افغان مسئلہ کا معاشی حل، سی پیک میں شمولیت


اس بات میں معاشی ماہرین کے نزدیک کوئی دوسری رائے موجود نہیں ہے کہ سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جس کے مکمل ہونے سے نہ صرف چین اور پاکستان کے معاشی معاملات میں زبردست مثبت تبدیلیاں وقوع پذیر ہو گی بلکہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے ممالک بھی اس سے مستفید ہوں گے۔ کچھ عرصے قبل جب چینی وزیر خارجہ نے کابل کا دورہ کیا تو ان کی سی پیک کو افغانستان تک پھیلانے کے حوالے سے افغان طالبان کے وزیر خارجہ اور دیگر حکام سے بات چیت ہوئی جو کہ بہت مثبت رہیں۔ سی پیک میں افغانستان کی شمولیت کا واحد راستہ پاکستان سے ہو کر گزرتا ہے اس لیے اس پیشرفت میں پاکستان کے حوالے سے بھی مثبت خبر موجود ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اگر اس منصوبے پر پیش رفت کامیاب ہو گئی اور افغانستان، چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ بن گیا تو ایسی صورت میں درحقیقت افغانستان کی تعمیر نو بذریعہ سی پیک ہو گی اور افغانستان کو دوبارہ سے پھلنے پھولنے کا موقع میسر آ جائے گا۔

خیال رہے کہ افغانستان کی سی پیک میں شمولیت کا تصور افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے نہیں آیا ہے اور نہ ہی یہ کوئی نیا یا اچھوتا خیال ہے بلکہ اپریل 2018 میں چین، پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کی اس موضوع پر پہلی کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا اور اس کانفرنس میں چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ افغانستان سی پیک میں شمولیت اختیار کر لے اور پاکستان میں جاری بہت ساری منصوبوں کو افغانستان سے بھی جوڑ دیا جائے تاکہ سی پیک کا منصوبہ اپنی تمام افادیت کے ساتھ نہ صرف افغانستان میں داخل ہو بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی اس سے بہرہ مند ہونے کا موقع نصیب ہو۔

کیونکہ اگر وسط ایشیائی ریاستیں سی پیک کا حصہ بن جاتی ہیں تو ایسی صورت میں ان لینڈ لاک ریاستوں کو گوادر کی بندرگاہ اپنی درآمدات برآمدات کے حوالے سے استعمال کرنے کے لیے میسر ہوگی جس سے ان کی درآمدات برآمدات پر بہتر اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سلسلے میں وسطی ایشیائی ریاستوں کی دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ برس ازبکستان نے پاکستان میں اپنا ایک اعلی سطحی وفد بھیجا۔ اس وفد کی آمد کی وجہ یہ تھی کہ ازبکستان کے ماہرین یہ جاننا چاہتے تھے کہ اگر ازبکستان اپنی درآمدات برآمدات کے معاملات کو گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے کرنا شروع کردے تو ایسی صورت میں اس کو کس حد تک فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔

خیال رہے کہ ازبکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں میں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ دنیا میں کاٹن کا لیڈنگ ایکسپورٹر ملک ہے۔ لیکن وسط ایشیائی ریاستوں کی یہ خواہش کہ وہ گوادر کی بندرگاہ کو استعمال کریں تب ہی پوری ہو سکتی ہے جب افغانستان اس سلسلے میں آگے بڑھے اور سی پیک میں شمولیت اختیار کر لیں۔ سی پیک ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اس میں سنکیانگ سے گوادر تک ہائی وے، ریلوے لائنز، پائپ لائنز، آپٹیکل فائبر نیٹورک اور پاور پلانٹس شامل ہیں۔

