رنج و غم کے عالم میں ہیں۔ ان کے انداز خطاب سے یہ بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ کہ وہ کتنی اذیت کاٹ رہے ہیں۔ وہ مختلف شہروں میں جلسوں سے خطاب کے دوران حکومت وقت اور اداروں پر کیچڑ اچھالتے پھر رہے ہیں۔ ان کا ہدف چیف الیکشن کمشنر بھی ہیں۔ اور فوج اور اعلیٰ عدلیہ بھی۔ 9 اپریل کی رات سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کی عدالت آمد خان صاحب کے لیے قیامت خیز خبر تھی۔ وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ کہ ان کی مشکیں اتنی بے دردی کے ساتھ کس دی جائیں گی۔ خان صاحب اپنی غیر متوقع برطرفی کو بھلا نہیں پا رہے۔

ان کا غصہ اور دکھ بالکل بجا ہے۔ کیوں کہ انہوں نے 2028 تک اقتدار میں رہنے کے لیے ہوم ورک کر رکھا تھا۔ جناب نجم سیٹھی فرماتے ہیں۔ کپتان نے فوج کی انٹیلیجنس ایجنسی کے سابق سربراہ کو آرمی چیف بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں دوسری مدت کے لیے ایکسٹنشن دینے کا وعدہ بھی دے رکھا تھا۔ اس کے بدلے 2023 اور 2028 کے الیکشن مینیج کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

بدقسمتی سے مگر ان کی پشاور پوسٹنگ نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ اور تمام منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ عمران خان کے ماضی کو اگر پرکھا جائے تو وہ سیاسی طور پر بالکل مضبوط نہیں ہیں۔ وہ ایک طاقت ور شخصیت کی مدد سے اقتدار میں آئے۔ انتخابات میں ان کے لیے آر ٹی ایس بند کیا گیا۔ اپوزیشن کے پولنگ ایجنٹس کو متعلقہ فارم پر رزلٹ بھی نہیں دیا گیا۔

بعد ازاں جہانگیر ترین نے حکومت سازی کے لیے بندے پورے کیے اور اس سلسلے میں بھاری رقوم بھی خرچ کیں۔ آج خان صاحب فرماتے ہیں۔ جہانگیر ترین چینی کمشن تفتیش میں اپنے لیے فیور چاہتے تھے۔ جب وہ رقوم پانی کی طرح بہا رہے تھے۔ اور اپنا جہاز اور لگژری گاڑی ان کے استعمال کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ اس وقت عمران خان کے اندر یہ سوچ پیدا کیوں نہیں ہوئی کہ جہانگیر ترین اس کے بدلے اپنے لیے کچھ فیور بھی مانگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کروڑوں روپوں کی رقم اس لیے تو خرچ نہیں کی تھی۔ کہ بعد میں ان کے خلاف نیب اور دوسرے تحقیقاتی اداروں کو لگا دیا جائے۔

2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کیسے برسراقتدار آئی یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اتحادی جماعتوں کو عمران خان کا ساتھ دینے پر مجبور کیا گیا۔ باوجود اس کے بعض اتحادی خان صاحب سے بڑے نالاں تھے۔ مگر اوپر سے دباؤ کی وجہ سے ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ تاوقتیکہ دباؤ ڈالنے والی اہم شخصیت کو ہٹا نہیں دیا گیا۔

عمران خان مستقبل میں کس طرح برسراقتدار آسکتے ہیں۔ کبھی انہوں نے اس بارے میں سوچ بچار کی ہے۔ جب کہ ان کے لیے نہ کوئی الیکشن میں جھرلو پھیرنے والا ہو گا۔ اور نہ ہی جہانگیر ترین جیسی سیاسی ساکھ والا بندہ ہو گا۔ جو جوڑ توڑ کی سیاست میں بڑی مہارت رکھتے ہیں۔ عمران خان کے ارد گرد جو لوگ ہیں نہ وہ ایک دھیلا خرچ کرنے کی شہرت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کا سیاسی قد کاٹھ ایسا ہے۔ کہ وہ تحریک انصاف کو اقتدار کے ایوان تک پہنچانے کے لیے جہانگیر ترین جیسا رول ادا کرسکیں۔

خان صاحب خود بھی اپنی جیب سے خرچ کرنے کے قائل نہیں ہیں۔ ان پر توشہ خانہ کے تحائف بیچنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بقول ان کے تحائف فروخت کر کے بنی گالہ کی سڑک بنائی گئی۔ موصوف کا یہ موقف انتہائی بودا اور شرمناک ہے۔ دنیا کے غریب سے غریب ملک کی طرف سے بھی تحفے بیچنے کی کوئی روایت نہیں ہے۔

اگر عمران خان کے ماضی پر نظر دوڑائی جائے۔ تو ان سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔ جب موصوف کرکٹ کے کھلاڑی تھے۔ بہت سے لوگ انہیں پیسے دیا کرتے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستانیوں سے بے تحاشہ چندہ بٹورا۔ دراصل ان کے خمیر میں صرف مانگنا تھا۔ لہذا عمران خان جیسا حکمران ہی توشہ خانہ کے تحائف پر ہاتھ صاف کر سکتا تھا۔ اس بات پر کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے۔

اس کے علاوہ وہ بذات خود ملنسار طبعیت کے مالک نہیں ہیں۔ انہیں کسی دوست ساتھی یا اتحادیوں کے ہاں جا کر تعزیت کرنے یا کسی بیمار کی تیمارداری کرنے کی بالکل عادت نہیں ہے۔ کیوں کہ انہیں خود پرست اور مغرور شخصیت کا مالک سمجھا جاتا ہے۔ جب عمران خان برسراقتدار آئے تھے۔ تو انہوں نے اپنی سہولت کار شخصیت کو واضح طور پر کہہ دیا تھا۔ کہ میں نہ کسی اتحادی جماعت کے پاس جاؤں گا۔ اور نہ ہی کسی دوسرے کی منت سماجت کروں گا۔ یہ محاذ آپ کو سنبھالنا پڑے گا۔ میرا کام حکومت کرنا اور اپوزیشن کی کردار کشی ہو گا۔

نومبر 2021 تک یہ انتظام چلتا رہا۔ اور راوی عمران خان کے لیے چین ہی چین لکھتا رہا۔ مگر ایسا کب تک چلتا۔ حکومت کی گورنس اور پرفارمنس بدترین درجے کو چھو رہی تھی۔ اس کے علاوہ پاکستان کے دوست ممالک عمران حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ناراض ہوچکے تھے۔ لہذا قومی سلامتی کا ادارہ نیوٹرل ہو گیا۔ جس کی وجہ سے عمران خان کا اقتدار دھڑام کے ساتھ گر گیا۔

انہیں کم از کم یہ بات تو سوچنی چاہیے تھی۔ کہ انٹیلیجنس ایجنسی کا سربراہ ان کی پارٹی کا عہدے دار تو نہیں ہوتا۔ کہ وہ ان کا اقتدار بچاتا پھرے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments