عدل کا دہرا معیار

عدل و انصاف کسی بھی معاشرے کی بقاء، استحکام اور ترقی کے لئے لازمی جز ہے۔ جن معاشروں میں عدل و انصاف ناپید ہو جائے، وہ معاشرہ پھر انتشار اور تنزلی کی طرف بڑھنے لگ جاتا ہے، اور یوں تباہی و بربادی ان معاشروں کا مقدر بن جاتا ہے۔
پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 10 کے مطابق حصول انصاف ہر شہری کا۔ بنیادی حق ہے۔ مگر بدقسمتی سے دوسرے تمام حقوق کی طرح عام پاکستانی اس حقوق سے بھی محروم ہیں۔
جب بھی کسی شہری کی حق تلفی ہوتی ہے، تو وہ داد رسی کے لئے عدالت کی طرف دیکھتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے عدالتوں کے پاس کسی عام آدمی کی داد رسی کے لئے وقت ہی نہیں۔ عام آدمی کے لئے ہمارے ہاں موت سستی ہے جبکہ انصاف مہنگی۔
ہمارے نظام عدل کا دہرا معیار دیکھیں معاملہ اگر با اثر اور صاحب اقتدار لوگوں کا ہو تو ریاست کی پوری مشینری متحرک ہوجاتی ہے۔ انصاف کے پہرے دار راتوں کی نیند قربان کر کے حرکت میں آجاتی ہے اور آدھی رات کو عدالت لگا دیتے ہیں، چھٹیوں کے دن بھی انصاف کی فراہمی کے لئے عدالتیں کھل جاتی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف لاکھوں عام لوگوں کی شکایتیں سالوں سے اداروں کے فائلوں میں دبی ہوئی ہوتی ہے، نہ تو ادارے حرکت میں آتا ہے اور نہ ہی انصاف کی مشینری کو کوئی خبر ہوتی ہے۔
عام آدمی عدالتوں کا چکر کاٹ کر عمر گزار دیتے ہیں، اپنی عمر کی ساری جمع پونجی لٹا دیتے ہیں، مگر انہیں انصاف نہیں ملتا۔
معاشرے کے ایک خاص طبقے کے لئے نظام عدل میں پھرتی کا پیدا ہونا جبکہ عام آدمی کے معاملے میں سست روی کا شکار ہونا عدل کے نظام میں موجود دہرے معیار کو ظاہر کرتی ہے۔
اور عدل کا یہ دہرا معیار ہمارے معاشرے کو انتشار کی طرف دھکیل رہی ہے۔
جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہزاروں بے گناہ لوگوں کی زندگیاں انصاف کی آس لگائے گزر جاتی ہے۔ زندگیاں بیت جاتی ہے مگر انصاف نہیں ملتا۔
کسٹم انسپکٹر جہانزیب عدل کے اس نظام کے بھینٹ چڑھنے والوں میں سے ایک ہے۔
کسٹم انسپکٹر جہانزیب کی کہانی کچھ یوں ہے کہ وہ عاشر عظیم کے ساتھ مل کر ایک بڑے آپریشن کا پلان تیار کر رہے تھے۔ رات گئے تک عاشر عظیم اور انسپکٹر جہانزیب پلانگ کرتے رہے، اگلی صبح آپریشن طے پایا۔ اس دن تقریباً آدھی رات کو جہانزیب اپنے کو گھر لوٹتا ہے۔ اگلے روز صبح سات بجے پولیس جہانزیب کو اس کے گھر سے اٹھا لیتی ہے، اور پھر اس کو ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسایا جاتا ہے۔ جہانزیب نے اپنے عمر کے کئی قیمتی سال جیل کے سلاخوں کے پیچھے گزارا، اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے اس نے عدالتوں کے چکر بھی کاٹے مگر اسے انصاف نہ ملا۔
جہانزیب کو صرف اس بات کی سزا دی گئی کیونکہ وہ چند با اثر افراد کا گھیرا تنگ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، مگر جہانزیب کو کہاں معلوم تھا کہ قانون اس ملک کے چند با اثر لوگوں کے مٹھی میں بند ہے۔ جہانزیب کو چند با اثر افراد پہ ہاتھ ڈالنے کا ارادہ مہنگا پڑا، ایک طرف نوکری گئی اور دوسری طرف جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہو گئے۔ اس نا انصافی پر جہانزیب نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر اسے کہیں سے انصاف نہ ملا۔
نہ جانے کتنے جہانزیب جیل کی سلاخوں کے پیچھے اس جرم کی سزا کاٹ رہے ہوں گے جو کبھی ان سے سرزد ہی نہیں ہوئی ہو۔
ہمارے نظام عدل میں عام آدمی کی ساری زندگی اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں کٹ جاتی ہے لیکن پھر بھی بغیر کسی جرم کے ان کو جھوٹے مقدموں میں قصور وار ٹھرا دیا جاتا ہے، جبکہ با اثر لوگوں کی گناہوں کو دھلتے ایک منٹ بھی نہیں لگتا۔ پاکستان کے لڑکھڑاتے ہوئے اس نظام عدل سے عام آدمی کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ سستے اور فوری انصاف ہمارے ہاں ایک خواب بن چکا ہے۔ عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں۔
انصاف میں تاخیر سے ایک طرف سائلین ذہنی الجھن کا شکار ہیں، تو دوسری طرف انہیں سنگین مالی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
نظام عدل کی بہتری، فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ہی معاشرے کو انتشار سے بچا سکتی ہے۔
بقول فیض
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