اگر افغانستان اس منصوبے کا حصہ بن جاتا ہے تو ایسی صورت میں ہائی ویز اور دیگر ذرائع نقل و حمل کو افغانستان سے نہ صرف کے جوڑ دیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں ہائی ویز اور دیگر ضروری نقل و حمل کی سہولیات کا انفراسٹرکچر بنانے کے لیے کام شروع کر دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں بہت سارے ایسے منصوبے موجود ہیں جن پر معاشی ماہرین پیپر ورک کا آغاز کر چکے ہیں۔ مثال کے طور پر دونوں ممالک کو آپس میں ملانا اور تیز رفتار تجارت کے لئے پشاور سے کابل تک ہائی وے کا قیام شامل ہے تاکہ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی کوفت سے نجات مل سکے۔

اور ناصرف کے کوفت سے نجات مل سکے بلکہ افغان پروڈکٹس کی پاکستانی مارکیٹوں میں رسائی کو ممکن بنایا جا سکے اور اسی طرح پاکستانی مصنوعات افغانستان کے بازاروں میں باآسانی اور کم قیمت میں مہیا کی جا سکے تاکہ دونوں طرف سے غربت کو کم اور معیار زندگی کو بلند کیا جا سکے۔ صرف پشاور سے کابل تک ہائی وے کی تعمیر ہی نہیں ہوگی بلکہ اس ہائی وے کے راستے میں اور افغانستان کے اندر دیگر مقامات پر بڑے پیمانے پر بائی پاسز کا قیام بھی ممکن ہو گا اور اس طرح یہ بھی منصوبہ ہے کہ اگر افغانستان ساتھ شامل ہو جاتا ہے تو ایسی صورت میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں جو ایک دوسرے کے لئے رسائی کے حوالے سے بہت آسان اور محفوظ ہو انڈسٹریل پارکس قائم کیے جائے تاکہ دونوں ممالک کی انڈسٹری کو مشترکہ طور پر پھلنے پھولنے اور آگے بڑھنے اور ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے کا موقع میسر آ سکے۔

اس طرح ان انڈسٹریل پاس کے ساتھ ساتھ پروسیسنگ ایریاز کا قیام بھی عمل میں لایا جا سکے۔ یہ تمام مقاصد صرف اسی وقت حاصل ہو سکے گیں اگر افغانستان میں توانائی وافر مقدار میں موجود ہو اور کسی قسم کا کوئی بھی توانائی کا بحران ان اقدامات کو نقصان پہنچانے کا باعث نہ بن سکتا ہو۔ اس لیے یہ بھی واضح ہے کہ اگر افغانستان، پاکستان چین اقتصادی راہداری میں شامل ہو گیا تو افغانستان میں بڑے پیمانے پر الیکٹریسٹی پلانٹس لگانے کے کام پر ہنگامی بنیادوں پر آغاز کر دیا جائے گا اور اس کے ساتھ ہی واٹر ایریگیشن چینلز کو بہتر کرنا وقت کی ضرورت ہوگی جو کہ کی جائے گی۔

افغانستان میں ایک بہت بڑے پیمانے پر معدنی ذخائر موجود ہے اس معدنی دولت کو افغانستان کی عوام کی زندگی کو بہتر کرنے کی غرض سے بروئے کار لانا وقت کی ضرورت ہے مثال کے طور پر کاپر کے ذخائر، کول، لیتھیم اور نایاب منرلز کا ایک خزانہ وہاں موجود ہیں جو کہ افغان عوام کو غربت کی نجاست سے نجات دلا سکتا ہے اور یہ تمام ذخائر سی پیک میں شامل ہونے کے بعد افغانستان کو استعمال کرنے میں بہت آسانی ہو سکتی ہے کیونکہ اس حوالے سے بہت سارے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ یہ ایک نوشتہ دیوار ہے اور اس بات سے انکار ممکن ہی نہیں ہے کہ افغانستان کی معاشی بحالی اب سی پیک کے ساتھ منسلک ہونے سے وابستہ ہے اور پاکستان کو بھی اسی صورت میں افغان مہاجرین اور افغانستان کی بری معاشی صورتحال کی بساط سے باہر نکلنے کا موقع میسر آ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS